مندرجات کا رخ کریں

آہنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

آہنگ (انگریزی: Pitch) (استعداد آواز) آواز کی خصوصیت جو اس کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر دوسری آوازوں میں فرق کا احساس دلاتی ہے۔ اس کا انحصار عام طور پر آواز کی لہروں پر ہوتا ہے۔[1]

آہنگ موسیقی اور صوتیات (acoustics) کی ایک بنیادی خصوصیت ہے اور اسے موسیقی میں عموماً سُر کہتے ہیں۔ یہ آواز کی بلندی یا گہرائی کو ظاہر کرتی ہے اور موسیقی کے چار بڑے صوتی اوصاف (auditory attributes) میں سے ایک ہے۔ دوسرے اوصاف میں مدت (duration)، شدت (loudness) اور ٹمبر (timbre) شامل ہیں۔ آہنگ یا سُر کو عام طور پر فریکوئنسی (frequency) کے ذریعے ماپا جاتا ہے (مثلاً ہرٹز میں)، مگر یہ محض ایک جسمانی خاصیت نہیں ہے۔ آہنگ یا پچ ایک ذاتی نفسیاتی صوتی خصوصیت (subjective psychoacoustical attribute) ہے یعنی یہ سننے والے کے دماغی ادراک پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک ہی فریکوئنسی مختلف حالات میں مختلف لوگوں کو مختلف پچ محسوس ہو سکتی ہے۔

نفسیاتی صوتیات میں اہمیت

[ترمیم]

تاریخی طور پر آہنگ اور آہنگ کا ادراک (pitch perception) نفسیاتی صوتیات (psychoacoustics) کا ایک مرکزی مسئلہ رہا ہے۔ اس مطالعے نے سمعی نظام (auditory system) میں آواز کی نمائندگی، پروسیسنگ اور ادراک کی تھیوریوں کی تشکیل اور جانچ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آہنگ (pitch) کا ادراک انسانی کان کی اندرونی ساخت، دماغی عملیات اور تجربے پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ موسیقی کی شناخت، ہم آہنگی (harmony)، دھن (melody) اور آواز کی پہچان کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

آہنگ کے عوامل

[ترمیم]
  • فریکوئنسی (Frequency)
  • شدت اور مدت کا اثر
  • سمعی سیاق و سباق (context)
  • سننے والے کا تجربہ اور ثقافتی پس منظر

اردو تنقید اور موسيقى میں استعمال

[ترمیم]

ادبی اور شعری تنقید میں جب ادائیگی کی بات کی جاتی ہے توآہنگ اس کا ایک اہم جزو ہوتی ہے۔ شاعری کی ادائیگی، ترنگ اور صوتی تاثر میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ غزل، نظم یا مسدس کی آواز میں بلند اور گہرے سر کا انتخاب شعر کے جذباتی اور فکری اثر کو تبدیل کر دیتا ہے۔

تارکول کی مثال

[ترمیم]

رال؛ پچ؛ زفت؛ دھونا، قیر؛ تلچھٹ؛ تارکول؛ ان متعدد گہرے رنگ کے مضبوط یا لیس دار مادوں میں سے کوئی ایک جو جہاز کے چوبی فرش کی درزیں بھرنے کے بعد انھیں ڈھکنے کے لیے یا سڑک بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کول تار؛ رال جو تار کول کی کشید کے بعد باقی رہتی ہے یا چوبی رال جو اسی طرح چوبی تارکول سے حاصل کی گئی ہو؛ متعدد قیروں میں سے کوئی ایک؛ معدنی رال؛ اسفال/اسفالٹ، متعدد مختلف اقسام کی رالوں میں سے کوئی ایک؛ شیرہ یا کچی تارپین جو صنوبر کے درخت کی چھال سے نکلتی ہے۔ (فعل متعدی) رال کے ساتھ یا اس کی طرح جیسے گویا رال کے ساتھ ملا دینا، لیپنا یا اس کو اوپر ڈال کر اس سے ڈھک دینا۔[2]

آہنگ دیگر فنون میں

[ترمیم]

ادب میں بھی آہنگ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے مگر اسے عموماً شاعری کے پیرائے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

آہنگ (ادبی اصطلاح)

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. سید اقبال امروہوی، نفسیات کا انسائیکلوپیڈیا، نگارشات پبلشرز 24 - مزنگ روڈ لاہور، 2006ء
  2. آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت، ادارۂ فروغِ قومی زبان اسلام آباد پاکستان