آفتاب مضطر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
آفتاب مضطر
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: آفتاب احمد خان ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 13 اگست 1959 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ایم اے،  پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ فدا خالدی دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

آفتاب احمد خان المعروف ڈاکٹر آفتاب مضطر (پیدائش: 13 اگست 1959ء ) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے ممتاز شاعر ہیں۔ وہ اردو کے معروف شاعر فدا خالدی دہلوی کے تلمیذ تھے۔ ان کی ایک غزل ہر ظلم تیرا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں پاکستان کے معروف گلوکار سجاد علی نے گائی ہے جسے بہت شہرت ملی۔ آفتاب مضطر 13 اگست 1959ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام آفتاب احمد خان ہے، مضطر تخلص جبکہ آفتاب مضطر ان کا قلمی نام ہے۔ 1990ء میں جامعہ کراچی سے ایم اردو ادب اور 2016ء میں جامعہ کراچی سے اردو کا عروضی نظام اور عصری تقاضے (تنقیدی مطالعہ) کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ شاعری میں فدا خالدی دہلوی کے تلمیذ ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف روینیو میں ملازمت کی۔ 1990ء میں ٹیلی فلم ایوارڈ برائے نغمہ نگاری ماس پروڈکشن ایوارڈ حاصل کیا۔ 1992ء میں وثیقہ اعترافِ قوتِ قلم ایوارڈ الخلیل ایجوکیشنل سوسائٹی سے حاصل کیا۔ 2004ء میں فیض بخشاپوری ایوارڈ (امریکا) قلم قافلہ پاکستان حاصل کیا۔ آفاق لیڈرز کلب اسلام آباد کی جانب سے 2017ء میں انہیں رحمت اللعٰلمین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی کتابوں میں کتاب سورج کے اس پار (مجموعہ ہائیکو مع جاپانی تراجم ازشیکی یوکی عظمت، 1997ء)، قبول ورد کے فیصلے (غزلوں اور نظمون کا مجموعہ، 2009ء)، لا کلامی (مسدس، 2014ء)، القاء (نعتیہ و حمدیہ مجموعہ، 2018ء، بیونڈ ٹائم پبلی کیشنز)، عام عروضی مغالطے (علم عروض) اور ساحل پہ کھڑے ہو (شعری مجموعہ، 2021ء) شائع ہو چکی ہیں۔[1]

نمونۂ کلام[ترمیم]

نعت

جب کبھی ان کے تصور والی تنہائی ہوئینعت کی آمد ہوئی اور بزم آرائی ہوئی
شمعِ نعتِ مصطفٰے کی لَو سے دل کی لَو لگیاور اب قندیلِ جاں میں جاں سی ہے آئی ہوئی
اس ادا سے کھل پڑی کل قریہ جاں کی دواتدل کے کاغذ پر ثناء کی خامہ فرسائی ہوئی
میں بہے جاتا تھابالکل ایک تنکے کی طرححرفِ مدحت کی ندی تھی جوش پر آئی ہوئی
اِک ذرا سا چھا گیا تھاکل مدینے کا خیالنعت کی دل پر ہے اب تک چھاؤنی چھائی ہوئی
کیا عظیم احسان ہے آقا کا ہم پر سوچیےخوبی و زشتی ہمیں ہے خوب سمجھائی ہوئی
میں چلا طیبہ ہزاروں پھول مدحت کے سمیٹساتھ میرے بھینی بھینی ایک پُروائی ہوئی
یہ بھی آقا کا کرم ہے تجھ پہ مضطر، آفتابنعت گوئی کی کلی ہے تجھ میں مہکائی ہوئی[2]

غزل

ہر ظلم ترا یاد ہے، بھولا تو نہیں ہوںاے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں
اے وقت مٹانا مجھے آسان نہیں ہےانساں ہوں کوئی نقش کف پا تو نہیں ہوں
چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوںمجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں
یہ دن تو مجھے ان کے تغافل نے دکھائےمیں گردشِ دوراں ترا مارا تو نہیں ہوں
یہ دن تو مجھے ان کے تغافل نے دکھائےمیں گردشِ دوراں ترا مارا تو نہیں ہوں
اُن کے لیے لڑ جاؤں گا تقدیر میں تجھ سےحالانکہ کبھی تجھ سے میں اُلجھا تو نہیں ہوں
ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم، چلے جانامیں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں
کیوں شور بپا ہے ذرا دیکھو تو نکل کرمیں اُس کی گلی سے ابھی گزرا تو نہیں ہوں
مضطرؔ مجھے کیوں دیکھتا رہتا ہے زمانہدیوانہ سہی، اُن کا تماشا تو نہیں ہوں[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. منظر عارفی، مناقب امام حسین اور شعرائے کراچی، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، اپریل 2017ء، ص 200
  2. آفتاب مضطر، القاء، بیونڈ ٹائم پبلی کیشنز (ادارہ اجرا کراچی)، 2018ء، 243
  3. "ہر ظلم ترا یاد ہے، بھولا تو نہیں ہوں (غزل)، آفتاب مضطر". اردو ویب ڈاٹ کام.