آنس معین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آنس معین
معلومات شخصیت
پیدائش 29 نومبر 1960  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور،  پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 فروری 1985 (25 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملتان،  پنجاب،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات خودکشی بذریعہ ریل  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آنس معین 29 نومبر 1960 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ اُن کا رحجان صوفی ازم کی طرف زیادہ تھا۔ کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ خودکشی کر سکتے ہیں۔ اُن کی خودکشی سے متعلق کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اُن کے ایک صوفی دوست نے کہا، موت کے بعد زندگی اتنی خوبصورت ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو دنیا کی آدھی آبادی خودکشی کر لے۔ دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے جس بنک میں وہ کام کرتے تھے وہاں ایک فراڈ ہوا اور انچارج کے طور پر وہ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے۔ ان تمام حالات نے انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا۔https://aalmiakhbar.com/archives/130722 انہوں نے 5 فروری 1985 کو ملتان میں ٹرین کے نیچے آ کر خودکشی کر لی۔[1]

آنس معین جدیداردو ادب کاصاحب ِ طرزشاع رہے ۔ .جوش ملیح آباد ی نے انہیں کمسن سقراط، جابرعلی سید نے ننھا رومی، نسیم لیہ اور طفیل ہوشیارپوری نے نئی سوچوں کاارسطو، فیض احمد فیض نے انتہائی کم عمر زیرک دانشور اور پاکستان اور بھارت کے کچھ مشاہیرادب نےآنس معین کو جدیداردوادب کاکیٹس قراردیا۔اشفاق احمد نےلکھااہل نظرنے آنس معین میں مشاہیرکی مماثلتیں ضرو رتلاش کی ہیں لیکن ، آنس معین، آنس معین ہے اور بس ۔ جب تک شعر سلامت اور لفظ زندہ ہے، آنس معین زندہ رہے گا۔ڈ

{بحوالہ:معلم اردو لکھنئوکاآنس معین نمبر۔ ماہنامہ محفل لاہورکاآنس معین نمبر



میری قامت سےڈرنہ جائیں لوگ،

میں ہوں سورج مجھےدِیا لکھنا

آ نس معین ................... چھوٹی عمرکا ایک بڑاشاعر

(پاک وہند کےادیبوں،شاعروں اورناقدین کی نظرمیں )

۔۔۔۔ تحریر و تحقیق؛ ڈاکٹر فوق کریمی، علی گڑھ ۔۔۔۔

آنس معین بلا شبہ جدید اردو شاعری کا ایک معتبرحوالہ ہی نہیں بلکہ ایک روشن اورزندہ روایت کا بھی نام ہے۔ آنس معین اردو کی شعری روایت میں ایک ایساخوبصورت اورجاندار اضافہ ہےکہ تنقید کےبےتاج بادشا ہ ڈاکٹر انورسدیدنےتوآنس معین کی وفات کو جدیدغزل کی مو ت قرار دیدیا ہےاوراردو غزل کےعہد کا تعین ان الفاظ میں کیا ہےکہ “میرتقی میرسے لےکرآنس معین تک کو اس صنف سخن (غزل) نے اظہا ر کی خستگی عطا کی ہے”۔

آنس معین کی خوبصورت،منفرداورجداگا نہ طرزکی شاعری نےتوہندوستا ن کےبھی بڑےبڑےناقدین کوچونکا ڈالا۔آنس معین کی شاعری اورشخصیت کویوں توپاکستان کےبھی بڑے بڑےناقدین نےموضوع بنایا اوربعض حقیقت پسنداورادب شناس ناقدین نےآنس معین کی تفہیم کےعمل کومسلسل جاری رکھا ہواہے ۔

ہندوستان میں اردوادب سےبالعموم اوراردو شاعری سےبالخصوص محبت کرنےکی تاریخ ، اورروایت اتنی ہی قدیم ہے،جتنی اردو کی تاریخ۔ہندوستان میں آنس فہمی کاسفراُسی وقت شروع ہو گیاتھا،جب پاکستان میں آنس معین کی شعری تخلیقات کا وقفےوقفےسےاشاعت کاسلسلہ شروع ہوا۔البتہ اس حقیقت کو فراموش نہیں کیاجاسکتا کہ 05فروری 1986کوآنس معین کی المناک موت کےبعدسےپاکستان اورہندوستان میں آنس معین کی تفہیم کاعمل تیزترہوگیا ۔

ہم نے”آنس معین۔ہند وستانی اورپاکستانی ناقدین کی نظر میں” کےعنوان کےتحت زیرنظرمضمون میں ایک سرسری ساجائزہ لینےکی کوشش کی ہے۔جس سےہندوستا ن میں آنس فہمی کی رفتاراورمعیارکاتعین کرنےمیں مددمل سکےگی۔یہ بھی

اند ازہ لگایاجاسکےگا کہ آنس معین کو ہندوستان کےکون کون سےادبی دھڑوں اورمکاتب فکر کےاہل قلم نےسمجھنےکی کوش کی۔

ہندوستان کےبین الاقوامی شہرت یافتہ اسکالر، شاعر،نقاد اورادیب(پروفیسر)جگن نا تھ آزادلکھتےہیں کہ میں ایک مدت سےآنس معین کےکمال فن کامعترف ہوں۔آنس معین کاکلام جب کبھی میری نظروں گذرا ،میں حیرت زدہ رہ گیا،اس کےفکرکی ندرت پر،فکرکوجذبہ بنانےکےعمل پراوراس کےاندازبیان پر۔ آنس معین کاجتنا بھی کلام دیکھااورزیادہ تران کی غزلیں ہی دیکھیں،اس سےمیں متا ثربھی ہوتارہا۔مجھےمسرت بھی حاصل ہوتی رہی اوربصیرت بھی۔جوش ملیح آبادی نےاسےکمسن سقراط کہاہے۔فیض احمد فیض نےاسےچھوٹی عمرکابزرگ دانشورقرار دیاہے۔احمدندیم قاسمی نےکہا میں آنس معین کےاشعارپڑھ کردم بخودرہ جاتاہوں اوررشک بھی کرتا ہوں کہ آنس جیسےاشعار کہہ سکوں۔جابرعلی سیداسےننھا رومی کہتے ہیں، وزیر آغا لکھتےہیں کہ اگرآنس معین چند

برس اورزندہ رہ جاتاتواس کاادبی مرتبہ کیٹس سےکم نہ ہوتا۔ ڈاکٹرانورسدید کےلفظوں میں آنس معین کی وفات جدیدغزل کی موت ہے۔طفیل ہوشیارپوری لکھتےہیں” آنس معین پراتناکچھ لکھا گیاہےکہ اگراسےیکجاکیاجائےتوکئی ضخیم کتابیں مرتب ہو سکتی ہیں۔یہ حقیقت ہےکہ آنس معین جیسےقدآورشاعرصدیوں میں جنم لیتےہیں۔وہ یقیناًاپنےعہد سےبہت آگےکا بلکہ آنےوالی صدیو ں کاشاع رہے”۔

پروفیسرجگن ناتھ آزادجیسی ہستی کااس قدرواضح الفا ظ میں آنس معین کےکمال فن کااعتراف کرنا اوراس اعتراف کے ساتھ ساتھ یہ وضاحت بھی کرنا کہ آنس کی شاعری نہ صرف انھیں حد درجہ متاثرکرتی رہی، بلکہ یہ بھی کہ کلا م آنس ان کےلئےبصیرت ساماں بھی ثابت ہوتارہا ۔

جگن ناتھ جی آزادنےآنس کےکلام کی چندخوبیوں کابھی تذکرہ کیاہے۔وہ آنس معین کی حیرت زدگی ،زبان کی سادگی ،بیان کی ندرت،اورفکرکوجذبہ بنانےکےعمل کےگُن گاتےنظرآتےہیں ۔

میرےمحترم رازسنتوکھ سری بھی تسلیم کرتےہیں کہ آنس کی شاعری حد درجہ چونکا دینےوالی ہے۔وہ لکھتےہیں کہ”آنس معین کی غزل نیزنظم واقعی چونکادینےوالی ہے۔ آنس معین کی موت اس کےوالدین اوراعزاءواقارب کےعلاوہ اردوادب کےلئے بھی ناقابل تلافی نقصان ہے۔ایسےلوگ کیوں اتنی جلدی مرجاتےہیں؟ کوئی ہےجواس بات کا جواب دے۔واقعی ایسے لوگ رجحان سازبلکہ عہدسازہوتے ہیں۔

پیدا کہاں ہیں ایسےپراگندہ طبع لوگ ۔

جب میں نےترجمان میں آنس معین کی شخصیت اورشاعری کےحوا لےسےطفیل ہوشیارپو ری صاحب کامضمو ن شائع کیا تھا،توشہنشاہ سخن مجروح سلطان پوری نےمجھےخط لکھ کر اپنےتاثرات سےآگاہ کیاتھا،لکھاتھا، آنس معین کی تخلیقات اور شخصیت دونوں ہی حددرجہ غیر معمولی حیثیت کی حامل ہیں اوردیکھئےکہ صرف 27بر س کی عمرمیں اس نےایساحیرت انگیز،خوبصورت اورلازوال شعری سرمایہ اردوشاعری کو عطاکیا ہے،جس کی اردوادب میں تو شاید ہی پہلےکوئی مثال ہو۔ آنس معین کےلہجےاوراسلوب کی انفرادیت اور اس کی چونکا دینےوالی کیفیت کی بنیاد پراسےایک جدید،خوبصورت اورلافانی اندازاورطرزشعرگوئی کابانی کہاجاسکتا ہے۔آنس معین کی شاعری کےمطالعےکےبعدتواس تشنگی کااحساس بھی نہیں رہتا کہ جوفانی بدایونی،اخترشیرانی اورشکیب جلالی،یا ن۔م،راشد کے کلام کوپڑھ کرہوتی رہی ہے۔بےشک۔

ہیں اوربھی دنیا میں سخنوربہت اچھے ۔

مگراہل ِ ادب غالب کےمصرعےمیں ذراسےتصرف کےساتھ ٹھیک ہی کہتےہیں کہ

آنس کاہےانداز ِ بیاں اور ۔

آنس معین پربہت کچھ لکھا گیا اوریقیناًہندوپاک اوردنیابھرکےاہل نظربہت کچھ لکھیں گےمگرانھیں آنس معین کےاشعارکےسحر سےباہرنکل کرآنےتودیجئے ۔

انجام کوپہنچوں گامیں انجام سےپہلے

خودمیری کہانی بھی سنائےگاکوئی اور

ڈاکٹرایس حسن (ارما ن نجمی )نےخوبصورت الفا ظ میں آنس معین کی عظمت ِ فن کااعتراف کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

“میں نےآنس معین جیساجینئس نہیں دیکھا۔آنس معین بہت بڑا شاع رہے۔آنس معین کی شاعری اتنی منفرداورکرب سےلبریزہے کہ جوقاری کےدل ودماغ کوجھنجھوڑڈالتی ہے۔آنس معین جیسی ہستیاں بہت کم پیدا ہوتی ہیں ۔ آنس معین کی شاعری کی خوشبو دوردورتک پھیلی ہوئی ہے”

رام لعل نےخیال ظاہرکیاکہ “آنس معین نےاردوشاعری کوجلا بخشی ہے، وہ یقیناًایک لافانی شاع رہے۔اس کاشعری ورثہ اردو شاعر ی کالازوال سرمایہ ہے”۔

پروفیسرعزیزعالم نےاپنےایک طویل تنقیدی مضمون میں آنس معین کی شاعری کا ناقدانہ تجزیہ کیاہے۔لکھتے ہیں”آنس معین نےکیٹس کی طرح زندگی کی 27بہاریں دیکھیں مگرشاعری کا ایسالا زوال ورثہ چھوڑا ہے کہ جدید اردوشاعری کاذکرآنس کے بغیرہمیشہ ادھورا رہے گا “۔

ڈاکٹراسدزیدی لکھتےہیں”آنس معین کو”شیلے”اور”کیٹس”کا ہم پلہ قراردیناآنس کی شاعرانہ عظمت کم کرنےکےمترادف ہے”۔

میرےاپنےخیال میں”ہندوستان میں آنس فہمی”کا عمل تیزی سےجاری ہےاورتنقید ی،تحقیقی اورتصنیفی کام کی رفتاربھی تسلی بخش ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی عظیم درسگاہ (جس کے پڑوس میں رہنےکا شرف اوراعزازایک مد ت سے مجھے حا صل ہے)کےشعبہ اردوکےمتعدداساتذہ اورتحقیقی کاموں کی نگرانی پرمامورسینئرپروفیسرحضرات سےاکثرملاقاتوں میں مجھےمعلوم ہوتاہےکہ آئندہ چندبرسو ں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہی میں نہیں بلکہ دیگریونیورسٹیوں میں بھی آنس معین پرتحقیقی کام کاآغازہوسکتاہےمگران تحقیقی منصوبوں میں ایک بڑی رکاوٹ دورہونےکا انتظا رہے اوروہ یہ کہ پہلےانتخاب یا کلیات کی شکل میں آنس معین کا کلام زیورطباعت سےآراستہ ہوکرمنظرعام پر آئے۔اور پھر یقیناًتحقیقی اورتنقیدی کام مزیدآگےبڑھ سکےگا۔ ۔

