آل انڈیا سنی کانفرنس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آل انڈیا سنی کانفرنس، برطانوی بھارت میں اہل سنت وجماعت کی ایک سیاسی جماعت کا نام تھا جس کے زیرِ اہتمام کئی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ 17، 18 اور 19 مارچ 1925کو مراد آباد میں پہلی آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔[1][2] اور آل انڈیا مسلم لیگ کو تحریکِ پاکستان کےلئے مکمل حمایت دی گئی۔ [3] [4] قیامِ پاکستان کے بعد اس پارٹی کا نام جمعیت علمائے پاکستان رکھ دیا گیا۔ [5]

تاریخ[ترمیم]

تحریک آزادی ہند اور تحریک پاکستان کے دوران مسلمان علماء اور سیاستدان مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ انگریز نواز تھے تو کچھ انگریز دشمنی کے نام پر کانگریس کے دوست اور اتحادی تھے لیکن امام احمد رضا خان بریلوی اور بعد میں ان کے مکتبہ فکر کے علماء کا یہی مؤقف رہا کہ برطانوی حکومت اور ہندو دونوں ہمارے دشمن ہیں ان کے مطابق، "ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں تھیں۔" اصل میں یہی دو قومی نظریہ تھا۔ بعد ازاں علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہی اصول اپنایا اور پاکستان سنی علماء کے نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ [6]

1946ء میں اہل سنت کے علماء و مشائخ نے تاریخی آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں منعقد کی اور تحریکِ پاکستان کی مکمل حمایت کرنے کے لئے سنی علماء کرام نے شرکت کی۔ محدث کچھوچھوی صدر آل انڈیا بنارس کانفرنس سید اشرفی جیلانی اہل سنت کے بہت بڑے رہبرورہنما تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]