آوارہ ہوں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گانے کے بول

آوارہ ہوں

آوارہ ہوں

یا گردش میں ہوں

آسمان کا تارہ ہوں

آوارہ ہوں

آوارہ ہوں

یا گردش میں ہوں

آسمان کا تارہ ہوں

آوارہ ہوں

گھر بار نہیں

سنسار نہیں

مجھ سے کسی کو پیار نہیں

مجھ سے کسی کو پیار نہیں

اس پار کسی سے ملنے کا اقرار نہیں

مجھ سے کسی کو پیار نہیں

مجھ سے کسی کو پیار نہیں

سنسان نگر انجان  ڈگر کا پیارا ہوں

آوارہ ہوں

آوارہ ہوں

یا گردش میں ہوں

آسمان کا تارہ ہوں

آوارہ ہوں

آباد نہیں برباد سہی

گاتا ہوں خوشی کے گیت مگر

گاتا ہوں خوشی کے گیت مگر

زخموں سے بھرا سینہ ہے میرا

ہنستی ہے مگر یہ مست نظر

دنیا

دنیا میں تیرے تیر کا یا تقدیر کا مارا ہوں

آوارہ ہوں

آوارہ ہوں

یا گردش میں ہوں

آسمان کا تارہ ہوں

آوارہ ہوں

آوارہ ہوں

آوارہ ہوں


"آوارہ ہوں"
گیت by مکیش
from the album آوارہ
زبان اردو زبان
ریلیز 14 دسمبر 1951ء
صنف فلمی گیت
گیت نگار شائیلیندرا
کمپوزر شنکر جے کشن
پروڈوسر راج کپور
گیت:  آوارہ ہوں

آوارہ ہوں ہندوستانی فلم آوارہ (1951ء) میں ہندوستانی اداکار راج کپور پر فلمایا گیا ایک گیت ہے۔[1]

پس منظر[ترمیم]

یہ گیت مشہور نغمہ نگار شائیلیندرا نے اردو زبان میں لکھا جسے راج کپور نے فلم آوارہ (1951ء) کے لیے منتخب کیا۔ یہ گیت مکیش (گلوکار) نے گایا اور موسیقی بھارتی موسیقار جوڑی شنکر جے کشن نے ترتیب دی تھی۔

شہرت[ترمیم]

یہ گیت بے حد مقبول ہوا۔ چین کے کچھ ذرائع کے مطابق ماؤ زے تنگ اِس فلم اور گیت کو پسند کرتے تھے۔[2] سوویت اتحاد کے دور میں یہ گیت اُن علاقوں میں بھی پسند کیا جاتا رہا۔ مئی 2013ء میں برطانوی نشریاتی ادارہ نے بھارتی سنیما کی 100 ویں تقریب میں عوامی رائے لی تھی جس کے مطابق یہ گیت بھارت کا دوسرا مقبول ترین گیت ہے۔ یونان، مشرق وسطیٰ اور ترکی میں اِس گیت کے ترجمے کیے گئے۔

آوارہ (1951ء) میں نرگس دت بطور اداکارہ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]