یوسف جما ل بھندوی آنس معین کوعہدحاضرکا شکیب جلالی، مصطفی زیدی،کیٹس اورشیلےکاہم پلہ قراردینےپرمعترض ہیں ۔ انھیں توآنس معین کواردو ادب کا شیکپیئرقراردینےپربھی اعتراض ہے۔وہ لکھتےہیں”آنس معین کاہرشعران کےاپنےاسلوب اورمحاسن کی عکاسی کرتا ہے۔

نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی

بدن تھکا بھی نہیں اورسفرتمام ہوا

آنس معین ایک تازہ آفتاب ہے۔ جوکسی سیارےسےروشنی حاصل نہیں کرتا بلکہ روشنی لٹاتا ہے۔ جس شاعرکاذہن ایسے منفرداورچونکا دینےوالےلہجےکےخوبصورت اشعارتخلیق کرے اس کےلئےکسی دوسری شخصیت کا حوالہ دینانامناسب ہے”۔

میرےایک انتہائی محترم بزرگ جنھیں ناصرف ہندوپا ک میں بلکہ پوری دنیا میں احترام اورقدرومنزلت کی نظر سے دیکھاجاتا ہے، وہ ہیں حضرت کنورجی مہندرسنگھ بیدی سحر ۔۔کنورمہندرسنگھ بیدی سحرنےاپنی منفرد اورخوبصورت رائے کا اظہاران الفاظ میں کیا۔

“آنس معین کاساراکلام خوب ہی نہیں،بہت خوب ہے۔آنس معین کی شاعری میں تیکھاپن ہے۔ مقصدیت ہے،انفرادیت ہےاور گہرائی ہے۔ آنس جیسےبلندقامت شاعرکم کم اور صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

حیرت سےجویوں میری طرف دیکھ رہے ہو

لگتا ہےکبھی تم نےسمندر نہیں دیکھا ؟

اور واقعی آنس معین کی تخلیقات پڑھ کرمیں حیرت کی تصویر بن گیا۔کلام ِآنس، کما ل ِ آنس ہے”۔استاذالاساتذہ پروفیسرآل احمدسرورنےتوبہت پہلےہی اپنی رائےکااظہارکردیاتھاکہ”آنس معین کی شاعری میں معجزانہ تخلیق کےتمام تراوصاف نمایاں ہیں۔ کہیں اس کےاندرجوالامکھی تونہیں سلگ رہا؟ “۔یہاں یہ امر قابل ذک رہے کہ اردوادب کی ایسی ایسی مہان اورعظیم المرتبت شخصیات نےآنس معین کی شاعرانہ عظمت کاجس قدربھرپوراندازمیں اعتراف کیاہے، وہ ہماری اردوشاعری کی تاریخ میں یقیناًایک منفرداورانوکھی مثال ہے” ۔

پروفیسرڈاکٹرعنوان چشتی تحقیق وتنقید اورشعروسخن کے میدان میں اپنی مثال آپ ہیں ،انہوں نےبھی آنس معین کواردو شاعری کی ایک منفرد اورتوانا آوازقراردیا ۔

ڈاکٹرعنوان چشتی نےاپنےتنقیدی جائزےکوان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔۔۔۔۔۔”آنس معین ایک منفرد اور توانا آوازکانام ہے۔یہ آواز اپنےچہرےکی شائستگی اورالبیلےپن کےسبب ہرغزل میں الگ نظرآتی ہے۔آنس معین نےاپنےلب و لہجہ،اقدارواظہاراوراندازواسلوب کواپنےخون جگرسےپرورش کیاہے ۔

آنس معین کی شاعری میں ہم عصرزندگی کےمسائل اوران سے پیدا ہونےوالےتاثراورسائیکی کاگہرااث رہے۔اگرآنس معین کی غزل کوزلف آرائی کااورموقع ملتاتووہ اپنی آوازکودیگرآوازوں میں سب سےاونچا کرلیتے۔ عجب انداز سےیہ گھر گرا ہے

مراملبہ مرےاوپرگرا ہے

رہتا ہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گا میں

جا ئےاماں اک اوربھی ہوتی ہے گھر کے بعد

ہیرانند سوزکےافسانے،تنقیداورشاعری کودنیائےادب میں پسندیدگی کی نظرسےدیکھاجاتاہے۔عزیزم ہیرانندسوزکوملال بھی ہے۔وہ لکھتےہیں “یہ میری کم نصیبی ہےکہ مجھےآنس معین سےبالمشافہ ملاقات کاشرف حاصل نہ ہو سکا۔وہ اتنی جلدی سب سےروٹھ کرچلاجائےگا، ایسا کبھی سوچاہی نہیں تھا۔اس کی پہلی غزل ہی اس کی شناخت بن کر میرےسامنےآئی ۔

وہ میرےحال پہ رویا بھی،مسکرایا بھی

عجیب شخص ہےاپنابھی ہے، پرایا بھی

آنس کی یہ غزل پڑھ کرمجھےشدت سےاحساس ہوا تھا کہ عصری حسیت کےاس نوجوان شاعرنےاپنی شمع فکراپنےخون جگرسےروشن کررکھی ہے اور اپنی ذات کےکرب کولفظو ں میں ڈھال کرنوک قلم سےسطح قرطاس پربکھیرتا ہے ۔

آنس معین زمین،ذات اورکائنات کاشاع رہے اوراس نےاس تثلیث کو اپنےجسم وجاں میں پوری طرح جذب کرنےکےبعدجزوِبدن بنا کرفکری سطح پرابھاراہے ۔

ہے میرےاندر بسی ہوئی ایک اوردنیا

مگر کبھی تم نےاتنا لمبا سفر کیا ہے ؟

ہیرانندسوز نےاپنےمضمون”آنس معین آنےوالی صدی کاشاعر” میں مزیدلکھاہےکہ”مجھےآنس معین کےاندرایک جوالامکھی سلگتاہوادکھائی دیاہے۔آنس معین کی شاعری میں جہاں ذات کی پراسراریت کاعرفان ہے۔وہیں دل گرفتگی کی بھی بھرپورعکاسی ملتی ہے۔اورذاتی زندگی میں پایاجانےوالاانجاناخوف بھی اس کی شاعری پرچھایاہوالگتاہے۔اپنےغموں،محرومیوں،بےچارگیوں،اداسیوں اورتنہائیوں کوغزل کاموثرلہجہ عطاکرکےآنس نےاولین مراحل میں ہی اہل ادب کواپنی طرف متوجہ کرلیاتھا۔وہ اپنی عمرسے کہیں زیادہ عمررسیدہ،تجربےسےکہیں زیادہ تجربہ کاراورقد و قامت سےزیادہ بلندقامت نظرآتاہے۔وہ آنےوالی صدی کاشاعر ہے،وہ شعروسخن میں نیارنگ وآہنگ لےکرآیا اورپائےدارنقش چھوڑگیا “۔

کس قدرحیرت انگیزبات ہےکہ ہندوستان کےقریباًتما م ادبی گروہوں اوردھڑوں سےتعلق رکھنےوالےمختلف الخیال اہل قلم نےآنس معین پرتحقیقی اورتنقیدی کام کوجاری رکھنا

ادبی فرض اورقرض جانا۔ ڈاکٹرمناظرعاشق ہرگانوی کےان گنت ادبی روپ ہیں مگرمیرےخیال میں جدیداردو تنقید کےحوالےسےانہیں جومرتبہ اورمقام حاصل ہے،وہ کم لوگوں کونصیب ہوتا ہے ۔

دیکھیے کہ ڈاکٹرمناظرعاشق ہرگانوی کی تنقیدی عینک سے آنس معین کی شاعری کارنگ وآہنگ کیسا نظر آتا ہے؟ وہ لکھتےہیں”۔آنس معین اپنی آوازکی انفرادیت،لہجہ کی شائستگی ، طرزادا کی سبک روی اورعصری حسیت کی کامیاب پیش کش کی وجہ سےنئی اردوغزل کا ایک توانا اورمعتبرنام ہے۔آنس معین اپنی غزلوں میں ایک خاص زبان تراشتےہیں اورنئے استعاروں،تشبیہوں اورنئی علامتوں کےذریعےاپنےخیالات اورمحسوسات کااظہارجداگانہ اندازمیں بڑی خوبصورتی کے ساتھ کرتے ہیں ۔۔

میری قامت سےڈرنہ جا ئیں لوگ

میں ہوں سورج ،مجھےدِیا لکھنا

اختر الایمان کا تجزیہ ہے”پاکستان کےناقدین اورسخن فہموں نےآنس معین کی دریافت کوادبی تقاضا بلکہ قرض سمجھا اورانصاف کیا، مگرجیساکہ ڈاکٹرانورسدیدنےلکھا کہ آنس معین کی وفات جدیدغزل کی موت ہے۔مجھےاس سےمکمل طورپراتفاق ہے۔آنس معین کےہرہرشعرمیں مفاہیم کےجہان آبا د ہیں۔پوری اردوشاعری میں اپنےتخلیقی معجزات کی بنیاد پرآنس معین بےمثل نظرآتےہیں۔ اتنی کم عمری میں اوراس قدرمحدود وقت میں اردوادب کومالامال کردیناکوئی معمولی با ت نہیں۔یہ آنس معین کی غیر معمولی شاعری اورشخصیت ہی ہےکہ جس نےعلی سردارجعفری کویہ کہنےپرمجبورکردیاکہ”آنس معین کی شاعرانہ عظمت سےکس کافرکوانکارہوسکتا ہے؟ترقی پسنداور غیرترقی پسندادب کی دونوں ہی قوتوں نےابتدا ءہی سےآنس معین کی تخلیقی صلاحیتو ں کوواضح الفا ظ میں سراہااوریہ ایک حقیقت پسند انہ طرزعمل تھا ۔

آنس معین جدیداردوشاعری کی اتنی تواناآواز ہےکہ گردش ایام بھی اس پراثراندازنہیں ہو سکی۔ ایسےشاعرکہاں ہوتے ہیں؟ اورہوتےہیں تو کتنے کہ جوحال اورمستقبل پرمکمل طورپرچھائےہوئےہوں اورآنےوالا ہرعہدان کا ہو ۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ شعبہ اردوکےاستاد جتنےمعروف ہیں،اس سےکہیں زیادہ ممتاز۔ایک ممتازنقاد،شاعراورمعلم پروفیسرڈاکٹراسدبدایونی ہیں۔ وہ جس قد رپیارے اورخوبصورت انسان ہیں، اتنے ہی اچھےاور پیارے بلکہ خوبصورت نقاد،شاعر اوراستادہیں۔پروفیسرڈاکٹراسدبدایونی لکھتےہیں “آنس معین کے انتقا ل کےبعدجومختصرساگوشہ اوراق میں شائع ہوا،وہ اتناپراثر اورمسحورکن تھاکہ میں نےاس جواں مرگ شاعرکی پچھلی تمام (مطبوعہ )تخلیقا ت کو ایک بارپھرپرانےشماروں میں تلا ش کیااوردیرتک ان کےسحرمیں گرفتاررہا۔آنس معین کی شاعری کو اس تناظر میں سمجھنےکی کوشش ابھی تک نہیں کی گئی، جس کی وہ مستحق اور متقاضی ہے۔آنس معین نےکتاب حیرت وامکان کامطالعہ جس سرعت اور گہرائی سےکیا،وہ بہت کم فنکا روں کا حصہ ہے۔آنس معین کاایک شعرجوبادی النظر میں بہت سادہ معلوم ہوتاہے،خودکشی کےتناظرمیں نہایت تہ دار نظرآتاہے ۔

حیرت سےجویوں میری طرف دیکھ رہے ہو

لگتا ہےکبھی تم نےسمندر نہیں دیکھا ۔۔۔۔؟

پروفیسرڈاکٹراسدبدایونی اپنےمضمون “ایک اچھوتی طرز سخن کابانی” میں مزیدلکھتےہیں”آنس معین کی شاعری پرہندوپاک کےمعتبرناقدین اورہم عصرشعراءوادبا ءکےتاثرات کا

مجھےعلم ہےمگر بیشترحضرات نےآنس معین کو کسی نہ کسی پیش روسےوابستہ کرنےکی کوشش کی ہے۔شکیب جلالی ،مصطفی زیدی ہوں ، خواہ کیٹس،ارسطو،سقراط یارومی ہو ں، ہر شخص اپنی ایک جداگانہ حیثیت رکھتاہےاوریہ تمام ہستیاں بلاشبہ بلند قامت بھی ہیں۔میں نےآنس معین کوآنس معین ہی کے حوالے سےسمجھنےکی کوشش کی ہےاورمجھےاس کی شاعرانہ شخصیت میں ایک بالکل منفردشاعرنظرآیا۔آنس نےکہا !

