مندرجات کا رخ کریں

مغربی محاذ خاموش ہے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مغربی محاذ خاموش ہے
آل کوائٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ
پہلے ایڈیشن کا سرورق
مصنفایرش ماریا رمارک
اصل عنوانIm Westen nichts Neues
مترجماحسن طاہر (بعنوان: محاذ خاموش ہے)
مصورکارل لملی
مصور سرورقایرش ماریا رمارک
ملکجرمنی
زبانجرمن
صنفجنگی ناول
محل وقوعمغربی محاذ اور جرمنی، 1916ء–1918ء
ناشرپروپیلیئن فرلاگ
مکتبہ اردو لاہور (ترجمہ)
تاریخ اشاعت
29 جنوری 1929ء
تاریخ اشاعت انگریری
لٹل اینڈ براؤن کمپنی، 1929ء
صفحات250
833.912
ایل سی درجہ بندیPT2635.E68
بعد ازاںدی روڈ بیک 
متنمغربی محاذ خاموش ہے
آل کوائٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ
ویکی ماخذ پر

مغربی محاذ خاموش ہے (جرمن: Im Westen nichts Neues، یعنی: ”مغرب میں کوئی نئی بات نہیں“) یہ ایک نیم سوانحی ناول ہے جسے جرمن مصنف ایرش ماریا رمارک نے تحریر کیا، جو جنگِ عظیم اول کے ایک سابق فوجی تھے۔ اس کتاب میں جرمن سپاہیوں کے جنگ کے دوران برداشت کیے گئے جسمانی و ذہنی اذیت ناک تجربات کو بیان کیا گیا ہے نیز اس خلا اور اجنبیت کو بھی جو انھوں نے جنگ سے واپسی کے بعد عام شہری زندگی میں محسوس کی۔ بعض حلقوں میں اسے ”اب تک کا سب سے عظیم جنگی ناول“ بھی قرار دیا گیا ہے۔[1]

یہ ناول سب سے پہلے نومبر اور دسمبر 1928ء میں جرمن اخبار Vossische Zeitung میں قسط وار شائع ہوا اور بعد ازاں جنوری 1929ء کے آخر میں کتابی شکل میں منظر عام پر آیا۔ اس ناول اور اس کے تسلسل ”دی روڈ بیک“ (1931ء) کو نازی دورِ حکومت میں دیگر کتب کے ساتھ ممنوع قرار دے کر نذرِ آتش کیا گیا۔ آل کوائٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ نے شائع ہونے کے ابتدائی 18 ماہ میں 22 زبانوں میں ترجمہ ہو کر 25 لاکھ کی تعداد میں فروخت حاصل کی۔[2]

اس ناول پر تین فلمیں بن چکی ہیں، جنھیں کافی سراہا گیا۔ 1930ء کی امریکی فلم (ہدایتکار: لیوس مائل اسٹون)، جس نے دو اکیڈمی ایوارڈ جیتے۔ 1979ء کی امریکی برطانوی ٹیلی فلم (ہدایت کار: ڈیلبرٹ مان)، جسے گولڈن گلوب اور ایمی ایوارڈ ملا۔ 2022ء کی جرمن فلم (ہدایتکار: ایڈورڈ برگر)، جس نے چار اکیڈمی ایوارڈ حاصل کیے۔

یہ اصل کتاب اور اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 2024ء اور 2025ء میں امریکا میں عوامی ملکیت میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ 1930ء کی فلم 2026ء میں عوامی ملکیت میں شامل ہونے والی ہے۔[3][4] اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ ”مغربی محاذ خاموش ہے“ کے عنوان سے ہوا تھا۔[5][6] اس ناول پر تفصیلات رالف رسل نے اپنی خود نوشت جس کا ترجمہ ارجمند آرا نے جوئندہ یا بندہ کے عنوان سے کیا ہے، میں قلمبند کی ہیں۔[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1987 English-language version, ISBN 978-0-8124-1503-2
  2. Modris Eksteins (Apr 1980). "All Quiet on the Western Front and the Fate of a War". Journal of Contemporary History (بزبان انگریزی). SAGE Publications. 15 (2): 353. DOI:10.1177/002200948001500207. S2CID:159998295.
  3. "Public Domain Day 2024". Duke University School of Law (بزبان انگریزی).
  4. Peter B. Hirtle (3 Jan 2020). "Copyright Term and the Public Domain in the United States" (بزبان انگریزی). Cornell University Library Copyright Information Center. Retrieved 2020-12-17.
  5. ستار طاہر (1979)۔ تعزیت نامے (پہلا ایڈیشن)۔ لاہور: مکتبہ اقرار۔ ص 21
  6. عبد الرشید تبسم (1970)۔ انقلابِ نو (پہلا ایڈیشن)۔ لٹریچر فاؤنڈیشن۔ ص 4۔ OCLC:23547602۔ ایرک ماریا ریمارک نے ایک ناول "مغربی محاذ خاموش ہے" لکھ کر پہلی جنگِ عظیم کے دوران میں مروج ادبی نظریات سے انحراف کیا۔ اس نے جنگ کی شدید مخالفت کر کے ایک نیا انداز فکر پیش کر دیا۔
  7. رالف رسل (اکتوبر 2004)۔ "جوئندہ یا بندہ"۔ آج۔ کراچی: آج کی کتابیں شمارہ 46: 94–