آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین - All India Majlis-e-Ittehadul Muslimeen
کل ہند مجلس اتحاد المسلمين
رہنما اسد الدین اویسی
چیئرمین اسد الدین اویسی
بانی Abdul Wahed Owaisi
لوک سبھا رہنما اسد الدین اویسی
تاسیس 1926
صدر دفتر Darussalam, Aghapura, Hyderabad, تلنگانہ, India
اخبار Etemaad Daily (اردو)
نظریات Islamic [1]
سیاسی حیثیت اسلام
ای سی آئی حیثیت State Party [2]
لوک سبھا میں نشستیں
1 / 543
/ 545
<div style="background-color:
  1. 009F3C; width: خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔%; height: 100%;">
[3](موجودہ 520 ارکان + 1 اسپیکر)
راجیہ سبھا میں نشستیں
0 / 245
میں نشستیں
7 / 119
انتخابی نشان
kite
ویب سائٹ
www.aimim.in

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یا کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (All India Majlis-e-Ittehad-ul Muslimeen or AIMIM) ایک مسلم سیاسی تنظیم ہے جس کی بنیاد اور تعلق شہر حیدرآباد سے ہے۔ یم۔ آئی۔ یم۔ پارٹی کے نام سے مشہور ہے۔ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ کی سیٹ سنہ 1984 سے لے کر آج تک اسی کے حق میں آ رہی ہے۔ سابقہ ریاست آندھراپردیش کی اسمبلی میں بھی اس کی نمائندگی رہی ہے۔ 2009 کے آندھراپردیش اسمبلی انتخابات میں بھی اس کے 7 نشستیں رہی ہیں اور 2014 کے تلنگانا ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی اس کی 7 نشستیں ہیں۔ یہ ایک رجسٹرڈ پارٹی ہے لیکن اس کو ایلکشن کمیشن نے ریکاگنائز نہیں کیا ہے اس لیے کہ یہ پارٹی عوام میں اتنی مقبول نہیں ہے اور اہلیت نہیں رکھتی۔ یعنی کہ ایلیکشن کمیشن کے ہدایات کے مطابق اس کو اتنے ووٹ شیئر 6% نہیں ملے یا کم سے کم 9 نشستیں جیتنی چاہیے۔[4][5][6][7][8][9][10] جون 2014 میں ایلکشن کمیشن آف انڈیا نے اس پارٹی کو تلنگانا ریاست کی صوبائی پارٹی کا ریکاگنیشن دیا۔[2][11] اکتوبر 2014 میں مہاراشٹرا اسمبلی عام انتخابات میں 2 نشستیں جیت کر مہاراشٹرا اسمبلی میں قدم رکھا۔[12] پارٹی کے صدر اسدالدین اویسی کی پارلیمان میں خوش انگیز کارکردگیوں کی بنا پر انہیں پارلیمانی اعزاز “سنسد رتنا“ (جوہر پارلیمان) دیا گیا۔

انتخابات - تاریخ[ترمیم]

پارلیمانی انتخابات[ترمیم]

سال انتخابی سیٹیں کامیاب سیٹیں ووٹ شیئر سیٹ تبادل
1989 89+ 1 NA Steady0
1991 1 1 0.17%
1996 4 1 0.10%
1998 1 1 0.13% Steady0
1999 1 1 0.12% Steady0
2005 2 1 0.11% Steady0
2009 2 1 0.73% Steady0
2014 5 1 1.4% Steady0

source

تلنگانا اسملی[ترمیم]

سال انتخابی سیٹیں کامیاب سیٹیں ووٹ شیئر سیٹ تبادل
2014 20 7 3.8% -

یم۔ آئی۔ یم۔ پارٹی کو ایلیکشن کمیشن نے، ریاست تلنگانا کی صوبائی پارٹی تسلیم کیا۔[13]

آندھراپردیش اسملی[ترمیم]

سال انتخابی سیٹیں کامیاب سیٹیں ووٹ شیئر سیٹ تبادل
1989 5 4 1.99% -
1994 5 1 0.70% کم3
1999 5 4 1.08% Increase2.svg3
2004 7 4 1.05% Steady0
2009 20 7 0.83% Increase2.svg3
2014 15 0 NA NA

source

موجودہ لیڈرس[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. MIM۔ "History | All India Majlis-e-Ittehadul Muslimeen"۔ Aimim.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-17۔
  2. ^ ا ب Special Correspondent۔ "MIM gets State party recognition"۔ The Hindu۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Members: Lok Sabha"۔ لوک سبھا۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 دسمبر 2018۔
  4. "List of Political Parties and Election Symbols main Notification Dated 18.01.2013"۔ India: Election Commission of India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 مئی 2013۔
  5. "Andhra Pradesh Result Status 2014"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "MIM's 'kite' flies away, unrecognised registered party gets symbol instead"۔ Deccan Chronicle۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-04-19۔
  7. "MBT wins kite fight, MIM to watch TV"۔ Times of India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2004-04-19۔
  8. "Erosion of support base in Telangana sends panic-stricken Owaisi into rabble-rousing mode"۔ NitiCentral۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-06-05۔
  9. "Andhra Pradesh state results"۔ EIC۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-06-05۔
  10. "Owaisi's AIMIM going it alone in search of larger footprint in Andhra, Telangana"۔ IndiaToday۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-04-19۔
  11. "Election Commission of India has recognized the All India Majlis-e-Ittehadul muslimeen as a state party for the state of Telengana..!!!"۔ All India Majlis-e-Ittehadul Muslimeen۔
  12. "'Outsider' MIM makes maiden entry into Maharashtra Assembly, MNS bubble bursts - See more at: http://indianexpress.com/article/india/politics/outsider-mim-makes-maiden-entry-into-maharashtra-assembly-mns-bubble-bursts/#sthash.4AEUQhLi.dpuf"۔ Indian Express۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-20۔ External link in |title= (معاونت)
  13. "AIMIM gets Telangana state party recognition - indtoday.com - indtoday.com"۔ indtoday.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]