آیت رجم
| قرآن مقدس |
|---|
![]() |
آیتِ رجم اس قرآنی نص کو کہا جاتا ہے جو اسلام میں حدِّ رجم کے حکم پر دلالت کرتی ہے۔ تاہم مسلمانوں کے اتفاق کے مطابق یہ آیت موجودہ مصحفِ قرآن میں لکھی ہوئی آیات میں شامل نہیں ہے؛ یعنی قرآن کے موجودہ نسخے میں اس نام کی کوئی آیت موجود نہیں۔
اہلِ سنت کے علما کے مطابق آیتِ رجم اصل میں نازل ہوئی تھی، لیکن اسے مصحف میں تحریر نہیں کیا گیا۔ ان کے نزدیک یہ ان آیات میں سے تھی جن کا لفظ منسوخ کر دیا گیا، یعنی اس کی تلاوت اٹھا لی گئی، جبکہ اس کا حکم باقی رہا۔ چنانچہ رجم کا حکم دیگر دلائل کی بنا پر ثابت ہے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری میں خلیفۂ دوم عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا:[1]
اللہ نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل کی۔ اس میں آیتِ رجم بھی نازل ہوئی تھی، ہم نے اسے پڑھا، سمجھا اور یاد رکھا۔ رسول اللہ نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر لوگوں پر زیادہ زمانہ گذر گیا تو کوئی کہنے والا کہے گا: ہمیں اللہ کی کتاب میں آیتِ رجم نہیں ملتی اور اس طرح وہ اللہ کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں گے۔ اللہ کی کتاب میں رجم کا حکم اس شخص کے لیے حق ہے جو شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، جب اس پر گواہی قائم ہو جائے یا حمل ظاہر ہو جائے یا اعتراف ہو۔
دوسری طرف بعض فرقوں نے اس آیت کے نسخِ لفظی کو تسلیم نہیں کیا۔ ان میں خوارج، بعض معتزلہ اور بعض شیعہ شامل ہیں۔ انھوں نے اس مسئلے میں اہلِ سنت والجماعت کے جمہور موقف سے اختلاف کیا۔ اسی طرح خوارج اور بعض معتزلہ کے ایک گروہ نے حدِّ رجم ہی کا انکار بھی کیا ہے۔ روایات میں ذکر ملتا ہے کہ یہ آیت نسخ سے پہلے سورۃ الأحزاب میں پڑھی جاتی تھی اور اس کا متن یوں بیان کیا جاتا ہے:
“والشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالاً من الله والله عزيز حكيم” "اور وہ بزرگ مرد اور بزرگ عورت جو زنا کریں، تو دونوں کو سختی کے ساتھ رجم کرو، یہ اللہ کی طرف سے ایک سخت عبرت ہے اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔"
صحابہ کرام اسے رسول اللہ کے زمانے میں پڑھتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ان آیات کے ساتھ اٹھا لیا جن کی تلاوت منسوخ کر دی گئی، جبکہ اس کا حکم باقی رہا۔ متعدد صحابہ سے اس مضمون کی روایات منقول ہیں اور دوسرے صحابہ نے بھی ان پر نکیر نہیں کی۔ مفسرین، محدثین اور اصولِ فقہ کے علما کی بہت سی کتب میں اس آیت کے بارے میں شواہد نقل ہوئے ہیں، جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت کا لفظ منسوخ ہو گیا، لیکن حکم منسوخ نہیں ہوا۔ اسی لیے اب یہ قرآن کی وہ آیات نہیں جن کی تلاوت عبادت کے طور پر کی جائے، تاہم رجم کا حکم سنت اور اجماع کی بنا پر بدستور ثابت اور مؤکد سمجھا جاتا ہے۔[2] .[3].[4][5]
کتابیات
[ترمیم]من كتب الحديث
- صحيح البخاري/كتاب الحدود
- شرح صحيح مسلم للنووي.
- فتح الباري شرح صحيح البخاري
- عون المعبود
- سنن أبي داود
- شرح الزرقاني
- الموطأ[مردہ ربط]
من كتب التفسير
- تفسير القرطبي آرکائیو شدہ 2021-01-26 بذریعہ وے بیک مشین
- فتح القدير للشوكاني
- تفسير الكشاف للزمخشري
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ أخرجه البخاري (٦٨٣٠) مطولاً،
- ↑ عمدة القاري شرح صحيح البخاري المؤلف: بدر الدين العيني الحنفي، الموسوعة الشاملة
- ↑ عمدة القاري شرح صحيح البخاري المؤلف: بدر الدين العيني الحنفي، الموسوعة الشاملة
- ↑ صحيح البخاري[مردہ ربط]
"نسخة مؤرشفة"۔ 4 مارس 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 أبريل 2020
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت) - ↑ هكذا وردت بهذا اللفظ في أصح الروايات.
