آپریشن رد الفساد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آپریشن رد الفساد
بسلسلہ شمال مغرب پاکستان میں جنگ
اور دہشت کے خلاف جنگ
تاریخ22 فروری 2017 – جاری
مقامپاکستان
حیثیت جاری
محارب
Flag of پاکستان پاکستان

جماعت الاحرار

تحریک طالبان پاکستان
لشکرجھنگوی العالمی
کمانڈر اور رہنما

پاکستان
صدر پاکستان
ممنون حسین

وزیر اعظم پاکستان
نواز شریف

آرمی چیف
قمر جاوید باجوہ

چیئ‌رمین جے سی ایس سی
زبیر محمود حیات

ڈی جی آئی ایس آیس
نوید مختار

ائیر مارشل
سہیل امین

نیول اسٹاف

محمد ذکا اللہ

جماعت الحرار
عمر خالد خراسانی

تحریک طالبان پاکستان
ملا فضل اللہ
طاقت
پاک فوج
پاک فضائیہ
پاک بحریہ
Paramilitary Forces
نفاذ قانون کے ادارے (پاکستان)
جماعت الاحرار
تحریک طالبان پاکستان
لشکرجھنگوی al-Alami
ہلاکتیں اور نقصانات
4 militants killed[1]

22 فروری 2017ء، پاک فوج نے پاکستان میں ایک نئے آپریشن 'آپریشن رد الفساد' (رَدُّالفَسَاد) کا اعلان کیا جو ملک بھر میں شروع کیا گیا۔[2][3] آپریشن کا مقصد بچے کچے دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنے، چھپے دہشت گردوں کو تلاش کرنے پر مشتمل ہے تاکہ، اب تک کی جانے والی کارروائیوں کے فوائد کو پختہ کیا جائے اور سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔[4]پاک فضائیہ، پاک بحریہ، دیوانی مسلح افواج اور دیگر سلامتی / قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے / تاکہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کیا جا سکے۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Four نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. "پاکستان Army launches 'Operation Radd-ul-Fasaad' across the country"۔ Dawn.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ نے پاکستان میں آپریشن رد الفساد کا اعلان کر دیا"۔ pakistanstack.com۔
  4. "Announced Radd ul Fasad Opertion"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "Operation Radd-ul-Fasaad"۔ ispr.gov.pk۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