ابراہیم علی تشنہ
| ابراہیم علی تشنہ | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| تاریخ پیدائش | سنہ 1872ء |
| تاریخ وفات | سنہ 1931ء (58–59 سال) |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر |
| درستی - ترمیم | |
شاہ محمد ابراہیم علی بنگالی اسلامی عالم، شاعر اور تحریک خلافت کے کارکن تھے۔ انھوں نے بنگالی، اردو اور فارسی زبانوں میں تشنہ کے قلمی نام سے شاعری کی۔ ان کی عظیم تصنیف اگنی کنڈا ان کی قید کے دوران تحریروں کا مجموعہ ہے۔ [1]
زندگی
[ترمیم]شاہ محمد ابراہیم علی 1872 میں کانائی گھاٹ سلہٹ کے گاؤں بٹیل میں ایک بنگالی مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے۔[2] ان کے والد مولانا شاہ عبد رحمان قادری پیشے کے لحاظ سے ایک معروف مفتی تھے،[3] ان کا بڑا بھائی اسماعیل عالم تھا۔ [4][5] یہ خاندان شاہ تغلق الدین کی نسل سے تھاو جو چودھویں صدی کے صوفی اور شاہ جلال کے ساتھی تھے۔ [6][7]
تعلیم اور شادی
[ترمیم]محمد ابراہیم علی نے ابتدائی طور پر پھولبری، گولپ گنج کے اجریہ مدرسے میں داخلہ لینے سے پہلے اپنے والد کے ساتھ گھر پر تعلیم حاصل کی [8] ۔ گھر پر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے شمالی ہندوستان کے دار العلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی۔ [9] محمد ابراہیم علی نے نو سال دیوبند میں گزارے، فضل حق دیو بندی، محمد منیر ناناوتوی اور حافظ محمد احمد سے تعلیم حاصل کی [10]۔ ان کی شادی آسیہ خاتون سے ہوئی جس سے شاہ ولی الرحمان سمیت کئی بچے تھے۔ [11]
علمی اور عملی زندگی
[ترمیم]اپنے ملک واپس آ کر محمد ابراہیم علی نے اسلامی تعلیم کے شعبے میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ کانائی گھاٹ میں امداد عالم عمر گنج کے علاوہ (1899) علی نے متعدد تعلیمی ادارے جیسے سرکر بازار احمدی مدرسے قائم کیے۔ [12] اس وقت، جینتیا کے میدانی علاقوں میں تجوید کی تعلیم رائج نہیں تھی، اس وجہ سے آپ نے عمر گنج میں اپنے مدرسے میں تجوید پہل شروع کی [13]۔ 1902 میں وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ دوسری بار شمالی ہندوستان میں دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔ انھوں نے نذیر احمد دیو بندی کے ماتحت دو سال تک حدیث کی تعلیم مکمل کی۔ [14] ان کے استاد نے شاگرد میں علم کی پیاس کو محسوس کرتے ہوئے انھیں تشنہ کا لقب دیا جس کا فارسی میں مطلب پیاسا ہے۔ اسی دور سے وہ ابراہیم علی تشنہ کے نام سے پہچانے جانے لگے [15]۔ تشنہ نے سلہٹ ضلع میں اسلامی اجتماعات اور جلسوں کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ [16] شمالی سلہٹ میں ان کا پہلا اجتماع 1906 میں ہوا جس میں دسیوں ہزار حاضرین موجود تھے۔ [17][18]
قید اور سرگرمیاں