چپ رہ کراظہارکیاہےکہہ سکتےتوآنس

ایک علاحدہ طرزسخن کاتجھ کوبانی کہتے

اس جواں مرگ شاعرکی غزلیہ شاعری کو پڑھنےکےبعدمیں جس نتیجےپرپہنچاہوں،وہ یہ ہےکہ آنس معین واقعی ایک اچھوتی اورنرالی طرزسخن کاموجدیابانی ہے ۔

اظہا راحمد ما ہنا مہ معلم اردولکھنوکےمدیرہونےکےساتھ ساتھ خودبھی ایک صاحب نظرادیب ہیں،انہوں نے1992ءکے خصو صی شمارےیعنی آنس معین نمبرکےادارئیےمیں لکھا”آنس معین پرپاکستان میں (خا ص کران کےسانحہءارتحال کےبعد) بہت کچھ لکھااورشائع کیاگیاہے۔آنس معین کوجہاں کچھ ناقدین ادب نےعہدجدیدکاارسطو،کیٹس،شیکسپیئراورسقراط کہاہے،وہیں کچھ حضرات نےآنس معین کومصطفی زیدی اورشکیب جلالی کےمماثل قراردیاہے۔کچھ ناقدین ادب کوآنس کی شاعری میں میرکاتغزل اورغالب کی گہرائی اورگیرائی دونوں ں ہی نظر آئی ہیں۔جوش اورفیض سےلےکراحمدندیم قاسمی،انورسدیداوروزیر آغاتک سبھی نےآنس کےفکروفن کوسراہا ہے۔آنس معین کےلب و لہجہ سےبڑےبڑےادیب چونکےہیں۔اس کےکلام میں جوگہرائی اوررعنائی اورلب ولہجہ میں جوندرت ہے،وہ اتنےکم عمر شعراءکےکلام میں نہیں ملتی۔آنس معین نےصر ف 27سا ل کی عمرمیں کتا ب زیست کاآخری صفحہ پڑھنےکےلئےخودکشی کرلی۔ہمیں امیدہےآنس کی ادبی قدروقیمت کاتعین کرنے کےلئےہندوستانی اورپاکستانی ناقدین خصوصی توجہ دیں گے۔”۔

آنس معین کی شاعرانہ عظمت سےانکارممکن نہیں۔ آنس کا شمارتوان دیدہ وروں بلکہ جہاں دیدہ دانشوروں اورتخلیق کاروں میں ہوتاہے،جنھوں نےاپنےپورےعہدکومتاثرکیاہے ۔

ہرچندآنس معین کی شخصیت اورشاعری کےحوالےسےہندوستان میں بہت سےتنقیدی مضامین منظرعام پرآئےہیں لیکن مجھے آنس معین کی تفہیم کاعمل مسلسل جاری رہنےکےباوجودصدیوں ختم ہوتا نظرنہیں آتا۔حقیقت یہ ہےکہ پروفیسرڈاکٹراسدبدایونی کےالفاظ میں “موت کوقبول کرنےاوراسےاپنی پسندیدہ شےقرار دینےکارجحا ن ماضی قریب کےشاعرفا نی بدایو نی کےہاں سب سے قوی یابھرپوراندازمیں سامنےآیاہے۔میرتقی میرکاکلام قنوطی اندازیاروئیےکاحامل ہے،مگرآنس معین کےہاں موت کےمعانی اورمفاہیم ان قدیم شعرا سےبالکل مختلف نظر آتےہیں۔”

اوربس آنس معین کامنفردلہجہ ہی اس کی پہچان ہے۔

تحریر و تحقیق؛ ڈاکٹر فو ق کریمی، علی گڑھ

https://aalmiakhbar.com/archives/107522


جدید لب و لہجے کاچونکادینے والا شاعر آنس معین،مظہرفریدی[ترمیم]

05/02/2021

0

92

 

ولادت:29.نومبر۔1960۔لاہور= وفات۔5.فروری۔1986.ملتان

جدید لب و لہجے کاچونکادینے والا شاعر

آنس معین

آنس معین کو جوش ملیح آبادی نے کمسن سقراط اور فیض احمد فیض نے زیرک دانشورقراردیا۔احمد ندیم قاسمی نے کہا میں رشک کرتا ہوں کہ آنس معین جیسے شعر کہہ سکوں۔ڈاکٹروزیرآغا کاکہناتھا کہ وہ چندبرس اورزندہ رہ جاتا تو اس کاادبی مرتبہ کیٹس سے کم نہ ہوتا۔

تحریر و تحقیق :مظہرفریدی

پہلی بار دیکھا تو، چشمِ آہو کے طلسم کا اسیر ہو کررہ گیا۔اتنی زندہ آنکھیں،زندگی کی ایسی چمک دمک اورللک بہت کم چہروں پہ سجی آنکھوں میں دیکھی تھی۔۔1993-94 میں لاہورمیں تھا کہ ایک دوست نے کہاکہ ایک دوست کے ہاں جاناہے،چلوگے۔پوچھاکہاں،توجواب دیا کہ “محفلِ مسافر” میں،بھائی یہ محفلِ مسافر کیا ہے؟جواب ملا فخرالدین بلے،جو آنس معین کے والدہیں۔ان کے ہاں ہر مہینے یہ محفل منعقدہوتی ہے۔آنس معین کانام آتے ہی ،رہانہ گیااورچل پڑا۔دعوت عام کےباوجود،وہاں چنیدہ لوگ تھے۔ادبی تنظیم قافلے کی محفل ختم ہوئی تو”فخرالدین بلے صاحب سے گفت گو کی،اورپوچھا کہ “آنس معین”کی آنکھیں بہت کچھ کہتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔کبھی آپ نے بھی کچھ سنا’ یا’محسوس کیا؟توطرح دے گئے اورفرمایاکہ وہ اپنی بہن سے زیادہ قریب تھا،زیادہ بہت رہے کہ ان سے پوچھ لیں۔ ان سے گفت گوہوئی جوبارآور ثابت نہ ہو سکی۔البتہ کچھ چیزیں ان سے مل گئیں۔آج انہی صفحات کی مددسے کچھ لکھنے کےقابل ہواہوں۔

اس سے پہلے کچھ اپنی گزارشات پیش کروں۔صاحب ِ علم وفن کے خیالات پیش کردوں۔1977 میں شعری دنیامیں قدم رکھنے والاآنس،5فروری 1986ءکواس دنیاکو ہمیشہ کے لیے خیربادکہہ گیا۔وادیٔ ادب کوسوناکرنےوالے نے صرف نو سال شاعری کی۔

* آنس معین کم سِن سقراط ہے۔(شبیرحسن خاں جوش ملیح آبادی، آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور

* فیض احمد فیض نے آنس کی شاعری دیکھ کران جانے خدشے کااظہارکیاتھا۔اوربے ساختہ ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلےتھے کہ:

I am yet to see a more grown up intellectual.

1979،لاہور

وہ چھوٹی عمرکابزرگ دانش و رہے،میں نے ایسا زیرک دانش ور،اس عمرمیں نہیں دیکھا۔(فیض احمدفیض، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین)

* مجھے وہ ننھارومی نظر آتا ہے۔(جابر علی سید، آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور)

* آنس نئی سوچوں کاارسطوہے۔(نسیمِ لیہ، آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور)

* میں آنس معین کےا شعارپڑھ کردم بخودرہ جاتاہوں اوررشک کرتاہوں کہ اس جیسے شعرکہہ سکوں۔(احمدندیم قاسمی،آوازجرس،ج 2،ش27،لاہور،ص 13)

* آنس کی شاعری چونکادینے والی ہے۔(رازسنتوکھ سری، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین

* آنس کا شکیب اورمصطفےٰ زیدی سے موازنہ ،ادبی غلطی ہوگی۔(انورجمال، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین)

* اس کے اشعارجدیدشاعری پر اثرات مرتب کر رہے ہیں۔(تنویر صہبائی، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین)

* آنس کو شکیب اورن م راشد کے حوالے سےسمجھناافسوس ناک ہے۔(محمدفروز شاہ، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین )

* مجھے جواں سال آنس کی موت پرشکیب جلالی بہت یاد آیا۔(انورسدید، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین)

* لہجے کی الگ پہچان کے باعث ،اس کی شاعری زندہ رہے گی۔(عاصی کرنالی، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین)

* اگروہ چندبرس اور زندہ رہ جاتاتومجھے یقین ہے کہ اس کاادبی مرتبہ کیٹس سے کم نہ ہوتا۔(ڈاکٹر وزیر آغا، آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور)

* آنس معین چھوٹی عمرکااتنابڑاشاعرنکلا کہ اس کی قدوقامت کاجائزہ لینے کے لیےگردن اٹھاکردیکھناپڑے تواپنی دستارضرورسنبھالنی پڑتی ہے۔(طفیل ہوشیارپوری،اظہاریہ،آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور)

* آنس معین جدیداسلوب ہی کا نہیں بلکہ منفردتوانالہجے کاخوب صورت شاعر تھا۔(مسعود ملک، آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور)

* آنس معین نے چھوٹی عمر میں ذات اورکائنات کے اسرارِ و رموزکوسمجھ کراتنے رنگوں میں بیان کیاہے کہ حیرت ہوتی ہے۔(بیدارسرمدی، گہراب، گوشہ ٔ آنس معین)

* اسے زندگی حرف ناتمام کی صورت نظر آئی اوراس نے اپنے ادھورے پن کادکھ اپنی موت سے ختم کر لیا۔(مقصودزاہدی، گہراب،گوشہ ٔ آنس معین

* آنس نے اپنے اندر بسی ہوئی لامتناہی دنیاکاسفریونہی نہیں بلکہ بہ تقاضائے جستجواختیارکیااوراس سفرکے دوران کبھی وہ وجودی مناظر سے ماوراء ہوکرچلااورکبھی قلزمِ روح میں غوطہ زن ہوا۔(فخرالدین بلے،گہراب،گوشہ ٔ آنس معین)

* آنس معین کی کتابِ شعر بجنسہٖ ایک سمند رہے جس کاہرورق ایک موجِ لغت اورگنجینۂ معنی ہے۔وہ اس حیرت کدے تک بہت کم وقت میں پہنچا،جس کی مسافت طے کرتے ہوئے گیانیوں کو صدیاں لگ جاتی ہیں۔(پروفیسرانورجمال، آنس معین نمبر،محفل،ستمبر 1979،لاہور)

* آنس معین کاہرشعری اظہاربھرپور،ایسامکمل اورایسا spontaneous ہے کہ اسے سوائے ایک تخلیقی معجزے کے کچھ اورنہیں کہاجاسکتا۔اس کے قطعی منفرداور چونکا دینے والے لہجے میں ایسے اشعارملتے ہیں کہ ان میں سے ایک شعر بھی کوئی کہہ پائی تو اس کاسر فخر سے بلندہوجائے۔(اسلم انصاری،آنس معین نمبر، محفل،ایضاً، ص11)

* ڈاکٹرخورشیدرضوی نے اس خوف کااظہارکیا کہ آنس معین کے اندر ایک جوالا مکھی سلگ رہاہے۔جو خدانہ کرے کہیں اسے بھسم کر دے۔ (محفل،ایضا!،ص35)

* پروفیسر غلام جیلانی اصغر کے خیال میں لمحہ آنس معین کوقید کیے ہوئے تھا اوروہ اس قیدسےنکلنے کے لیے بے تاب ومضطرب تھا۔ (آنس معین نمبر،محفل،ایضا!،ص35)

“توڑاجو توآئینہ تمثال دارتھا”،آنس آئینہ خانۂ دنیامیں ایک ایسی بے چین روح تھی،جس کے لیے زمان ومکاں کی وسعتیں بے معنی تھیں۔وہ عرفانِ ذات کی اس سرحدپرتھا،جہاں تک پہنچتے پہنچتے سانس اکھڑجاتی ہے،گیانیوں کااگیان حرف غلط ہوجاتاہے۔روایت ہے کہ بوعلی قلندرنے بارہ(12) سال پانی میں کھڑے ہوکر عبادت کی ،غیب سے نداآئی ،میرے بندے کیاچاہتاہے۔جواب دیا”علی”سناہے تمام عبادت مٹی ہو گئی۔لیکن سیدآنس معین بلے،خانوادۂ چشتیہ کاچشم وچراغ تھا۔ اس آئینہ خانہ میں اسے کیاکچھ نظر آیا،اوروہ کون حالات تھے کہ زیست نے ممات کالبادہ پہن لیا۔اس سوال کوتومیں حل نہیں کرسکتا۔اس کاکچھ جواب دے سکتے تھے تو ان کے والد،والدہ یابہن بھائی تھے۔جن کے سامنے اس کی تمام زندگی تھی۔آنس معین کچھ بھی تھا یانہیں تھا مگر”آنس”ضرور تھا۔ہم لوگ نہ جانے کیوں دوسروں کے نام دے کرخوش ہوتے ہیں۔

