آغا شورش کاشمیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(آغا شورش کشمیری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
آغا شورش کاشمیری
آغا شورش کاشمیری.png
پیدائش عبدالکریم
14 اگست 1917ء
لاہور،برطانوی راج (موجودہ پاکستان)
وفات 24 اکتوبر 1975ء

لاہور،پاکستان
قلمی نام شورش
پیشہ صحافی، سیاست دان، شاعر، خطیب
قومیت پاکستانی
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
اصناف نظم ، نثر

آغا شورش کاشمیری پاکستان کے مشہور و معروف شاعر،صحافی، سیاست دان اوربلند پایہ خطیب تھے۔ آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبد الکریم تھا، لیکن آغا شورش کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آغا شورش کاشمیری ایک مجموعہ صفات شخصیت تھے۔ صحافت، شعروادب، خطابت وسیاست ان چاروں شعبوں کے وہ شہسوار تھے۔ آغا شورش نے ایک متوسط گھرانہ میں جنم لیا اور بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔

حالات زندگی[ترمیم]

آپکی سیاسی علمی ادبی تربیت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ گھر میں ’’زمیندار‘‘ اخبار آتا اور مسجد شہید گنج کی تحریک نصف نہار پر تھی عبد الکریم اسکول سے فارغ ہوئے تو تحریک شہید گنج کا رخ کیا اور مولانا ظفر علی خان سے قربت میسر آ گئی۔ عبد الکریم پہلے ہی جوش و جذبہ کا سیل رواں تھے، بغاوت و آزادی کا ہدی خواں تھے، شمشیر ب رہا ں تھے، آپ تخلص الفت کرتے اور زمانے میں شورش برپا کر رکھی تھی لہٰذا حسب مزاج الفت کو شورش کا نام دینا مناسب جانا بس مولانا ظفر علی خان تھے۔ تحریک شہید گنج تھی اور شورش کا جذبہ تھا کچھ کر گزرنے کا جنوں تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی سیاست، صحافت، خطابت اور عشق خاتم النبیؐ آغا شورش کے مزاج میں سرایت کرتا چلا گیا، خون میں حلاوت کرتا چلا گیا۔ اب شورش بھی برصغیر کا منفرد خطیب مانا جانے لگے۔ سارا ہندوستان ان کے نام سے شناسا ہوا۔ آغا صاحب کا ایک سیاسی قد کاٹھ بن گیا جس دوران مسلم لیگ علاحدہ وطن کے لیے کوشاں تھی اس وقت آغا شورش کاشمیری مجلس احرار کے چنیدہ رہنماؤں میں شامل ہو چکے تھے۔ مجلس کے ایک روزنامہ (آزاد) کے ایڈیٹر بن گئے مگر قیام پاکستان کے بعد آغا شورش کاشمیری وطن عزیز کی بقا اور استحکام کے لیے آخری سانسوں تک میدان عمل میں رہے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں پر کڑی تنقید اور اپنے نقطہ نظر کو دلائل کے ساتھ پُرزور انداز میں پیش کرتے ہوئے بڑے استقلال سے کھڑے ہو جانا آغا شورش کا مزاج بن چکا تھا۔ تحریک ختم نبوت آغا صاحب کی زندگی کا اثاثہ عظیم تھا وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک 1973ء کے آئین میں ختم نبوت کے عقیدے کو شامل کرا کے قادیانیوں کو خارج الاسلام نہ کر لیا۔ آپ نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران عمر عزیز کے قیمتی ساڑھے بارہ سال قید و بند کی صعوبتوں کو کشادہ دلی اور وقار کے ساتھ برداشت کرکے گزارے۔ آپ تحریک پاکستان میں تو نہ تھے مگر تعمیر پاکستان میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستان میں آئین سازی کا مرحلہ ہو یا جمہوری اقدار کے احیاء کی بات ہو۔ پاک بھارت جنگ ہو یا ملک میں مارشل لا کے ضابطے آڑے آئیں۔ شورش ایک محب وطن رہبر بن کر میدان میں ڈٹے نظر آئینگے۔ آپ قادر الکلام شاعر میدان صحافت کے جریں سالار سیاسی سٹیج کے بے تاج بادشاہ تھے ۔[1] 1946ء میں انہیں مجلس احرار اسلام کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا اور1974ء میں انہوں نے ختم نبوت کے لیے اہم کردار ادا کیا جسے رہتی دُنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ اور ان کا علمی، ادبی اور سیاسی جریدہ چٹان بلاشبہ اردو ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے۔

آغا شورش کاشمیری کے حلقئہ احباب میں ڈاکٹر سید عبد اللہ، احسان دانش، سردار اللہ نواز خان نواز درانی، حمید نظامی ، مجید نظامی، شہید حسین سہروردی، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ، مفتی شفیع عثمانی ، ذو الفقار علی بھٹو ، نوبزادہ نصراللہ خان اور دیگر افراد شامل تھے۔[2]

وفات[ترمیم]

آغا شورش کاشمیری 24 اکتوبر1975ء کو لاہور،پاکستان میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

حوالہ جات[ترمیم]