[ترمیم]شیخ محمود حسن دیوبندی کی ہدایت پر ابراہیم علی تشنہ خلافت تحریک میں سرگرم ہو گئے۔ یہ تحریک عثمانی خلافت کی بحالی کے لیے چلائی جا رہی تھی۔ تشنہ صاحب بنگلہ اور اردو میں عوامی تقریریں کرتے تھے۔ انھیں یہ ہنر دہلی کی جامع مسجد میں جمعہ کے خطبے دینے سے حاصل ہوا تھا۔ خلافت تحریک میں شرکت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے انھیں قید کر لیا۔23 مارچ 1922ء کو کانائی گھاٹ اسلامیہ مدرسہ کا سالانہ جلسہ طے تھا جس کی صدارت تشنہ صاحب کر رہے تھے۔ برطانوی راج نے پورے کانائی گھاٹ میں سیکشن 144 نافذ کر دی اور جلسہ پر پابندی لگا دی۔ تشنہ صاحب اور ان کی کمیٹی نے اس پابندی کی پروا نہ کی اور جلسہ جاری رکھا۔ سرما ویلی کے کمشنر جے ای ویبسٹر نے دوپہر 12 بجے پولیس فورس بھیجی جس نے محفل پر گولیاں چلا دیں[19] ۔مسلح انگریز دستے نے گولیاں مار کر چھ افراد شہید اور 38 زخمی کر دیے۔ [20]
تصانیف اور تخلیقی کام
[ترمیم]تشنہ صاحب نے اردو میں کئی اہم کتابیں تحریر کیں جن میں تجوید، شرح کافیہ اور شرح اصول الشاشی شامل ہیں۔[21][22] یہ کتابیں فقہ، نحو اور حدیث کے طلبہ میں بہت قدر کی جاتی تھیں۔وہ فطری شاعر تھے اور انھوں نے اردو اور فارسی میں بہت سی غزلیں، نظمیں اور قصیدے لکھے۔ ان کی شاعری نے شمالی ہندوستان میں انھیں شہرت بخشی[23] ۔ ان کی تحریریں اس دور کے شمالی ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں۔ مشہور شاعر اکبر الہ آبادی ان کے مداحوں میں شامل تھے [24]۔قید کے بعد انھوں نے سیاسی میدان سے کنارہ کشی اختیار کی اور زیادہ روحانی اور تنہائی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اسی دور میں انھوں نے اپنی مادری زبان بنگلہ میں بہت سی صوفیانہ شاعری لکھی۔[25] ان کے بیٹے نے 1934ء سے میگزین نور کی جھنکار شائع کرنا شروع کیا جو ان کی علمی و روحانی میراث کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنا۔ [26][27] اگنی کنڈا نبی محمد سے عقیدت اور محبت پر نعتوں کا مجموعہ ہے جسے تشنہ کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ [28] یہ کتاب بنگلہ زبان میں لکھی گئی اور صوفیانہ ادب میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
وفات
[ترمیم]ابراہیم علی تشنہ 11 ستمبر 1931ء کو کانائی گھاٹ میں اپنے گھر میں 61 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔وہ اپنے پیچھے چار بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Laskar, Mahmud, Monthly Madina, February 2009 (in Bengali)
- ↑ "এক নজরে ইবরাহীম তশনা"۔ Kanaighat Upojela۔ 7 مئی 2020۔ 2021-09-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-12
- ↑ Dr Shamsuddin (15 Feb 1987). এক নজরে কানাইঘাট [Kanaighat at a glance] (بزبان بنگالی). p. 67.
- ↑ Bhuiyan, Zafar Ahmed. বাংলাদেশে উর্দু সাহিত্য [Urdu literature in Bangladesh] (بزبان بنگالی).
- ↑ Abdul Baqi, Dr Muhammad. বাংলাদেশে আরবী, ফার্সী ও উর্দুতে ইসলামী সাহিত্য চর্চা [The practice of Islamic literature in Arabic, Persian and Urdu in Bangladesh] (بزبان بنگالی). Islamic Foundation Bangladesh.
- ↑ Ragbi, Abdul Jalil. Mashayekhe Assam (بزبان بنگالی). ناگاؤں, بھارت: Nuri Islamic Foundation.
- ↑ Islami Bishwakosh (2 ایڈیشن)۔ ج 4۔ جون 2006۔ ص 700
{{حوالہ موسوعہ}}: پیرامیٹر|title=غیر موجود یا خالی (معاونت) - ↑ Mustansirur Rahman Choudhury (Nov 1999). আঞ্চলিক ইতিহাস: ফুলবাড়ী আজিরিয়া আলিয়া মাদ্রাসা [Regional history: Fulbari Aziriya Aliya Madrasha] (بزبان بنگالی).
- ↑
{{حوالہ خبر}}: خالی حوالہ! (معاونت) - ↑ Chowdhury, Shahid (1994). স্মৃতির পাতায় জালালাবাদ (بزبان بنگالی). جاپان: Jalalabad Forum.
- ↑ Sylheter Dak, 16 January 2009, page 8
- ↑ Abdur Rahim, Muhammad (Mar 2018). কানাইঘাটের উলামায়ে কেরাম (بزبان بنگالی). Pandulipi Prakashan. Vol. 1.
- ↑ Rahmatullah, Mohammad (1985). হায়াতে তাইয়্যিবা (بزبان بنگالی).
- ↑
{{حوالہ خبر}}: خالی حوالہ! (معاونت) - ↑ Islami Bishwakosh (2 ایڈیشن)۔ ج 4۔ جون 2006۔ ص 700
{{حوالہ موسوعہ}}: پیرامیٹر|title=غیر موجود یا خالی (معاونت) - ↑
{{حوالہ خبر}}: خالی حوالہ! (معاونت) - ↑ Sharma, Nandalal (Sep 2021). "মরমি কবি ইবরাহীম তশ্না" [Mystic poet Ibrahim Tashna] (بزبان بنگالی).
- ↑ Rahman, Fazlur. সিলেটের একশত একজন [Sylhet's one hundred and one personalities] (بزبان بنگالی).
- ↑ Rahman, Fazlur. Jaintia Darpan (بزبان بنگالی).
- ↑ Hasnat, Abul (9 Mar 2019). "ব্রিটিশ বিরোধী আন্দোলনে কানাইঘাটের অবদান" [Kanaighat's contribution to the anti-British movement]. bd24report.com (بزبان بنگالی). Archived from the original on 2021-08-26. Retrieved 2021-09-09.
- ↑ Faruqi, Sarwar (2009). মরমি কবি ইবরাহিম আলী তশনা ও অগ্নিকুণ্ড গানের সংকলন [Mystic poet Ibrahim Ali Tashna and compilation of the Agnikunda song] (بزبان بنگالی). اکوشے کتب میلہ: Madina Publications.
- ↑ Bismil, Mohammad Abdul Jaleel (1981)۔ سلہٹ میں اردو [Urdu in Sylhet]۔ کراچی: Anjuman-i Taraqqi-i Urdu
- ↑ Saqlain, Ghulam. বাংলাদেশের সূফী সাধক (بزبان بنگالی). ڈھاکہ: Islamic Foundation Bangladesh. pp. 111–114.
- ↑ Laskar, Mahmud, Monthly Madina, February 2009 (in Bengali)
- ↑ Sharma, Nandalal. লোকসংস্কৃতি : সিলেট প্রেক্ষিত (بزبان بنگالی).
- ↑ Sharma, Nandalal. বাঁশির সুরে অঙ্গ জ্বলে [The limbs burn to the tune of the flute] (بزبان بنگالی).
- ↑ আসাদ্দর রচনা সমগ্র [Asaddar's entire composition] (بزبان بنگالی). لندن, مملکت متحدہ: The Ethnic Minorities Original History and Research Centre. Vol. 2. 21 Feb 2003. p. 35.
- ↑ "সিলেটের মরমি গান" [Mystic songs of Sylhet]. Prothom Alo (بزبان بنگالی). Archived from the original on 2021-09-09. Retrieved 2021-09-09.