آیت‌ اللہ سید علی خامنہ ای

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آیت اللہ علی خامنہ ای
Seyyed Ali Khamenei.jpg
سپریم لیڈر ۔ اسلامی جمہوریہ ایران
دفتر سنبھالا
4 جون 1989ء
وزیر اعظم محمود احمدی نژاد ۔ محمد خاتمی ۔ اکبر ہاشمی رفسنجانی
پیشرو روح اللہ خمینی
ذاتی تفصیلات
پیدائش 17 اپریل 1939 (1939-04-17) ‏(77)
مشہد مقدس، ایران
مذہب شیعہ
ویب سائٹ ذاتی موقع روئے خط

آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای 17 جولائی 1939ء کو ایران کے اہم مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے اور موجودہ رہبر معظم (سپریم لیڈر) ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایران کے وزیرِ دفاع اور صدر بھی رہ چکے ہیں۔ [1] اس سے پہلے روح اللہ خمینی ایران کے سپریم لیڈر رہ چکے ہیں۔ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد آیت اللہ خامنہ ای 4 جون 1989ء کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

پیدائش، ابتدائی تعلیم[ترمیم]

‎آیت اللہ خامنہ ای

‎ خامنہ ای‏ 1318 ہجری شمسی میں شہر مشہد کے ایک روحانی خاندان میں پیداہوئے ان کے والد آیت اللہ آقائے سیدجواد مشہد کے محترم علماء ومجتہدوں میں گنے جاتے تھے اوران کے دادا آیت اللہ سید حسین خامنہ ای آذربائیجان کے تھے اورنجف اشرف میں رہتے تھے۔

آیت اللہ العظمی سیدعلی حسینی خامنہ ای پانچ سال کی عمرمیں اپنے بڑے بھائی آقا سید محمد کے ساتھ ایک مکتب میں جانے لگے اورکچھ وقت کے بعد ”دارالتعلیم دینیات“ نامی مدرسے میں داخلہ لیا انہوں نے چھٹی کلاس کا امتحان دینے کے بعد انٹرکالج میں داخلہ لیا اوروہاں سے انٹر پاس کیا۔

مذہبی تعلیم[ترمیم]

موصوف نے حوزہ علمیہ کے سطح اول کا دس سالہ کورس ساڑھے پانچ سال میں مکمل کر لیا- انہوں نے شرح لمعہ کا ایک تہائی حصہ اپنے والد سے اور باقی کتاب آقای مرزا احمد مدرس تبریزی سے پڑھی۔ اوررسائل اور مکاسب کو حاج شیخ ہاشم قزوینی سے پڑھا اوراس کے بعد آیت اللہ العظمی میلانی کے درس خارج سے کسب فیض کیا۔

1336 ہجری شمسی میں انہوں نے نجف اشرف کا سفرکیا اور وہاں تھوڑے عرصہ کے قیام میں آقائے حکیم، آقائے خوئی اور آقائے شاہرودی کے دروس خارج میں شرکت کی۔

ایران واپس آنے کے بعد انہوں نے آیت اللہ العظمی بروجردی اورحاج آقائے حائری کے دروس خارج میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ امام خمینی کے فقہ واصول کے درس سے بھی پوری طرح استفادہ کیا۔

سیسی سرگرمیاں[ترمیم]

کیونکہ انہوں نے سن 1334 ہجری شمسی کے بعد سے رضا شاہ پہلوی کی ظالم حکومت کی مخالفت شروع کردی تھی ، اس لئے انقلاب اسلامی کی کامیابی تک انہیں کئی مرتبہ مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھ تاچھ کا سامنا کرنا پڑا یا پھرجلاء وطن ہونا پڑا۔

عہدے[ترمیم]

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ کئی بڑے عہدوں پرمنتخب ہوئے، جیسے وہ تہران سے پارلیمنٹ کے نمائندے، شورائے انقلاب کے نمائندے، وزارت دفاع میں شورائے انقلاب کے نمائندہ، نائب وزیر دفاع اورتہران کے امام جمعہ رہے۔ وہ دوبارایران کے صدر بھی چنے گئے۔

اسلامی انقلاب کے رہبرامام خمینی کے انتقال کے بعد وہ مجلس خبرگان کی طرف سے ایران کے اسلامی انقلاب کے رہبر کے عہدے کے لئے منتخب کئے گئے۔

خامنہ ای ایک فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم رجال، تاریخ اورادبیات کے بھی بہت بڑے عالم ہیں۔ اسلامی انقلاب کے رہبر جیسے عظیم عہدے پر رہتے ہوئے بھی آپ فقہ کا درس کہتے ہیں اور آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ [1]

بیرونی روابط[ترمیم]