مندرجات کا رخ کریں

ابراہیم باشا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ابراہیم باشا ادریس جنھیں عام طور پر شیخ بیان کے نام سے جانا جاتا ہے، گھانا کے ایک ممتاز اسلامی مبلغ اور سنی تحریک کے سرکردہ رہنما ہیں۔ وہ شمالی گھانا کے شہر تملے میں نوریہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور مسجد البیان کے سربراہ ہیں[1] انھیں گھانا میں روایتی مدرسوں کو جدید اینگلو عربک (عربی اور انگریزی کا امتزاج) تدریسی نظام میں تبدیل کرنے کا بانی اور گھانا اسلامک ایجوکیشن یونٹ کے قیام کا علمبردار مانا جاتا ہے۔[2]

زندگی

[ترمیم]

ابراہیم باشا کی پیدائش گھانا کے شہر کوماسی میں ہوئی، لیکن انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تکوراڈی کے خیریہ اسلامک اسکول سے حاصل کی۔ وہاں انھوں نے مشہور ڈاگومبا عالم حاج شعیب سے فیض حاصل کیا اور اپنی ذہانت کی بنا پر طالب علمی کے دور میں ہی اپنے ساتھیوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے کوماسی منتقل ہوئے اور شیخ احمد نور الدین کی شاگردی اختیار کی۔[3]

تدریس

[ترمیم]

1950 کی دہائی میں وہ مستقل طور پر تملے منتقل ہو گئے اور اپنے چچا یوسف صالح اجورہ (معروف بہ افا اجورہ) کے ساتھ قیام کیا۔ وہاں انھوں نے عنباریہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ میں تدریس کا آغاز کیا۔ ان کے نمایاں شاگردوں میں شیخ سعید ابوبکر زکریا شامل ہیں، جو اس وقت عنباریہ انسٹی ٹیوٹ کے موجودہ سربراہ ہیں۔

نوریہ اسلامی ادارے کا قیام

[ترمیم]

1960 کی دہائی میں ابراہیم باشا نے عنباریہ انسٹی ٹیوٹ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس علیحدگی کی وجوہات میں افا اجورہ کے وہابی نظریات سے اختلاف، تشریحِ دین میں فرق اور دنیاوی (سیکولر) تعلیم کو نصاب میں شامل کرنے کی خواہش بتائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انھوں نے 1969 میں نوریہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ گھانا کے ان پہلے اسکولوں میں سے ایک تھا جس نے صرف عربی کی بجائے اینگلو عربک تعلیم کا آغاز کیا۔

تنازعات اور الزامات

[ترمیم]

شیخ ابراہیم باشا کے حوالے سے کچھ مذہبی تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ تیجانیہ صوفی سلسلے یا شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ ان کے ایک استاد تیجانیہ تھے لیکن انھوں نے خود کبھی روایتی سنی عقیدے سے ہٹ کر کسی عمل کو نہیں اپنایا۔ [4]شیعہ مسلک کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ شیعہ برادری کے دوست ضرور ہیں لیکن ان کے عقائد پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ان پر عنباریہ سنی کمیونٹی کا حریف ہونے کا الزام بھی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے خطبات میں ان کے خلاف گفتگو کرتے ہیں۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Ghana News Agency۔ "Masjidul Bayaan Mosque congratulates President-elect"۔ www.ghananewsagency.org۔ Albert Futukpor۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-05
  2. Kobo Ousman (2012)۔ Unveiling Modernity in Twentieth-Century West African Islamic Reforms۔ BRILL۔ ISBN:9789004233133۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-05
  3. Kobo Ousman (2012)۔ Unveiling Modernity in Twentieth-Century West African Islamic Reforms۔ BRILL۔ ص 261۔ ISBN:9789004233133۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-08
  4. Ousman Kobo (2012)۔ Unveiling Modernity in Twentieth-Century West African Islamic Reforms۔ BRILL۔ ص 262۔ ISBN:9789004233133