ان آرامیں سے جو کچھ سمجھ میں آتاہے،وہ کم سِن سقراط ہو،یاننھارومی ہو،نئی سوچوں کاارسطوہویاچھوٹی عمرکابزرگ دانش ورہو ،وہ ایک ایسا عبقری تھا کہ وقت کی طنابیں اس کے سامنے ہیچ تھیں۔اسرارِ رموز کاایساپارکھ کہ عقل وخرد بے بس نظر آتے ہیں۔ورنہ اس عمر کاایسا شاعر آج تک کسی نے دیکھاہے؟یہ خوبی غالب میں تھی کہ اس کاپہلادیوان “گلِ رعنا”جب شائع ہوا تو غالباً ‘غالب’کی عمر 21 سال تھی۔آنس کے مجموعے کاانتظارکرتے انکھیں ترس گئیں۔خداجانے کب شائع ہو یا ہوگا کہ نہیں؟

آنس پرلکھے گئے مضامین میں سے سب سے بہترمضمون ‘فخرالدین بلے’کاہے۔اس کا مطلب ہے کہ انھیں آنس کے بارے میں بہت کچھ معلوم تھا۔لیکن “عشقکی ایسی جست”شاید ان کے وہم وگماں میں نہ تھی۔

نہ تھی زمیں میں وسعت مری نظرجیسی

بدن تھکابھی نہیں اور سفرتمام ہوا

انھوں نے آنس معین کے ایسےخیالات کوشاعرکاذہنِ رساخیال کیا۔کم سن سقراط ،جیسے الفاظ سن کرخوش ہوئے۔چھوٹی عمرکابزرگ دانش ور سمجھتے رہے۔ننھارومی اورنئی سوچوں کے ارسطو کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔وہ جوالا مکھی جو اس کے شعور و لاشعور میں پک رہاتھا۔ اسے کسی ہم دمِ نرینہ کی تلاش تھی،جونہ ملا۔وہ کم گودل میں ہزاروں اندیشے،ارماں اورراز لیے چلتابنا۔ہم سب منہ دیکھتے رہ گئے۔

فخرالدین بلے نے بھی اپنے مقالے کو مغربی مفکرین کے حوالہ جات سے بھردیاہے۔ دوسرے تصوف کے حوالہ جات اوران سے آنس معین کے اشعار کاتطابق، بعض اوقات سوچنے پر مجبور کردیتاہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ گھرمیں تصوف پر کتابوں کاوافر ذخیرہ موجود رہاہوگا۔جس کا مطالعہ آنس نے دل جمعی سے کیا ہوگا۔لیکن زندگی کاآخری عمل تصوف کی تعلیمات،ذہن عجب مخمصے کاشکارہوجاتاہے؟یاپھر آنس نے منصور بننے کاسوچا اورخودہی فیصلہ صادر کر دیا؟اس کے علاوہ کیاکہاجاسکتاہے؟آنس کے بعض افکارنہ صرف چونکادیتے ہیں بکہو اندرسے ہلا دیتے ہیں۔چوں کہ ہمارے سامنے چندچیزیں ہیں جن کی بنیادپرگفت گوہورہی ہے۔اس لیے کوئی بات تیقن سے نہیں کہی جاسکتی۔لیکن چند نظمیں یا نظموں کے ٹکڑے ایسےضرورہیں جن میں اس کی روح کی پرواز کون ومکاں کی حدیں پھلانگ گئی ہے۔اوروہ “راز درونِ مے خانہ” کا واقف نظر آتاہے۔

آنس کی شاعری کو سامنے رکھ کر اس کی شعری جہات اورشخصیت کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بقول شبیرحسین جعفری آنس کی زندگی کاپہلاشعر یہ تھا:

آخرکو روح توڑ ہی دے گی حصارِ جسم

کب تک اسیرخوش بو رہے گی گلاب میں

تحّیر کی وہ دنیا،جسے تسخیرکرنے میں زمانہ لگتاہے،یہاں پہلے ہی شعرکے انداز سے ظاہر وباہ رہے۔آنس نے شاعری کی ابتدا وہاں سے کی جہاں اکثر شعرا کے دیوان ختم ہوجاتے ہیں۔ایسی اڑان کا یہ اختتام،مجھے کچھ حیرت نہیں ہوئی۔کیوں کہ جب غنچہ پھول بنا،اس کے مصھف سے نہ صرف حسن کے جلوے افروزاں ہوئے بلکہ اس کی روح(خوش بوپھول کی روح ہوتی ہے)آب وگل کی اس دنیاکومہکانے پرمصر ہوتی ہے۔اسے اس حقیقت کاادراک ہوتاہے کہ یہ عمل اسے ایک ایسی وادی میں لے جائے گا،جووادیٔ عدم ہے۔لیکن یہ اس کی فطرت ہے اور فطرت تبدیل ہونا تقریباًناممکن ہوتاہے۔ لہٰذا آنس بھی اپنی روح کو کائناتی تناظر میں قربان کرنے کی جلدی میں تھا۔اس لیے جلد ہی وادی ایک ایسی دنیاکی طرف روانہ ہو گیا۔جس کے اسرارِو رموز سے ہم قریباً غافل ہیں۔فنی اعتبارسے دیکھ جائے تو آنس پہلے مصرع میں اپنی بات کہہ چکاہے۔لیکن شعری پیکر کی مجبوری نے اسے مجبورکردیا اوراس نے یہ تلازمہ تراشا کہ جیسے خوش بو ‘پابند نہیں رہ سکتی’اسی طرح روح کو مقیدرکھناناممکن ہے۔

اب آنس کاکلام ترتیب میں نہیں ،کہ کون سی غزل کب کہی گئی اب جوبھی گزارشات ہوں گی،مختلف غزلوں کے تناظر میں ہوں گی۔تاوقتِ کہ ان کاکلام تاریخوار مرتب ہوکرسامنے آجائے۔آنس نے جب دیدۂ بینا واکیے توعالمِ حیرت سامنے تھا۔تمام عالم اسے “بازیچۂ اطفال”نظر آیا۔تووہ کہہ اٹھا:

جیون کودکھ،دکھ کوآگ اورآگ کوپانی کہتے

بچے لیکن سوئے ہوئے تھے،کس سے کہانی کہتے

چوں کہ ” وا کر دیے ہیں، شوق نے، بندِ نقابِ حسن “آنس نے آئینہ خانۂ حیرت میں جب نگاہ کی تو اسے کئی رنگ اورانگ نظر آئے۔اب جو اس کے دل پر شگاف ہوئے تھے ان میں سب کو شامل کرنے کی لگن میں ،دنیا کی طرف متوجہ ہوتاہے۔لیکن اسے دنیامحوِ خواب اور مدہوش نظر آئی۔

ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق

یعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے

اسداللہ خاں غالب

آنس کاانداز اتنا نیا اور اچھوتا ہونے کے ساتھ ساتھ روایت کو بھی اس طرح اخذ کرتاہے کہ شعربالکل نیا معلوم ہوتاہے۔گھرمیں علوم وفنون کا ایک سرمایہ موجود تھا۔آنس نے اس علم وفن کو حرزِ جاں کر لیا۔اسے بدن کی کٹھالی سے گزارکرایساکندن کیاکہ فارس اوراردو زبان وادب کاعطرکشیدکرکے رکھ دیا۔لیکن اس خیال میں بھی آنس شامل ہوا توچیزے دگر بن گیا۔لیکن آنس کو اس پربھی افسوس ہوا۔

تیرالہجہ اپنایااب ،دل میں حسرت سی ہے

اپنی کوئی بات کبھی تواپنی زبانی کہتے

جولوگ لہجہ بدلنے کومعمولی سی چیز یافن سمجھتے ہیں۔ان کےلیےسوچنے کامقام ہے کہ لہجہ بدلنے سے سوچ اور پھرلاشعوری طورپرجو فرق پڑتا ہے وہ اہلِ علم جانتے ہیں۔آنس کوخودبھی اس بات کاادراک تھاکہ وہ ایک نئے طرز کے اسلوبِ شاعری کو رواج دے رہاہے۔اس نے زندگی،زمان ومکاں اورانسانی روبط کی سائیکی کو اس آسانی سے اشعارمیں بیان کیاہے کہ حیرت ہوتی ہے۔اس عمر میں زنگی کاایساانوکھا اظہار، سوائے عطائے ربی کے علاوہ کیاکہاجاسکتاہے۔عملی زندگی میں وہ ادب کاطالب نہیں تھا۔وہ ایک بینکرتھا،لیکن اشعارمیں ایسی باریک باتوں کااس سہولت سے اظہاریہ ظاہرکرتاہے کہ جہاں ظاہری علم نے اس کی رہنمائی کی،وہیں باطنی علم کے خزانوں سے بھی اسے وافرحصہ ملاتھا۔

چپ رہ کراظہارکیاہے،کہہ سکتے توآنس

ایک علیحٰدہ طرزسخن کاتجھ کوبانی کہتے

جس معاشرے میں اسے رہنے اوردیکھنے کاموقع ملاتھا۔وہ اس معاشرے کاکھوکھلاپن،تصنع، دکھاوا،ریاکاری، فریب،جھوٹ اورمنافقت سے بدظن تھا۔اس کی روح جو خوش بو تھی،اس تعفن زدہ ماحول میں گھٹ کررہ گئی۔ممکن ہے وہ کچھ اوردن زندہ رہ جاتا،لیکن ظاہروباطن کے تضادات اور لوگوں کے رویوں نے اسے وقت سے پہلے آخری فیصلہ کرنے پرمجبورکردیا تھا۔تعلقات کوبھی،ریا سمجھتاتھا۔اس لیےکہ:

ہوجائے گی جب تم سے، شناسائی ذرااور

بڑھ جائے گی شایدمری تنہائی ذرااور

کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار

اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور

پھرہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکوگے

یہ الجھی ہوئی ڈورجوسلجھائی ذرا اور

اب وہ معاشرے کے ان زخم خوردہ حسوں کو سدھارنہ اورسہلاناچاہتاہے۔لیکن لوگ اسے ناسور ماننے کوتیانہیں ہیں۔اس لیے “وہ الجھی ہوئی ڈورکوباوجوداس کے کہ سلجھاناچاہتاہے،نہیں سلجھاسکتا”۔اس کربِ مسلسل نے شکستِ ذات میں کلیدی کرداراداکیا۔اس لیے وہ کہہ اٹھتاہے۔ میرے ہاتھوں پہ زخموں کی تعداد تمھارے تصور سے زیادہ ہوگی۔

پتھرہیں سبھی لوگ ،کریں بات توکس سے؟

اس شہرِ خموشاں میں صدادیں توکسے دیں؟

ہے کون کہ جوخودکوہی جلتاہوادیکھے؟

سب ہاتھ ہیں کاغذکے، دیادیں توکسے دیں؟

سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ!

اورپاس ہے بس ایک ردادیں توکسے دیں؟

جب ہاتھ ہی کٹ جائیں،توتھامے گابھلاکون؟

یہ سوچ رہے ہیں کہ عصادیں توکسے دیں؟

بازارمیں خوش بوکے خریدارکہاں ہیں؟

یہ پھول ہیں بے رنگ بتادیں توکسے دیں؟

آپ نے دیکھا،”پتھردل”لوگ ہیں یاپھر”شہرِ خموشاں “ہے۔اس میں صدادینا،نقارخانے میں طوطی کی آوازتو ثابت ہوسکتاہے۔کیوں کہ حقیقت کاسامناکرنے کی ہمت وجرأت مفقود ہے۔اس کے لیے’شاہیں کاتجسس اورچیتے کاجگر’،چاہیے۔اپنی زات کاسامناکرنے کادیوانہ پن درکا رہے۔”سرِ بازارمی رقصم”کالافانی حوصلہ ساتھ ہو۔کیوں کہ اسے جوذمہ داری سونپی جارہی ہے۔اس کے لیے اسے اپنے وجودکوکٹھالی سے گزارکرکندن کرناپرتاہے۔خودکوجلتاہوادیکھنے کاحوصلہ کس مین اورکتنا ہے۔یہ زبانی نہیں عملی قدم اٹھانے کے بعد دیکھناہوگا۔کیوں کہ ہجومِ خلقت میں کوئی تو جو آگے بڑھ کے بِیڑااٹھالے۔وجہ بھی خودہی بیان کردی ہے”سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیادیں توکسے دیں”۔بے کلی اوربڑھ جاتی ہے۔روح کی پھڑپھڑا ہٹ اور بے خودکیے دیتی ہے۔

آنس تم بھی سامنے رکھ کرآئینہ

زورسے اک آواز لگاؤ ،لوٹ آؤ!

