آیات سجدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قرآن کی وہ آیات جن کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ ان آیات پر سجدہ کرنا متفق علیہ ہے، مگر اس کے واجب ہونے میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے۔

نبی کا عمل[ترمیم]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بسا اوقات ایک بڑے مجمع میں قرآن پڑھتے اور اس میں جب آیت سجدہ آتی توآپ خود بھی سجدہ کرتے اور جو صحابی جہاں ہوتا، وہیں سجدہ ریز ہو جاتا، اگر کسی کو جگہ نہ ملتی تو وہ اپنے آگے والے شخص کی پیٹھ پر سر رکھ دیتا۔ یہ بھی روایات میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر قرآن پڑھا اور اس میں جب آیت سجدہ آئی توجو لوگ زمین پر کھڑے تھے، انہوں نے زمین پر سجدہ کیا اور جو گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے، وہ اپنی اپنی سواریوں پر ہی جھک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی دوران خطبہ آیت سجدہ پڑھی تو منبرسے اتر کر سجدہ کیا اور پھر اوپر جا کرخطبہ شروع کر دیا۔

طریقہ سجدہ[ترمیم]

اس سجدہ کے لیے نماز کی سی ہی شرطیں ہیں، یعنی باوضو، قبلہ رو ہونا اور نماز کی طرح زمیں پر سر رکھنا۔

مقامات[ترمیم]

وہ چودہ مقام جن پر سجدہ واجب ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]