درانی قبیلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابدالی (درانی) قبیلہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search


درانی سلطنت کے شاہی فوجی
  • پشتون قبیلہ ابدالی کا شجرہ نسب نعمت اللہ ہراتی لکھتا ہے کہ ترین بن شرجنون بن سربنی بن قیس کے تین لڑکے تھے۔ ایک کا رنگ کالا تھا، ترین نے اس کا نام ’تور‘ (کالا) رکھا۔ دوسرے کا رنگ گورا تھا، اس کانام سپین سفید رکھااور تیسرے کا نام اودل تھا۔[1] روایات کے مطابق ترین کے چار لڑکے سپین ترین، تور ترین، ژر ترین، بور ترین تھے۔ لیکن بور ترین کے لیے ابدالی کی اصطلاح رائج العام ہو گئی ہے اور کبھی کبھار یہ اصطلاح نورزئیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو توبہ کے علاقہ تک محدود ہو گئے ہیں۔[2]
  • معارف اسلامیہ میں ہے کہ ابتل یا ہفتل = (اودال و ابدال) = ھبطل و یقتل یعنی ہنوں سے ان کا نسلی تعلق ہے۔[3] مگر میرا گمان ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس علاقے میں آباد ترک نژاد باشندے جو اوغو یا اوغہ کہلاتے تھے۔ (دیکھے۔ افغان) اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ اوغہ + ال =اوغال یعنی اوغوں کی اولاد۔ یہ بعد میں رفتہ رفتہ امتداد زمانہ سے اودال ہو گیا۔ جس کا افغانوں کے لشکر میں ترین کے لڑکے کی حیثیت سے ذکر آیا ہے۔ بعد میں اودال کا ’و‘ ’ب‘ میں بدل گیا جس کا آریائی زبانوں میں عام رواج ہے۔
  • ابدالیوں نے ہی موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی تھی۔ احمد شاہ ابدالی المعروف درانی اس مملکت کا بانی تھا اور افغانستان کی تاریخ کا سب سے بڑا حکمران گزرا ہے۔ اس کی مملکت کی حدودیں 1773ء میں جب وہ فوت ہوا تو دریائے آمو سے لے کر دریائے سندھ اور تبت سے لے کر خراسان تک پہلی ہوئی تھیں۔ مگر اس کے جانشین اس عظیم الشان سلطنت کو نہیں سنبھال سکے اور یہ موجودہ افغانستان تک محدود رہے گئی۔[4]
  • احمد شاہ ابدالی کی تاجپوشی قندھار میں ہوئی تھی، جہاں اسے ایک فقیر سیّد صابر شاہ نے اسے دُر دوران میں کا خطاب دیا تھا۔ اس وقت سے ابدالی درانی کہلانے لگے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نعمت اللہ ہراتی، مخزن افغانی۔ 124
  2. بلوچستان گزیٹیر 63
  3. ابدالی۔ معارف اسلامیہ
  4. ابدالی۔ شاہکار انسائکلوپیڈیا معلومات
  5. ابدالی۔ گنڈا سنگھ