آنس اپنے اندرسمٹ جاتاہے۔اسے چاروں اوراندھیرانظر آتاہے۔ایک گہرااعصاب شکن سکوت،روح کاسناٹا،جواسے بےکل کیے دیتاہے۔

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہے

کس سے بولوں ،یہ تواک صحرا ہے جہاں پر

میں ہوں یا پھر گونگا بہرا سناٹا ہے

محوِ خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں

جاگنے والا بس اک اندھا سناٹا ہے

ڈ رناہے توانجانی آوا ز سے ڈ ر نا

یہ تو آنس دیکھا بھالا سناٹا ہے

آنس معین کی شاعری معاشرتی رویوں پرنشترتوچلاتی ہے۔اوران ناسوروں کاعلاج بھی چاہتاہے۔لیکن گنگے ،بہرے لوگوں میں وہ کسسے کہے۔اک طرف شورِشر انگیزہے۔جس سے سناٹابھی سہم گیاہے۔اس پر ستم یہ کہ جودیدۂ بینا ہیں،وہ خوابِ خرگوش میں مدہوش ہیں۔آنس کی شاعری قنوطی نہیں ہے۔ اس کے اشعار زندگی کی للک سے معمورہیں۔آنس بارہا زیست کی طرف پلٹتااور لپکتاہے۔ کہ یہ سناٹاکوئی نئی چیز نہیں۔یہ تواب ہمارے ماحول کا حصہ ہے۔لہٰذااس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں ایک بات خوف وخطرسے خالی نہیں ہے کہ”کوئی انجانی آواز”جو محبت کالبادہ اوڑھ کرنفرتوں کے بیج بو دے۔اس سے احتیاط لازم ہے۔ مایوسیاں آنس پر سوارنہیں ہوتیں،پرآنس انتہائی محتاط شاہ شوا رہے۔وہ وقتی فتح پریقین نہیں رکھتا۔اسے دائمی فتح سے پیا رہے۔لیکن چاروں اور”اندھاسناٹا”ہونے کی وجہ سے خود میں سمٹ کررہ جاتاہے۔اسے کہیں سے کمک نہیں ملتی۔اندرکی روشنی اسے بار بار راستہ دیتی ہے۔

بدن کی اندھی گلی توجائے امان ٹھہری

میں اپنے اندرکی روشنی سے ڈراہواہوں

نہ جانے باہربھی کتنے آسیب منتظرہوں

ابھی بس اندرکے آدمی سے ڈراہواہوں

اب اماں ملی توکہاں ملی “اندھے سناٹے” سے بدن کی “اندھی گلی”میں،باطن جگ مگ تھا،اب گھپ اندھیرے سے ،انسان جب اچانک چکا چوندروشنی میں آتاہے تو اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔باہر آسیب زدہ ماحول کاحول،اس قدرشدید تھا کہ اسے روشنی سے بھی ڈر لگنے لگتاہے۔اوروہ اپنے آپ کواجنبی لگنے لگتاہے۔وہ اپنے آپ سے ڈر جاتاہے۔ حالاں کہ ‘وہ تواندرکی روشنی’ تھی ،جواسے جادہ منزل تک جانے کاراستہ سُجارہی تھی۔یہیں آنس کو کسی ہم دمِ نرینہ کی کمی کااحساس شدت سے ہوتاہے۔

اک آشنائے رازہے حیرت سے وہ بھی گنگ

اک آئینہ ہے وہ بھی مجسم سوال ہے

اب اک آشناتو ہے!لیکن وہ خود ورطۂ حیرت میں ہے۔اسے آنس کی وجود سے خوف محسوس ہونے لگتاہے۔وہ آنس کی اندرکی روشنی کوسمجھ نہیں پاتا۔اور مجسم سوال بن جاتاہے۔ادھر تحیرکی جستجو نے آنس کو خودبھی”مجسم سوال”بنا رکھاہے۔کیوں کہ آئینہ تو منعکس کرنے ولا ایک آلہ ہے۔اور آئینے کی سامنے “آنس”، یہ سوال اس کے چہرے پربھی ہے۔

جھیلوں کی طرح سب کے ہی چہروں پہ ہے سکوت

کتنا یہاں پہ کون ہے گہرا نہیں کھلا !

وہ پھر زندگی کی طرف لوٹتا ہے۔”لیکن” جیسے اک طوفاں سے پہلے کی خاموشی”اندرکی دنیا میں ہل چل مچی ہے۔اندیشوں کے اژدر پھنکار رہے ہیں۔سفینۂ دل میں تلاطم بپاہے۔لیکن کسی کوبھی دیکھ کر محسوس نہیں ہوتاکہ کچھ ہونے ولاہے۔یاتوخوف نے سکتہ کردیاہے یاپھروہ سب بے خبرہیں۔آنس تھک کے بیٹھ جاتاہے۔ دوست دشمن کی پہچان نہیں ہوتی۔

ایک چہرہ نگاہوں کے دس زاویے

لوگ شیشہ گری کی دکاں ہو گئے

احمدندیم قاسمی نے کہاتھا کہ:

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

جس آدمی کودیکھنا سوباردیکھنا

لیکن آنس کاانداز بیاں نہ صرف منفرد ہے بل کہ نئے خیال کومہمیز بھی لگاتاہے۔کس کس زاویے سے دیکھیں۔ہرلمحہ بدلتے چہرے،بدلتے رویے ،اعصاب شل کیے دیتے ہیں۔اب آنس کی پریشانی شروع ہوتی ہے،یہ انساں ہیں یا”شیشہ گری کی دکاں”ہیں۔

کچھ دیر میرے ساتھ تماشا بنے مگر

پھرتم بھی مل گئے تھے تماشائیوں کے ساتھ

اب بات”تم” تک آگئی ہے۔تم میں بھی ہو سکتاہوں،آپ بھی،اور’تم’وہ بھی ہوسکتاہے۔جواردو ادب کا’تم’ہے۔اب” تماشا”بنناکون ساآساں کام ہے؟اور ساتھ دینا،دنیاکامشکل ترین مرحلہ،جہاں اعصاب چٹک جاتے ہیں،رگیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔اس لیے تو بھرے بازارمیں،تماشا بناکے ،خود تماشائیوں میں شامل ہو گئے۔

جاگ اٹھتے ہیں کتنے اندیشے

ایک مٹی کا گھر بنانے سے

من کی وحشت توکم نہیں ہوتی

د ر و دیوا ر کے سجانے سے

جب فضاؤں سے ربط بڑھتاہے

ٹوٹ جاتاہے آشیانے سے

اب یہ کیوں اورکیسے ہوا؟اندیشوں نے طوفانِ بلاخیز کی شکل کب اورکیوں اختیارکی؟جواب بھی خود دیا ہے” ایک مٹی کاگھربنانے سے” ۔اس کاایک پہلو یہ بھی ہے۔جب اس فانی دنیامیں انسان گھربناتاہے۔تواس میں دنیاکی امنگ جاگ اٹھتی ہے۔پھر گھرانہ شروع ہوتاہے۔اہل و عیال بنتے ہیں۔راستے ،رشتوں میں بدلنے لگتے ہیں۔موت کاخوف جاگزیں ہوتاہے۔اندیشے سر ابھارتے ہیں۔لیکن جو شخص اس دنیا کو ایک سنہری پنجرہ سمجھتاہو؟وہ اس میں گم نہیں ہوتا۔گھرسجانے سے “من کی وحشت “کم نہیں ہوتی۔جو آزاد فضاؤں کے طائر ہیں۔انھیں آزاد فضا ہی راس آتی ہے۔وہ زیادہ دیر اس قید کوبرداشت نہیں کرتے۔اور ان دیکھی، ان سنی دنیاؤں کی لگن انھیں بے خودکرتی ہے،تو وہ خواجہ غلام فریداحمت اللہ علیہ کے الفاظ”دنیاکوں چونچی لاڑ آ”کے مصداق اڑ جاتے ہیں۔پھرانھیں اس کاغم نہیں ہوتا کہ آشیاں تھا یا نہ تھا۔ان کا دنیاسے تعلق واجبی سارہ جاتاہے۔خلق سے بے گانگی انھیں فطرت کے حسن کی طرف متوجہ کرتی ہے۔لیکن فخرِانسانیت یہاں بھی آڑے آتاہے۔آنس عالمِ ناسوت کے حسن کے پاس جاتاہے۔حسن کیاہے؟علامہ محمد اقبال کی نظم”حقیقتِ حسن”سے پوچھتے ہیں۔

خداسے اک روز یہ حسن نے سوال کیا

جہاں میں کیوں نہ مجھے تو نے لازوال کیا

اسے جواب ملا:

شبِ درازِعدم کافسانہ ہے دنیا

یہاں سے حسن کی سوگواری شروع ہوتی ہے۔مجیدامجد نے نظم”حسن” میں حسن کے عجب تیور بیان کیے ہیں۔

جمالِ گل ؟نہیں،بے وجہ ہنس پڑاہوں میں

نسیمِ صبح ؟نہیں،سانس لے رہا ہوں میں

یہ عشق توہے اک احساسِ بے خودانہ مرا

یہ زندگی توہے اک جذبِ والہانہ مرا

ظہورِکون ومکاں کا سبب!فقط میں ہوں

نظامِ سلسلۂ روزوشب !فقط میں ہوں

آنس نے ایک اورزاویہ واکیاہے۔ایک اورپہلوسے دیکھاہے۔

گیاتھامانگنے خوش بو، مَیں پھول سے لیکن

پھٹے لباس میں، وہ بھی، گدالگامجھ کو

آنِؔس معین نے’پھٹے لباس’میں دیکھا۔اب آنس توشاہ کارِ حسن سے اس کا وہ حصہ، جو وہ پوری دنیامیں، بلا تمیز تقسیم کرتاہے،فیض اٹھانا چاہا۔لیکن جب آنس نے چشمِ بصیرت سے دیکھا تو وہ توخود کسی درکے سامنے کاسہ لیس تھا۔اشرفِ مخلوق کووہ مظلوم اورمجبوردکھائی دیا۔آنس کی غیرت نے گوارانہ کیا،وہ لوٹ آیا۔

ہمارے حسنِ طلب کولوگ کیاجانیں

شبِ سیاہ میں جگنو اک استعارہ ہے

اترے والی ہے آنس تھکان آنکھوں کی

بہت بڑا ہے افق اور ایک تارہ ہے

جو فرد ایک جگنو کوشبِ سیاہ میں روشنی کااستعارہ کہہ کر،اس کو امید کاپیام برسمجھتاہے۔یقیناً عام لوگ اس کے ‘حسنِ طلب’ کوسمجھنے سے عاری ہوسکتے ہیں۔ اور “لکڑی جل کوئلہ بھئی اور کوئلہ جل بھیو راکھ”( لکڑی جل کر کوئلہ بنی اور کوئلے ہو گئے راکھ)۔اب ایک تارہ۔صرف ایک چنگاری اس خاکستر میں ہے۔تاحدِ فریبِ نظر افق کی پہنائیاں ہیں۔لیکن ایکتارہ ہے جوٹمٹماتاہے۔اب چہرےپرتھکن کے آثار نمایاں ہو چلے ہیں۔انکھوں میں نینس اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

ہے صبح کے باطن میں وہی شب کی سیاہی

یہ صبح کا منظر اسی منظر سے اٹھاہے

اک چیخ سے مجروح نہ ہوگی یہ خموشی

طوفاں کبھی جھیل میں کنکر سے اٹھاہے

“یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر”ایساکیوں ہوا۔اس کاجواب بھی آنس نے دیاہے کہ ‘یہ منظر اسی منظر سے اٹھاہے’۔صبح کاانتظارکرنے والو،تم نے فقطِ انتظارِ سحر کیاہے!لیکن اسے اجالنے کاکوئی عمل۔۔۔!تو صبح کے باطن میں بھی شب کی سیاہی درآئی ہے۔اورآنس پکار پکار کے کہہ رہاہے۔تمھیں بارہا چلاچلاکرخبردار کیا گیاتھا۔ لیکن :

کشتی طوفاں کی طرف بڑھتی رہی

میں پکارتارہاتیزہواکے شورمیں

لیکن یہ چیخ گشتِ باز ثابت ہوئی اورجیسے ایک کنکرسے کبھی جھیل میں تلاطم پیدانہیں ہوتا،میری آوازبھی اک گونج بن کررہ گئی۔اوراب:

جیسے حاصل ہوصرف لاحاسل

خواب ،تعبیرِ خواب سے نکلے

اک غلط فیصلہ کیالیکن

عالمِ اضطراب سے، نکلے

کیاعجب ایک دوسراآنس!

