آلہ
علمی طور پر آلے یا machine سے مراد ایک ایسی اختراع ہوتی ہے کہ جو ایک قسم کی توانائی حاصل کر کے اس کو کسی دوسری توانائی (عام طور پر حرکی) میں تبدیل کر دے۔ جبکہ عمومی طور پر ایک آلے سے کسی ایسی چیز کا تصور ذہن میں آتا ہے کہ جو مختلف حرکت کرتے ہوئے حصوں یا اجزاء پر مشتمل ہو اور ان میں پیدا ہونے والی حرکت سے کوئی کام لیا جا سکتا ہو۔ جیسا کہ اوپر آلے کی علمی تعریف میں ذکر آیا کہ ایک آلے کو کسی نا کسی قسم کی توانائی کے منبع کی ضرورت ہوتی ہے جس کو اس آلے کے ليے درکار ادخال یا input کہا جاتا ہے۔
جن اختراعات میں سخت اور حرکت کرنے والے حصے موجود نہ ہوں تو اس سے عام طور پر مراد ایک پرزے (tool) کی لی جاتی ہے یا بعض اوقات ایسے آلات ہی کو اختراع بھی کہہ دیا جاتا ہے۔نشاۃ ثانیہ کے قدرتی فلاسفہ نے چھ سادہ مشینوں کی نشان دہی کی تھی، جو بوجھ کو حرکت میں لانے والے بنیادی آلات تھے۔ انھوں نے لگائی گئی قوت (input force) اور حاصل ہونے والی قوت (output force) کے تناسب کا حساب بھی لگایا، جسے آج ہم میکانیکی فائدے (mechanical advantage) کے نام سے جانتے ہیں۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]
| ویکی ذخائر پر آلہ سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- ↑ Abbott Payson Usher (1988)۔ A History of Mechanical Inventions۔ US: Courier Dover Publications۔ ص 98۔ ISBN:978-0-486-25593-4۔ 2016-08-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا