ابراہیم علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Rembrandt Harmensz. van Rijn 035.jpg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاءعلیہم السلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ہود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعیب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سلیمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم



ابراہیم علیہ السلام جو تین بڑے مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ یہودی اور عیسائی ابراہیم کو اپنے اپنے مذاہب کا بانی مانتے ہیں، جبکہ مذہب اسلام میں ابراہیم اگرچہ اس کے بانی نہیں مگر وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان کہہ کر پُکارا۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتےہیں ۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے ، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیاء کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلمﷺ بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔

نسب نامہ

عرب مورخوں نے ابراہیم کا سلسلہ نسب یوں بیان کیا ہے : - ابراہیم بن تارخ بن ناحور بن ساروغ بن ارغو بن فالغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح۔ یہ سلسلہ نسب انجیل میں سے لیا گیا ہے۔ اکثر علماء نے ابراہیم کو اعجمی قرار دیا ہے۔ اس لفظ کی کئی صورتیں بیان کی ہیں مثلاََ اِبراھام، اِبراہم، ابرھم، ابراہیم، براہم اور براہمہ ۔ انجیل کے پُرانے عہد نامے کے مطابق خُدا ابراہیم سے یہ فرماتا ہے کہ تیرا نام پھر ابرام نہیں کہا جائے گا بلکہ ابراھام [1](ابورھام کا مطلب بہت ذیادہ اولاد والا یا گروہ کثیر کا باپ) ہوگا۔

قرآن میں

ابراہیم کے نام سے قرآن مجید میں ایک سورۃ بھی ہے جو قران مجید کی چودہویں صورت ہے جو مکہّ میں نازل ہوئی۔ اللہ نے اُنہیں اُمت [2] اور امام النّاس [3] کے لقب سے پُکارا اور اُنہیں بار بار حنیف بھی کہا۔ قراآن مجید میں اُن کو مسلمان یا مسلم بھی کہا گیا ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ ابراہیم ملتِ حنیفہ تھے۔ اللہ نے آلِ ابراہیم کو کتاب و حکمت سے نواز اور اُنہیں ملکِ عظیم عطا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں خُلّت کا شرف بخشا اُنہیں خلیل اللہ (اللہ کا دوست ) کہا اور سب اُمتوں میں اُنہیں ہر دلعزیز بنایا۔ اکثر انبیائے کرام ان کی اولاد سے ہیں ۔ قران مجید میں حضرت ابراہیم کے احوال و اوصاف بالصّراحت مذکور ہیں ۔

حالات زندگی

شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے ۔ انہیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ ابراہیم نے حیات بعد از موت کے راز کو سمجھنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی مثال کے ذریعے اُن کو یہ راز سمجھایا اور ان کو سکون قلب عطا کیا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔ ان کی اور ان کے بزرگ آزر کی بحث اس باب میں قران مجید کی سورۃ مریم میں دی ہے۔ بالآخر انہوں نے ان سے سلامِ متارکہ کیا اور وہ تمام مشرکین سے الگ ہوگئے۔ ابراہیم کا سوال یہ تھا کہ یہ تماثیل (مورتیں) جن پر تم امڈے پڑے ہو کیا ہیں؟ انہیں جواب دیا گیا کہ ہم نے تو اپنے آباؤاجداد کو انہیں کی پوجا کرتے پایا۔ اس پر ابراہیم نے فرمایا: تم اور تمہارے بزرگ صریح گُمراہی میں رہے۔ اس تبلیغ کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ متردد ہو گئے۔ انہوں نے ابراہیم سے پوچھا : تو کیا آپ ہمارے پاس سچی بات لائے ہیں یا یہ محض دل لگی تھی؟جب ابراہیم نے عملی طور پر بتوں کی بے چارگی قوم کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی اور انہیں سمجھایا کہ افسوس ہے تم پر کہ تم نے اللہ کے سوا ایسے معبودوں کی پرستش کی روش اپنا رکھی ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو بعض نے کہا: ابراہیم کو قتل کر ڈالو۔ دوسروں نے کہا۔ اسے آگ میں جلا کر راکھ کردو۔ چنانچہ ایک بھٹی تعمیر کی گئی اور اس میں آگ بھڑکائی گئی اور ابراہیم کو اس میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اللہ نے حکم دیا کہ: اے آگ تو ابراہیم کے حق میں ٹھنڈک اور سلامتی کا باعث بن جا۔ چانچہ ابراہیم اس آگ سے صحیح سلامات باہر نکل آئے۔ اسی دور میں آپ سے ایک کافر بادشاہ نمرود بن کنعان (سنحارب بن نمرود بن کوش بن کنعان بن حام بن نوح نے بھی مناظرہ کیا اور کہا کہ میرے معبود نے مجھے سلطنت بخشی ہے ۔ ابراہیم نے کہا کہ میرا معبود تو وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے نمرود نے کہا کہ میں بھی چاہوں تو زندہ کر دو ں اور چاہوں تو مارڈالوں۔ ابراہیم نے جواب دیا۔ اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا ۔ اس پر نمرود ہکا بکا ہوگیا۔ آگ میں سے نکل آنے کے بعد ابراہیم نے اپنے گھرانے کے لوگوں سمیت جن میں ایک نبی لوط بھی تھے ترک وطن کرکے عراق سے شام کو چلے گئے۔ قران کریم میں ہے کہ بلا شک و شبہہ ابراہیم اور ان کی جمیعت مومنوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے چنانچہ ضمناََ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان مہاجرین کی فہرست میں آزرکا نام شامل نہیں تھا جسے ابراہیم سلام کرکے رخصت کرچُکے تھے۔ یاقوت الحموی نے بھی آزر کے شام میں وارد ہونے پر شک ظاہر کیا ہے لیکن تاریخ سے جو بہت حد تک اسرائلیات سے ماخؒوذ ہے پتہ چلتا ہے کہ ابراہیم کے والد تارخ کی وفات حران میں واقع ہوئی۔ اس سے اس گمان کی مزید تائید ہوتی ہے کہ تارخ اور آزر دو مختلف ہستیاں ہیں۔ دیارِ غریب میں پہنچ کر ابراہیم سرگرداں رہے۔ بالآخر وہ کنعان کے علاقے میں مقیم ہوگئے ۔

اولاد

انہیں اولاد کی تمنا تھی انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایک نیک بیٹا عطا کر۔ چونکہ ان کی بیوی سارہ(سارہ بنت لابن بن بشویل بن ناحور) جو براہیم کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں کی کوئی اولاد نہ تھی اس لئے انہوں نے ہاجرہ سے ابراہیم کا نکاح کر دیا ۔ اللہ نے ابراہیم کو ایک حلیم بچے (اسمٰعیل ) بشارت دی۔ ابراہیم انہیں موجود شہر مکہ میں اس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج کل کعبہ شریف ہے۔ جب یہ بچہ بڑاہوا تو ابراہیم آئے اور انہوں نے کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ چنانچہ دونوں باپ بیٹے نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا پر چھوڑ دیا ۔ اس آزمائش میں جب ابراہیم پورے اترے تو اللہ نے انہیں امام النّاس بنایا اور انہیں ایک اور بیٹے کی بشارت دی۔ قران مجید میں آیا ہے کہ ابراہیم اور اسمٰعیل نے مل کر جب کعبے کی بنیادوں کو اٹھایا تو یہ دُعا مانگی کہ ہماری اولاد میں سے ایک نبی پیدا کر اور اس شہر کو برکت والا شہر بنادے۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریز میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ ابراہیم کی بیٹے اسمٰعیل ہاجرہ کے بطن سے اور اسحاق سارہ کے بطن سے پیداہوئے اور اس کے علاوہ کئی اور بچے ایک کنعانی زوجہ کے بطن سے۔ النووی نے نقل کیا ہے کے ابراہم اقلیم بابل کے مقام کوثامیں پیدا ہوئے اور ان کی والدہ کا نام نونا تھا ایک اور روایت ہے کہ ابراہیم کلدانیہ کے شہر اُر میں پیدا ہوئے اور جب انہوں نے اس دُنیا سے رحلت کی تو انہیں حبرون میں مکفلیہ کے غار میں دفن کیا گیا ۔ اس مقام کو اب الخلیل کہتے ہیں جو بیت المقدس سے کچھ فاصلے پر ہے۔

حوالہ جات

مزید دیکھیں

  1. کتابِ پیدائش باب 17 آیت 5
  2. النحل،120
  3. البقرۃ،124