ذات کے احتساب سے نکلے

حاصل کچھ نہیں۔لاحاصلی کوخوف آشیاں میں آبساہے۔اس پر بھی آنس نے اطمینان کر لیا۔اورمایوسی کوطاری نہیں ہونے دیا۔لیکن چاروں اوراک مجرم خاموشی نے اسے پھرسے معبدِ ذات میں قیدہونے پر مجبورکردیا۔

ذراتوکم ہوئیں تنہائیاں پرندے کی

اب اک خوف بھی اس آشیاں میں رہتاہے

محبسِ ذات سے طاہرِ روح نالاں ہے۔اس لیے ‘خوف’سے بھی امید کشیدکرلیتی ہے۔کم ازکم تنہائی کے عذاب سے چھوٹے۔اب اس کاہم نشیں اک خوف بھی ہے۔آنس کی شاعری میں بارہا، زندگی کی ہماہمی کی طرف لوٹنے کاذک رہے۔اب یاس سے آس کا پیداہونا کوئی آسان عمل نہیں،نہ ہی مذاق ہے۔ شاعر اس پربھی راضی ہے،فیصلہ چاہے درست ہویا غلط لیکن”عالمِ اضطراب سے نکلے”یہ روز کی کش مکش، گومگو،’ہے ،نہیں ہے’ کی تلوار،کم سے کم اس سے تونجات ملی۔ آنس پھر ہمکتی زندگی کی طرف لپکتاہے۔ممکن ہے، اس دوران میں احتسابِ ذات کے عمل سے ،ایک دوسراآنس،سامنے آئے۔ایسے مثبت رویے رکھنے والاشاعر قنوطی یا موجودیت(Existentialismعام طورپراسے وجودیت لکھاجاتاہے) پرست نہیں ہوسکتا۔آنس میں سادیت نام کونہیں ہے۔وہ اس دنیاکو ایک ایسی کائنات کے تناظر میں دریافت کرنا چاہتاہے۔

ہے میرے اندر بسی ہوئی ہے اک اور دنیا

مگر تم نے کبھی اتنا لمبا سفر کیا ہے؟

یہ” تو” کوئی اورنہیں ہے۔یہ ‘میں’اور’تو’ہیں۔یہ معاشرہ ہے۔جواقداروروایات،آداب واخلاق سے خالی ہوتاجارہاہے۔جہاں نفس پرستی ہی زندگی ہے۔جہاں خودپرستی ہی روشنی ہے۔جہاں خودنمائی ہی سب خوشی ہے۔ایسے میں آنس کیوں نہ کہے کہ کیاتم نے کسی حضرت انسان کوسمجھنے کی کوشش کی ہے۔خبثِ ذات سے نکلنے سےخوف،اور تعفن کے پھیلنے کے احساس نے،ہرکسی کو دھوکے میں مبتلاکررکھاہے۔اورکوئی بھی تو نہیں بولتاکہ:”بادشاہ سلامت آپ کےجسم پر لباس نہیں ہے۔جو بولے،وہ ولدالحرام ٹھہرے یاپھرگردن زدنی ہو۔تاوقتِ کہ ایک بچہ بول پڑتاہے۔بس پھر کیا تھا، سرگوشیان، چہ مگوئیاں جنم لیتی ہیں۔بادشاہ سلامت سوچنے پر مجبورہوجاتاہے۔بچہ جھوٹ کیوں بولےگا؟

ع کبھی تو بچہ صلیب جتنا بڑا بھی ہوگا

اب آنس کو شدید قحط الرجال کاسامنا ہے۔وہ بچہ کہاں سے لائے؟لیکن اسے اس بات کااحساس ہے اس لیے توکہہ اٹھتاہے” کبھی توبچہ صلیب جتنابڑابھی ہوگا”۔

لیکن مایوس اب بھی نہیں ہے۔

اک سردشام آئے گی تپتی سحرکے بعد

لاحاصلی کادکھ بھی ہے لمبے سفرکے بعد

اک دائرے میں گھومتی رہتی ہیں سب رتیں

ویرانیاں شجرپہ اگیں گی ثمرکے بعد

رہتاہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گامیں

جائے اماں اک اوربھی ہوتی ہے گھرکے بعد

اسے امیدہے کہ اب بھی ظلم تادیر طلم نہیں رہ سکتا۔یہ جھلسادینے والی دھوپ،یہ جلادینے والی “تپتی سحر”زیادہ دیررہنے والی نہیں ہے۔اس کی سانسیں اکھڑ چکی ہیں۔اگرچہ لوگ ایک طویل جدوجہدکے بعد تھک چکے ہیں،’لاحاصلی کے سنپولیے بھی لپٹے ہوئے ہیں۔لیکن اسے پھر بھی امید ہے۔کرہ اپنادائروی چکر مکمل کرنے والاہے۔اب درختوں پر شجر آئے گا۔اس کے بعد ویرانیوں کی باری ہوسکتی ہے۔لیکن میں مایوس نہیں ہوں اورنہ ہی گھر کے ہونے نہ ہونے کاغم ہے۔ کیوں کہ” جائے اماں اک اوربھی ہوتی ہے گھرکے بعد”۔دل کی گہرائیوں سے پھر ایک کرن پھوٹتی ہے۔

تھامے ہوئے گرتی ہوئی دیوارکواب تک

شایدمرے ہاتھوں کے سوااوربھی کچھ ہے

میں اکیلانہیں ہوں یہ’گرتی ہوئی دیوار’ صرف میرے تھامنے سے نہیں رکی،کوئی اوربھی ہے۔جو مرے ساتھ ہے۔عرفانِ ذات آنس کو الہامی طورپر مدد کرتا ہے۔اسے نچلانہیں بیٹھنے دیتا۔اندرکی روشنی اسے زعمِ ذات میں مبتلانہیں ہونے دیتی۔اسے اپنی کم زوریوں کابھی علم ہے۔اوراپنی انتہاؤں کوبھی جانتا ہے۔وہ صرف معاشرے کے رِستے ناسوروں پرنشترنہیں چلاتا بل کہ اپنامحاسب بھی آپ ہے۔اس لیے خوش فہمی میں مبتلاہونے کی بجائے یا نمائشِ ذات کی بجائے ،وہ واضح کرتاہے”کوئی او رہے،جس نے دیوارکوبھی تھاماہواہے اورمجھے حوصلہ بھی دے رکھاہے۔

ذرا سا کھول کے دیکھو تو گھر کا دروازہ

یہ کوئی اور ہی دستک ہے اب ہوا کب ہے

اسے ملے ہو مگر جانتے کہاں ہو تم

خود اپنے آپ پہ آنس ابھی کھلا کب ہے

آنِؔس زمیں کی دھڑکن کومحسوس کرنےوالاحساس فن کا رہے۔فسق فساد نےاوربغض ونفاق نےبدامنی کے طوفاں برپاکررکھے ہیں۔اعتمادویقیں کی دیواریں ڈھے چکی ہیں۔لوگ اپنی اپنی جگہ دبکےہوئے ہیں۔آنس اچانک ایک آوازسنتا ہے۔وہ کہہ اٹھتاہے کہ ابیہ تیزہوایاطوفان باد وباراں نہیں ہے۔یہ کوئی اورآوازہے۔ “دستک”کی آواز شایدیہ کوئی پیم برہو؟کوئی خوش خبری لایاہو؟لوگ اس قدروحش زدہ تھے کہ آنس کی بات پرکان نہیں دھرے۔اسے سقراط توکہامگر”کم سن” کے سابقے کے ساتھ،اسے رومی توکہامگر”ننھا”لگادیا۔اسے ارسطوتوسمجھامگر”نئی سوچوں کا”،اے کاش کہ کوئی اسے آنس سمجھ کراس کایقیں کرلیتا۔۔۔!؟اس لیے آنس آخر کار بول اٹھا” اسے ملے ہومگرجانتے کہاں ہوتم”۔اور دلیل بھی ساتھ تھی کہ آنس توابھی اپنے آپ پرنہیں کھلا،تم کیسے دعویٰ کرسکتے ہو؟اورساتھ ہی ایک ادق سوال داغ دیا:

دلا سکے گی کوئی صبح کیا یقین مجھے؟

کہ اس زمیں پہ نہ اترے گی رات آج کے بعد

آنے والے دورکی خبریں دینے والو!کیاتم نجھے یقیں دلاسکتے ہوکہآج کے بعد،یہ رات،یہ ظلمت، یہ اندھیرا، یہ جبر، یہ انسانیت کاماتم کرنے والے انسانیت کے دشمن ختم ہوجائیں گے۔یاپھران کی کایاکلپ ہوجائے گی۔یہ آج کے بعد نسلِ انساں کو کچھ نہ کہیں گے۔کوئی صبح،کوئی روشنی،کوئی امید کی کرن ،کوئی گیانی مجھے اس گومگو کی کیفیت سے چھٹکارہ دلاسکتاہے۔

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹاہے

جواب میں ایک مجرم خاموشی اور سناٹا۔آنس جوچندلمحے پہلے ایک جمِ غفیرسے گفت گوکرتاہوامحسوس ہورہاتھا۔اپنی ذات کے خول میں سمٹ جاتا ہے۔اپنے آپ سےخود کلامی کرنے لگتاہے۔

اکثرصبحیں وقت سے پہلے آتی ہیں

اس لیے ہرخواب ادھورارہتاہے

شب کے باطن سے وہ اجالانہیں پھوٹا۔جس اجالے کودیکھ کت لوگ صبح سمجھ بیٹھے تھے۔وہ صبح نہیں تھی۔لوگوں نے شورمچادیا۔مری آنکھ کھل گئی اورمیراخواب ادھورارہ گیا۔

میں دیدہ ور ہوں نظر میں ہوں کائنات لیے

وہ کم نظر ہے جوخود منظروں کی زد میں ہے

آنس پھرکہتا ہے۔عمروں کے بھیدمت کھولو۔میری آوازپرکان دھرو۔کیوں کہ زمین وزماں کی وسعتوں نے اپنے رازوں کے درمجھ پرکھول دیے ہیں۔اس لیے جوکچھ میں کہتاہوں اس پرکان دھرو۔لیکن وہاں کیاتھا؟

اک دھوکا سا کیوں ہوتا ہےاب بھی کچھ آوازوں پر

دستک کون دیاکرتا ہے کھلے ہوئے دروازوں پر

کھلے دروازوں پردستک ایک سوال بن جاتاہے؟آنس نے توباہا کہاکہ:” میں دیدہ ورہوں نظرمیں ہوں کائنات لیے”اورجس نے اپنے آپ کومنظرمیں سجالیا ہے۔ جواس تماشاگہہِ عالم میں خود تماشابن چکاہے۔وہ کم نظر ہے۔وہ دیدۂ بینانہیں رکھتا۔اس کی بات کااعتبارمت کرنا۔لیکن دورِ جاہلیت کی طرح لوگوں نے اپنے دیوتاؤں کے بتوں کوتوڑنا اپنی ہتک اورناکا مسئلہ بنالیا۔نتیجہ سامنے کی بات تھی۔

گرد ہٹی تو آئینے میں اپناچہرہ دیکھو گے

اک موہوم ساپردہ لوگو ! رہنے دو ان رازوں پر

آنس اس پربھی لوگ کے رازظاہرنہیں کرناچاہتا۔وہ مشورہ دیتاہے کہ آئینوں کے سامنے نہ آؤ!اگرتیز ہوایابارش نے آئینے سے گردہٹادی تواس میں ‘اپناہی چہرہ نظر آئے گا’۔جواک پردہ ہے،اٹھ جائے گا۔

میرے سرکودیکھ کے میرے شانوں پر

شاخ نے گل کابوجھ اٹھاناسیکھاہے

شاعریہ سب کچھ یونہی نہیں کہہ رہاہے۔وہ باربارحوالے دیتاہے۔مثالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ظلم یہ ہے کہ کوئی بھی “رازدارِدرونِ مے خانہ” نہیں ہے۔اس لیے فطرت سے مثالیں لاتاہے۔

یادہے آنس پہلے تم خود بکھرے تھے

آئینے نے تم سے بکھرانا سیکھا ہے

آئینے کاکام ہے،منعکس کرنا،بکھرنانہیں۔لیکن آنس جو اس بے دل دنیاکے ایسے ہجوم میں گھرچکاہے جوجدیدعلوم وفنون کی روشنی سے چکا چوندتوہے۔لیکن عام حالات کوسمجھنے سے عاری ہے۔

ع ساحل کی آرزومیں بہت سے بھنورملے

اس لیے وہ باربار تجربات سے گزرتاہے۔اپنے آپ کومشکل میں ڈالتاہے۔طوفانوںسے نبردآزماہوتاہے۔ساحل ،ساحل رہتاہے۔بھنوردربھنوراک سلسلۂ ہے جوختم نہیں ہوتا۔لیکن یہ بات ذہن میں رہے شاعر ان تمام کیفات سے اپنی “ذات کے معبد”میں دست وگریباں ہے۔اسے پھرایک راستہ سُوجتاہے۔

