آیۃ المودت
کلیدی شخصیات
|

آیت المودتیہ سورۃ الشوریٰ کی آیت نمبر 23 ہے، جس سے اہل تشیع اہل بیت کی امامت پر استدلال کرتے ہیں۔ آیت یہ ہے: ﴿ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ آمَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِى ٱلْقُرْبَىٰۗ وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةًۭ نَّزِدْ لَهُۥ فِيهَا حُسْنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ شَكُورٌۭ ٢٣﴾ (ترجمہ: یہ وہی چیز ہے جس کی بشارت اللہ اپنے اُن بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔ کہہ دو: میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لیے اس میں اور اضافہ کریں گے، بے شک اللہ بخشنے والا، شکر قبول کرنے والا ہے۔)[1]
قُربى کا لغوی مفہوم:
[ترمیم]قُربى (قرابت) اور بُعد (دُوری) ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اس کا استعمال مختلف معنوں میں ہوتا ہے:
مقام (جگہ) جیسے: ولا تقربا هذه الشجرة (البقرۃ: 35)
زمان (وقت) جیسے: اقترب للناس حسابهم (الأنبياء: 1)[2]
نسبی رشتہ جیسے: ولو كان ذا قربى (فاطر: 18)
مرتبہ یا مقام جیسے: ومن المقربين (آل عمران: 45)
قدرت یا تسلط جیسے: ونحن أقرب إليه من حبل الوريد (ق: 16)[3]
مودة في القربى کی تفسیر سے متعلق احادیث
[ترمیم]اہل سنت کے محدثین اور مفسرین نے اس آیت کے تحت بہت سی احادیث روایت کی ہیں:[4]
- . مسند احمد بن حنبل:
ابن عباس سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی "قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى" تو لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کے وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت واجب قرار دی گئی؟ فرمایا: "علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے۔"[5]
- . صحیح بخاری:
ابن عباس سے پوچھا گیا کہ "المودة في القربى" سے کیا مراد ہے؟ سعید بن جبیر نے کہا: "قربى سے مراد آل محمدؐ ہیں۔"[5]
- . صحیح مسلم:
ابن عباس سے پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے یہی جواب دیا: "قربى آل محمدؐ ہیں۔"[6]
- . التفسير الكبير للثعلبي:
ابن عباس کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی، تو صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ قرابت دار کون ہیں؟ فرمایا: "علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے۔"[7]
- . مسند احمد (حدیث نمبر: 2500):
ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ تم اللہ کی محبت کرو اور اس کی طرف طاعت کے ذریعے تقرب حاصل کرو۔
- . صحیح بخاری کا ایک اور مقام:
ابن عباس نے فرمایا: نبیؐ کا ہر قریشی قبیلے سے کوئی نہ کوئی رشتہ تھا، اس لیے فرمایا: "إلا أن تصلوا ما بيني وبينكم من القرابة" یعنی صرف یہی کہ میرے اور تمھارے درمیان جو قرابت ہے، اس کا لحاظ کرو۔
تفسیری اقوال
[ترمیم]التبيان فی تفسیر القرآن: مراد ہے رسولؐ کے قرابت داروں سے محبت یا اللہ سے قرب کا عمل۔[8]
تفسير جوامع الجامع: قربى سے مراد علی، فاطمہ اور ان کی اولاد ہیں۔[9]
تفسير الكشاف للزمخشري: اہل قربى سے مراد علی، فاطمہ اور ان کے بیٹے حسن و حسین ہیں۔[10]
آیتِ مودّت کا ادبی اظہار
[ترمیم]ہم نے آلِ "حام" (یعنی آلِ محمد) کے بارے میں تمھارے لیے ایک آیت پائی، جس کی تعبیر ہم میں سے پرہیزگار اور عربی جاننے والا ہی کرتا ہے۔[11]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "ما هي اية المودة و في من نزلت هذه الاية ؟"۔ مركز الإشعاع الإسلامي (بزبان عربی)۔ 2023-05-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-12-31
- ↑ انظر: الأفعال 2/ 82
- ↑ مفردات ألفاظ القرآن، ج1،ص663-664
- ↑ فضائل الصحابة، ابن حنبل: 2: 669 ح1141.
- ^ ا ب صحيح البخاري، ج6، ص: 37.
- ↑ تفسير الكشف والبيان، الثعلبي، تفسير الآية 23 سورة الشورى.
- ↑ فضائل الصحابة، ابن حنبل
- ↑ جامع البيان في تفسير القرآن، ج25، ص: 15-17
- ↑ التبيان في تفسير القرآن، ج9، ص: 158
- ↑ تفسير جوامع الجامع، ج4، ص: 48
- ↑ 5- هذا البيت في القصيدة الثّانية من القصائد الهاشميّات و صدر القصيدة: طربت و ما شوقا إلى البيض أطرب/و لا لعبا منى و ذو الشّوق يلعب( القصائد الهاشميّات: ص 30، طبقة الأعلمى- بيروت)
