ابرار حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابرار حسن کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نامور پاکستانی وکیل ہیں۔ ان کی کمپنی، ابرار حسن اینڈ کمپنی سنہ 1962 سے وکالت کے پیشے میں فعال ہے۔ ابرار حسن اکثر ٹی وی کے مباحثوں میں منشور، پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حکومتی اداروں کے درمیان طاقت کے توازن پہ بات کرتے نظر آتے ہیں۔ ابرار حسن جولائی 1935 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے قانون کی ابتدائی سند حاصل کی۔ انہوں نے امریکی جامعہ جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی سے جورس ڈاکٹر کی سند بھی حاصل کی ہے۔ بیلجیم کی بین الاقوامی عدالت برائے تملیک نے ابرار حسن کو پاکستان میں اپنا وکیل نامزد کیا ہے۔ ابرار حسن نے قانون کے موضوعات پہ کئی کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی کئی تصانیف پاکستان کے قانون پڑھانے والے کالجوں میں نصاب کا حصہ ہیں۔ ابرار حسن پاکستان اکیڈمی آف جیورسٹس نامی فلاحی ادارے کے بانی ہیں۔ یہ ادارہ محافل اور مناظروں کے ذریعے عام لوگوں میں قانون کے بارے میں شعور بلند کرنے کا کام کر رہا ہے۔ ابرار حسن جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے موضوع پہ منعقد کی جانے والی مختلف کانفرینسوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ابرار حسن وکلا کی سیاست میں بھی متحرک رہے ہیں۔ وہ سنہ 1973 میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر، سنہ 1979 میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر، سنہ 1984 میں سندھ بار کونسل کے نائب چئیرمین، سنہ 1993 اور 1994 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی مجلس عاملہ کے رکن اور سنہ 2006 میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ ابرار حسن تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے کراچی کے اسلامیہ لا کالج میں پڑھایا ہے اور سنہ 1997-1998 میں کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ جب جرنل پرویز مشرف نے نومبر 2007 میں ایمیرجینسی کا اعلان کیا تو بہت سے وکلا قائدین کے ساتھ ابرار حسن بھی جیل میں بند کر دیے گئے۔ قید کے ابتدائی دنوں میں انہیں اپنے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ بین الاقوامی دبائو کی وجہ سے پاکستانی حکومت نے بہت سے وکلا کے ساتھ ابرار حسن کو بھی نومبر 19, 2007 کے دن رہا کر دیا۔ ==بیرونی روابط==* چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بے جا برطرفی پہ ابرار حسن کا تبصرہ، ویڈیو*ابرار حسن کا ایک انٹرویو*جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے پہ ابرار حسن کا تبصرہ