جونقشِ پاسے نہ ہوں شناسا،کچھ ایسے رستے تلاش کرنا

محبتوں کے سفرمیں آنس نئے جزیرے تلاش کرنا

اس باروہ “یادکےان بے نشاں جزیروں”تک جاناچاہتاہے جونقشِ پاسے شناسانہ ہوں۔اور’محبتوں کے نئے جزیرے’تلاش کرنے کی لگن ہے۔مگر’میں پاپم ایسی جلی کوئلہ بھیو نہ راکھ’۔

دیکھ رہاہوں خالی ہاتھ کی تنہائی

دوراہوں پر اکثر ایسے ہوتا ہے

“کعبہ میرے پیچھے ہے،کلیسامیرے آگے”ایسی صورت میں ہاتھخالی رہ جاتے ہیں۔اورحاصل ،کفِ افسوس’کے سوکچھ اورنہیں ہوتا۔سب سے خوب صورت بات یہ ہے۔شاعرکوشعوروادراک کی ایسی نعمت عطاہوئی ہے۔جواسے بتاتی رہتی ہے۔” دوراہوں پراکثر ایسے ہوتاہے”۔لیکن کہیں کہیں آنس خودبھی رک جاتاہے۔شکستوں کے جال نے اس کے وجودکوگھیررکھاہے۔کبھی کبھی وہ خودبھی چونک اٹھتاہے۔اپنے آپ سے ڈرجاتاہے۔

گونجتاہے بدن میں سناٹا

کوئی خالی مکان ہو جیسے

انبیاؑ تلمیذالرحمٰن ہوتے ہیں۔یاپھرچنیدہ اولیا اللہ طاہری تعلیم نہ ہونے کے باوجودباطنی علم سے اس قدرمزین ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتے ہے۔اس کے لیے “حضرت بایزیدبسطامی” کی زندگی اور پانچ سو عیسائی راہبوں سے ن کا مناظرہ دیکھاجاسکتاہے۔یاپھر”الابریز”کامطالہ کیاجاسکتاہے۔آنس کو فرت سے حیران کن صلاحیتیں عطاہوئیں لیکن نہ ماحول ساز گارملا نہ کوئی ایساراہبر(مرشد)ملاجو”تھل ماڑوداساراپینڈا” اک نگاسے طے کرادیتا۔بقول اقبال “عشق کی اک جست نے طے کردیاقصہ تمام”یہ مرحلہ نہیں آسکا۔لہذا بعض اوقات اندرکی روشنی ڈرکاسبب بنی۔اب انہدمرلی نے گنبدِروح میں جب”سرِکن فکاں”تان چھیڑی توآنس اسے سناٹے کی گونج سمجھ بیٹھا۔اوراسے مادی دنیاکے معاملات میں شامل کر دیا۔کیوں کہ معاشرہ اورٹوٹتی ہوئی معاشرے کی تنابیں،اس کے سامنے تھیں۔اورکبھی کہہ اٹھتاہے۔ڈرناہوتوانجانی آواز سے ڈرنا”۔آنساپنے آپ میں واضح نہیں ہے۔وجہ سامنے ہے،باطنی عطاکے ساتھ ساتھ،ظاہری راہنماکی ضرورت بھی پڑتی ہے۔وہ صرف نبی ہواکرتاہے جودنیاوی علل سے بے نیازہوتاہے۔اب سناٹے کی گونج سے ڈر پیداہواہے۔اورظاہری تنہائی کو”وہ خالی مکاں”سمجھ رہاہے۔یہاں سے آنس کی شخصیت میں شک سرابھارناشروع کرتاہے۔

عجیب شورسااک جسم وجاں میں رہتاہے

ہواکازوربھی خالی مکاں میں رہتاہے

آنِؔس کو’وہ سِر’شورمحسوس ہوتاہے۔اورآنس کے سامنے ایساکوئی نمونہ موجودنہیں ہے۔جسے وہ پیشوا یا راہبر مان لے۔اس کی تربیت اس انداز سے نہیں ہوئی۔وہ نازونعم میں پلاہے۔وہ سادات گھرانے کاچشم وچراغ ہے۔اس نے آنکھ کھولی تودورکے اہم ترین لوگوں نے اسے’کم سن سقراط’ اور’چھوٹی عمرکابزرگ دانش ور’ کہا۔اسے تومعلوم ہی نہیں ہوا کہ ابھی تو ابتدائے عشق تھی۔یہ دنیا نہ تھی کسی اور دنیا کے راز تھے جو آنِؔس معین عالمِ ناسوت میں تلاش کرتارہا۔نتیجہ یہ نکلا کہ بدن اورروح میں فاصلے بڑھنے لگے۔

خالی ہے مکاں پھربھی دیے جاتے ہو دستک

کہ روزنِ دیوار سے اندر نہیں دیکھا

عجب طرح کی مدہوشی کااثر اورغیریقینی کہ دروازہ پیٹتے رہے،اس طرف دھیان بھی نہیں گیا کہ مکاں خالی بھی توہوسکتاہے۔مسلسل دستک اور روزن سے نہ دیکھنا، عجب ذہنی کیفیت کی عکاسی کررہاہے۔چوں کہ مکیں جاچکے ہیں۔اوراتنی خاموشی سے گئے ہیں کہ کسی کوکچھ پتانہیں چلا۔اب خالی مکاں ایک سوال بن کر ابھررہا ہے۔دوسری طرف:

دستکیں دینے سے پہلے سوچ لو

بنددروازے کے پیچھے کون ہے؟

اس طرح اب دیکھتاہوں آئینہ

جیسے کوئی خود سے پوچھے۔ کون ہے؟

دستک تودے رہے ہو؟لیکن تم ایک ایسی جگہ پر ہو جو بالکل نئی ہے۔مکاں کس کا ہے؟ مکیں کون ہے؟ جواب کیا مل سکتا ہے؟ اتنی ساری باتوں کاجواب کہاں سے ملے گا؟ آپ نے دیکھا جب روح اور بدن میں بعد کی کیفیت اجگرہونے لگی۔جب طائرِ روح کو جسد ایک بند پنجرے سے زیادہ کچھ بھی نہ لگا۔تو پہلے یہ احساس پیدا ہواکہ دستک دے کے دیکھ لیاجائے۔اب شاعراس خوف میں مبتلاہے کہ:”تیرگی من میں نہ درآئے کہیں”اسے اپنے جسم کے مکاں کے خالی ہونے کاپتاہی نہیں چلا۔اوردوسرے شعرمیں وہ یقیں بھی کھو چکا ہے۔اور کہتا ہے پہلے سوچ لو بند دروازے کے پیچھے کون ہے؟اپنی ذات کی اک روشن جہاں تھا؟ اب اس کے لیے نادیدہ جزیرہ یا ایک ان جانی دنیابن گیاہے۔یہ اس لیے ہوا کہ باہر کواندرکی طاقت نہیں ملی۔من وتوایک نہیں ہو سکے۔اوربات ایں جارسید:”آئینہ دیکھتاہوں اور خود سے سوال

کرتاہوں”جیسے کوئی خودسے پوچھے کون ہے؟”۔

بازارمیں خوش بوکے خریدارکہاں ہیں؟

یہ پھول ہیں بے رنگ بتادیں توکسے دیں؟

چپ رہنے کی ہرشخص قسم کھائے ہوئے ہے

ہم زہربھراجام بھلادیں توکسے دیں؟

اب بات حقیقت تک پنچ چکی ہے۔وہ بے رنگ حقیقت جوکائنات کی اصل ہے۔لیکن اہلِ دنیاظاہری چمک دمک اورریاوتصنع کے دل دادہ ہیں۔اورمیرے پاس ہیں توپھول مگربے رنگ ہیں۔ان کون ان بے رنگ پھولوں کو دیکھگا، خریدنے کامرحلہ توبعدکی بات ہے؟منافقت کے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔طلب کی دلدل نے ہربوالہوس کو جکڑ لیاہے۔اب ہرطرف بے دست پاابدان پڑے ہیں۔جونہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم مجبورہیں(جھوٹی انا)،نہ کسی کوبلاتے ہیں کہ چھٹکارے کی کوئی صورت ہو(منافقت)،اب بےرنگ پھولوں کوکوں خریدے؟چوں کہ حرص وہوس،لالچ وخودپردتی نے بدحال کررکھاہے۔خود دلدل میں ہیں لیکن بتاتے نہیں کہ ہم دلدل میں ہیں۔دوسرے بچ جائیں یابچاؤکاکوئی طریقہ سوچیں!معلوم اس وقت ہوتاہے جب ایک آوازکے ساتھ کوئی اور بھی ان میں آن شامل ہوتاہے۔ہرشخص نے مجرم خاموشی اختیارکرکھی ہے۔اب سچ کازہرکون پیئے؟

شورتو یوں اٹھاتھا جیسے اک طوفاں ہو

سناٹے میں جانے کیسے ڈوب گیاہے

آخری خواہش پوری کرکے جینا کیسا؟

آنِؔس بھی ساحل تک آکے ڈوب گیاہے

‘ہرنئے حاثے پہ حیرانی،پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی’عموماً شورکاپیداہوناایک ان ہونی کے ہونے کی خبرہوتاہے۔اوریہ شورتاکسی طوفاں کے اٹھنے کامحسوس ہوت اتھا۔لیکن یہ کیاہواکہ سناٹے کے طلسم نے اسے بھی نگل لیا۔اوراب یوں خاموشی ہے کہ جیسے کچھ ہواہی نہیں۔وہ لاشعورجوآنس کو انتہائے مایوس میں بھی نئی منزلوں کی طرف لے جاتاہے۔وہ کسی نہ کسی تبدیلی کے ذریعے سے اپنااظارکرتاہے۔لیکن ہربارناکامیابی اسے ایک ایسی حالت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔جہاں حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔

جب کشتی ثابت وسالم تھی،ساحل کی تمناکس کوتھی

اب اس شکستہ کشتی میں ساحل کی تمناکون کرے؟

ساحل کی تمناکسے نہیں ہوتی ؟لیکن آخری خواہش کے طور،اگرتمام کوشِ پیہم کاحاصل ‘کفِ افسوس’ہوتوساحل کوقبول کرنا،بھی ‘اک اناکی بات بن جاتی ہے’۔ اس لیے آنس نے بھی ساحل سے پہلے پتوار ڈال دیے۔’اب لیے پھرتاہے دریاہم کو’۔امیدتواب بھی تھی کہ ہواؤں کا رخ ابھی اتنا بے یقیں نہیں ہواتھا۔موسم نے شدت اختیارنہیں کی تھی۔

اناکی دیوارٹوٹنے میں ہے دیرآنِؔس

وجودمیرا ابھی میرے اختیار میں ہے

حوصلے ابھی جواں ہیں۔اپنی ذات پراب بھی بھروسا ہے۔وجودپر اختیاربھی باقی ہے۔حالات نہیں بگڑے۔لیکن” ایک اوردریاکاسامناتھامنیرمجھ کو”

سلجھی تھیں گھتیاں مری دانست میں مگر

حاصل یہ ہے کہ زخموں کے ٹانکے اکھڑ گئے

نروان کیا،بس اب تواماں کی تلاش ہے

تہذیب پھیلنے لگی،جنگل سکڑ گئے

اس بند گھرمیں کیسے کہوں کیاطلسم ہے

کھولے تھے جتنے قفل،وہ ہونٹوں پہ پڑ گئے

آنس کے وجودکے اندرایک اعصاب شکن جنگ جاری رہی۔اورہمیشہ آخری لمحوں میں کوئی سوارپیادے کوبچالیتاتھا۔یہ ایسی کمک تھی،جو آنس کو واضح طورپرسمجھ نہ آسکی۔لیکن وہ لاشعوری طورپر اس کی روشنی میں چلتابھی رہا۔اورایک کش مکش مسلسل اس حاصل کامقدربھی رہی۔لیکن محبتوں (ظاہری)کے تمام رشتے ایک ایسے معاشرتی دائرے میں قیدتھے جواسے کوئی بھی لائحۂ عمل طےکرنے کی مکمل آزادی نہ دے سکے۔نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی عمل مکمل تقین سے نہیں ہوپایا۔ آنس سمجھتارہاکہ ‘گتھیاں سلجھ رہی ہیں’،لیکن ہواکیا؟وہ وجود جو پہلے ہی زخم زخم (روحانی کرب) تھا۔ دکھ کی شدت میں اوراضافہ ہو گیا۔شکتیوں کی تلاش یاگیان کی منزل توخواب وخیال ہونے لگی اب ‘اماں’کے لالے پڑ گئے۔تہذیب نے ہریالی کونگل لیا۔

جن کی سانس کا ہرجھونکا تھا ایک عجیب طلسم

قاتل تیشے چیرگئے ان ساونتوں کے جسم

(مجیدامجد)

