آل رضا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آل رضا
معلومات شخصیت
پیدائش 10 جون 1896  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اناؤ ضلع  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 مارچ 1978 (82 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
پاکستانی  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید آل رضا (پیدائش: 10 جون 1896ء — وفات: یکم مارچ 1978ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامورمرثیہ گو شاعر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آل رضا 10 جون، 1896ء کو قصبہ نبوتنی، اناؤ ضلع، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے [1][2]۔ ان کا بچپن والد کے ہمراہ مختلف شہروں میں گزرا۔ ان کے والد سید محمد رضا 1928 میں اودھ چیف کورٹ کے اولین پانچ ججوں میں شامل تھے۔[2]

آل رضا نے 1916ء میں کنگ کالج لکھنؤ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1920ء میں الہ آباد سے ایل ایل بی پاس کیا اور 1921ء میں وہ پرتاب گڑھ چلے گئے جہاں 1927ء تک پریکٹس کرتے رہے۔ 1927ء کے بعد دوبارہ لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان تشریف لے آئے اور پھر ساری عمر اسی شہر میں گزاری۔ ۔[2]

شعرگوئی[ترمیم]

سید آل رضا کی شاعری کا آغاز پرتاب گڑھ کے قیام کے دوران ہوا۔ 1922ء میں باقاعدہ غزل گوئی شروع کی اور آرزو لکھنوی سے بذریعہ خط کتابت تلمذ حاصل کیا۔ 1929ء میں آل رضا کی غزلوں کا پہلا مجموعہ نوائے رضا لکھنؤ سے اور 1959ء میں دوسرا مجموعہ غزل معلی کراچی سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام ترصلاحیتیں نوحہ و مرثیہ کے لیے وقف کر دیں۔[2]

مرثیہ گوئی[ترمیم]

1939ء میں سید آل رضا نے پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا شہادت سے پہلے دوسرا مرثیہ 1942ء میں جس کا عنوان تھا شہادت کے بعد یہ دونوں مرثیے 1944ء میں لکھنؤ سے ایک ساتھ شائع ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد سید آل رضا نے پاکستان کے شہر کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ 1959ء میں ان کا دوسرا مجموعہ غزل معلّیٰ کراچی سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام تر توجہ نوحہ و مرثیہ کے لیے وقف کردی جس سے رسول اور اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے والہانہ عشق و محبت کی عکاسی ہوتی ہے۔ سید آل رضا نے نور باغ میں اپنا پہلا مرثیہ شہادت سے پہلے پڑھا اور اس طرح وہ پاکستان کے پہلے مرثیہ گو قرار پائے۔ انہوں نے کراچی میں مجالس اور عزادری کے فروغ میں نمایا کردار ادا کیا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • نوائے رضا (1929ء، شاعری)
  • غزل معلٰی (1959ء، شاعری)

وفات[ترمیم]

سید آل رضا یکم مارچ، 1978ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں واقع علی باغ قبرستان میں دفن ہیں۔[2][1]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]