آنند بخشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آنند بخشی
Anand Bakshi.tif
 

معلومات شخصیت
پیدائش 21 جولا‎ئی 1930  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 مارچ 2002 (72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  غنائی شاعر،  نغمہ نگار،  شاعر،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

21 جولائی 1930ء کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والے بھارتی فلمی نغمہ نگار کا اصل نام بخشی آنند پرکاش وید تھا۔ پانچ سال کی عمر میں ان کی والدہ کا انتقال ہوا اور ست17 برس کی عمر میں اکتوبر 1947ء کو ان کے خاندان نے پاکستان چھوڑ کر دہلی بھارت ہجرت کی۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے رائل انڈین نیوی میں شمولیت اختیار کی جس کو دو سال بعد چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے تو تقریباً 20 سال وہاں خدمات انجام دیتے رہے اور اپنی شاعری اور گیتوں کو لکھنے کا شوق بھی پورا کرتے رہے۔ وہ خوبصورت آواز کے مالک بھی تھے اسی طرح کبھی کبھی اپنے ساتھیوں کے بیچ اپنے گیتوں کو گا بھی لیتے لیکن یہ سب محدود دوستوں کے درمیان ہوتا رہا البتہ انہوں نے فلم نگری میں گیت نگار کی حیثیت سے جانے کی کوشش ضرور کی۔ 1958ء میں بھلا آدمی کے لیے پہلی بار چار گیت لکھے جن میں ان کی آواز میں ایک گیت دھرتی کے لال نہ کر اتنا ملال بھی شامل تھا جس کی موسیقی نثار بزمی نے ترتیب دی تھی جو بعد میں پاکستان کے بڑے موسیقاروں میں شمار ہوئے۔ آنند بخشی کو کامیابی سے ہم کنار ہونے کے لیے ابھی سات سال مزید درکار تھے جب فلم جب جب پھول کھلے میں ان کے گیتوں، پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا، یہ سناں، سناں ہے یہ پیار کا اور بایک تھا گل اور ایک تھی بلبل نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 40 بار انہیں فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا جس سے ان کی فنی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کثرت سگریٹ و شراب نوشی کے باعث ان کو دل اور پھیپھڑوں کے عارضہ لاحق رہا۔ ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں دل کے آپریشن کے بعد انہیں انفیکشن ہو گیا جس کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھیں اور 30 مارچ 2002ء کو خوبصورت گیت لکھنے والا تخلیق کار ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]