اورجگہ پھربھی تنگ رہی ،ایسے بندگھربنائے گئے کہ ان میں عجب سحرتھا،ایک عجیب طلسماتی فضاتھی۔گھرکےجتنے تالے کھولے تھے۔وہ سب کے سب ہونٹوں پہ لگ گئے۔کوئی کچھ نہیں بولے گا۔کمرے بڑھ گئے،تعلق کٹ گئے۔ہرفرداپنی ذات میں انجمن بن گیا۔کسی کوکسی کی حاجت نہ رہی۔آنس نے اپنی شاعری میں اس وقت بے چہرگی کے کرب کوبیان کیاجب کہ یہ لہرابھی مشرق میں پہنچی ہی نہیں تھی۔ابھی یورپ کے مے خانےاپنی شناخت ڈھونڈ رہے تھے۔اب زباں چپ،کسی کے معاملات میں نہیں بولنا،سچ کوسچ اورجھوٹ کوجھوٹ نہیں کہہسکتے!اک عجیب معاشرتی تبدیلی واقع ہوئی۔یوں اظہار ،اظہارنہ رہا۔بل کہ جھاگ کوہی دودھ سمجھ کرقبول کرنے کی تربیت ہونے لگی۔اندر کاانساں اپنے “اوراندر”سمٹ گیا۔ اب یقیں کی رفعتوں کو شکوک کی آندھیوں نے گھیرناشروع کیا۔

توجستجوئے سحرمیں نکلے تواس قدراحتیاط رکھنا

کہ تیری پرچھائیں تک بھی تجھ کوقدم بڑھاتےہوئےنہ دیکھے

کسی سے بات کرتے ہوئے اندیشوں نے سراٹھانے شروع کیے۔یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی اس رازداری سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی کہ ‘دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں’۔اب رازداری کی زمانے لدگئے۔اپنے آپ کوسرکوشی کے انداز میں نصیحت ہونے لگی”جسجوئے سحرمیں نکلےتو۔۔۔۔۔۔تیری پرچھائیں بھی تجھ کوقدم بڑھاتے ہوئے نہ دیکھے”یہ کیفیت اس بات کابین ثبوت ہے کہ شاعر ایک ایسی منزل پرآگیاہے۔کہ اب کسی کوآزمانہ یاامتحان میں ڈالنا، ممکن نہیں رہا۔اعتماد ویقیں کے سارے رشتے اپنابھرم کھوچکے ہیں۔اب جوکچھ بھی کرناہے۔اپنے بھروسے اوراپنے بازوؤں کی طاقت سے کرناہے۔رازکی حفاظت کرنی ہے۔پھرشاعرپر زندگی کاایک اورزاویہ ظاہر ہوتاہے۔

ہزارقمقموں سے جگ مگااٹھاہے گھرلیکن

جومن میں جھانک کردیکھوں توروشنی کم ہے

جگ مگ جمگ مگ،نیروتاباں،روشنی ہی روشنی،لیکن “کاں حرامی چھڑنڑ نہ ڈیندا۔۔۔اوڈھاپیچھاجات مریندا۔۔۔کیتاکم خراب کریندا۔۔۔،آنس نے ایک اورجگہ کہہ رکھاہے۔

تیرگی من میں نہ درآئے کہیں

آنکھ شب کے درمیاں مت کھولنا

باہرکی چکاچوندنے من کی ظلمت کودورنہیں کیا؟شکیب جلالی کاایک شعربے طرح یادآرہاہے۔آپ بھی سن لیجیے:

وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

میں اس گلی میں اکیلاتھا،اورسائے بہت

لیکن ایک بات دھیان میں رہے۔شاعرنے سادیت کااظہاراب بھی نہیں کیا۔روشنی توہے مگرکم ہے۔’دھندلے دھندلے ہیں ابھی ترے پیکرکے خطوط’۔

توبھی کیامری طرح سےجاگتاہے رات بھر

تیرے گھرمیں بھی کہیں اک آدھ کھلادرتونہیں

قفل توکھل گئے،مگرانھیں لگانے کارواج نہ رہا۔چوں کہ وہ ہونٹوں پہ پڑ گئے تھے۔وہاں سے کھلتے توکہیں اوربھی پڑتے۔اس جبرنے شاعرکوبے خوابی کے عذاب میں مبتلاکردیا۔ایک بارپھرایک”تو”کاذکرہوتاہے،”شایدابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں’۔خدشات ایک جسے ہیں۔انھیں ایک فردپر،گھرپر،معاشرے پر یاقوم پر چسپاں کردیجیے۔کیاتمھیں بھی نیندنہیں آتی؟کیامیری طرح تمھارے گھرکابھی کوئی دروازہ ایساتونہیں جو”در” (کھلا) ہو؟یہ عمربھرکارت جگاکس وجہ سے لگ گیاہے۔پہلے مسائل کیاکم تھے؟کہ اب اک نیاستم۔بہرحال اب شاعر بیک وقت کئی محاذوں پربرسرِ پیکا رہے۔اس کے اندرایک خوف ناک جنگ جاری ہے؟اسے اندیشہ ہائے من وتو اورکون ومکاں نے گھیررکھاہے؟اسے معاشرتی جبر،اورروحانی کرب کابھی سامناہے۔اب گھراوررت جگابھی اس میں شامل ہوگیاہے۔لیکن وقی ناکامیابی شاعرکو مضمحل نہیں کرتی، شاعراس سے بھی امیدکی کرن کشیدکرلیتاہے۔اورایک نئی مہم پرجانے کے لیے کمربند ہوجاتاہے۔

دل کے اندرتوشب نہیں ہوتی

ایک سورج کے ڈوب جانے سے

شب فطرت کاایک مظہر(Phenomenon

) ہے۔سورج کاڈوبنابھی کوئی اچنبے کی بات نہیں۔روزڈوبتاہے۔اوراس سے یہ ظاہر نہیں ہوتاکہ اب سورج دوبارا نہیں نکلے گا؟یااب صرف تیرگی کاراج ہوجائے گا؟اوراگرماتاب دوب بھی گیاہے توکیاہوا؟”دل کے اندرتوشب نہیں ہوتی”کیوں کہ :

ہے میرے اندر بسی ہوئی ہے ایک دنیا

مگرتم نے کبھی اتنا لمبا سفر کیا ہے

یہ مرحلہ بھی شاعرکے لیے مہمیزکاکام کرتاہے اورشاعرخودکوایک اورمنزل کی طرف لے جاتاہے۔

اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنِؔس

باہر کھلنے والی کھڑکی بندپڑی ہے

اگرچہ پہلے بھی شاعرکوباہرسے کوئی امدادنہیں ملتی تھی۔لیکن اب تو وہ’کھڑکی’ (ربط کازریعہ) بندپڑی ہے۔اس لیے اپنے من کی دنیاسے تعلق مضبوط کرو۔

یہ بوجھ اک صلیب کا میں کس طرح اٹھاؤں گا

اس آگہی کے کرب کو میں کیسے جھیل پاؤں گا

اب شاعر نے آکراپنے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں۔میں صلیب کابوجھ نہیں اٹھاسکتا؟(یعنییہ علم ہونے کے باوجودکہ میں سچاہوں۔لوگ مری بات نہیں مانتے۔ اور پھر بھی صلیب پر لٹکنا، شاعر کہتا ہے۔شایدیہ مجھ سے نہیں ہو سکے گا۔اوراس رازکو”آگہی کے کرب”سے تشبیہ دی ہے۔کہ شاید میں اسے برداشت نہیں کرپاؤں گا۔

“کب بارِتبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا”

آنس نے اب تک(جوغزلیات،اشعراورفردیات جومرے پاس ہیں)میں خالصتاً! تصوف کی کوئی اصطلاح استعمال نہیں کی۔یہ شعوری کوشش ہے یا لاشعوری،تمام کلام سامنے آنے کے بعداس پرکچھ کہاجاسکتاہے۔یا پھر سید فخرالدین بلے (والد گرامی)،ظفرمعین بلے(بھائی) اورآمنہ (بہن) کاکوئی انٹرویو (مصاحبہ)کہیں شائع ہوا ہو،یاان سے کیاجائے۔توکچھ باتیں سامنے آسکتی ہیں۔لیکن آنِؔس اب تھک چکاہے۔اپنی ذات سے جنگ، معاشرتی اقدار کو کھو کھلا کرتی ہے۔

تحریر و تحقیق :مظہرفریدی


https://aalmiakhbar.com/archives/130722


آنس معین کاسوانحی خاکہ ......... تحریر و ترتیب: طفیل ہوشیار پوری

نام: سَیّد آنؔس معین

ادبی نام :آنؔس معین

تخلص : آنؔس

مقام و تاریخ ِ ولادت: لاہور:29نومبر1960

محمد طفیل (مدیر نقوش) احمد ندیم قاسمی ( مدیر فنون ) اور جوش ملیح آبادی نے یکے بعد دیگرے آنس معین کے کان میں اذان دی۔

والد کا نام : سَیّد فخرالدین بَلّے

والدہ کانام : مہرافروز بَلّے

دادا کا نام : سَیّد غلام ِ معین الدین چشتی

مورث ِ اعلیٰ:خواجہ خواجگاں حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری

بہن بھائی: بالترتیب:

1۔عذراکمال

۔2۔سیدانجم معین بلے

3۔سیدہ اسماء رضوان

۔4۔سیدعارف معین بلے

۔5۔سیدہ نازاظہر

6۔سیدہ آمنہ آصف

7۔سیدظفرمعین بلے۔

{اپنے بہن بھائیوں میں آنس معین کاپانچواں نمبر تھا}

میٹرک: [ فرسٹ  ڈویژن]1973.

ایف۔اے:  گورنمنٹ سول لائنز کالج، ملتان  1976.

بی ۔ اے: گورنمنٹ کالج اصغر مال روڈ ، راولپنڈی . 1978.

شاعری کاآغاز:  1977

آنس معین کا پہلا شعر

آخر کوروح توڑ ہی دے گی حصار ِ  جسم

کب تک اسیر خوشبو رہے گی  گلاب میں

ایم اے اردو:باقاٰعدہ تیاری کاآغاز 1977میں کیا۔ کئی کئی گھنٹےذاتی اور کالجزاور دیگراداروں  کی لائبریریوں میں  مصروف رہتے۔

ملازمت: آفیسر یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ

ترقی: اسٹاف آفیسر کے عہدے پر جلد ہی فائز کردئیےگئے

امتیاز: فارن ایکسچینج کی ٹریننگ  میں پوزیشن حاصل کی

فارن پوسٹنگ : جولائی اگست 1986میں ہونا تھی۔

آخری غزل کاایک شعر

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گاکوئی  اور

دُکھ مجھ کو ہے اور نِیر بہائےگا کوئی  اور

آخری خط : بنام ابو اور امی۔بتاریخ:4فروری 1986

آخری شعر:

ڈوبا نہیں خورشید، اُفق پار گیا ہے

دیوار کوڈھانے پس ِ دیوار گیا ہے

مقام و تاریخ ِ وفات: ملتان۔5فروری 1986

آخری آرام گاہ:

قبرستان نور شاہ بخاری، بہاول پور

پسندیدہ کھیل:

شطرنج ۔ بِرٌج ۔ شطرنج کے بڑے بڑے ٹورنامنٹ کھیلےاور بڑے بڑےشاطروں کومات دی۔ بریج کھیل کر بڑے بڑے کھلاڑیوں سے داد و تحسین حاصل کی۔

غزلیں : آنس معین نے 400سے450 تک غزلیں کہیں

نظمیں؛ آنس معین نے 200سے250نظمیں تخلیق کیں

حلقہ ء احباب:

جوش ملیح آبادی ، مرتضیٰ برلاس،فیض احمد فیض ،ڈاکٹروزیرآغا، ڈاکٹروحید قریشی، احمد ندیم قاسمی ،جابرعلی سید، محمد طفیل (مدیر نقوش) , احمد ندیم قاسمی . ڈاکٹرخورشید رضوی ،ڈاکٹرمقصودزاہدی، ممتاز العیشی، ڈاکٹر ہلال جعفری، غلام جیلانی اصغر، اسلم انصاری، ارشد ملتانی، ممتازاطہر، پرویزبزمی، چوہدری عبدالرحمان، سید سلطان احمد، انجم اعظمی اور بہت سے دیگر نامور ادبا اور شعرا اس فہرست میں شامل ہیں

خد و خال :-

بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ،� سورج سا دمکتا ہوا اور روشن چہرہ�، لانبی گردن ،�ستواں ناک ، میر کے کےمصرعوں کی طرح نازک بلکہ باریک ہونٹ�، بھورے مگر کسی قدر گھنگریالے بال�، ہونٹوں پر ہمہ وقت مسکراہٹ�، طبیعت میں نزاکت ،�چال میں تمکنت�، لہجے میں وقار ،مزاج میں نفاست ،باتوں میں ںشائستگی ،طور اطوار میں زندگی ،�دبلا پتلا جسم ایسا لگتا ہے کہ آنس معین اپنی خوبصورت شخصیت کےتمام خدو خال کےساتھ میرے سامنے کھڑا ہے ۔ (مرتضی برلاس )


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]