مندرجات کا رخ کریں

ابن ابی زمنین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابن ابی زمنین
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 جنوری 936ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1009ء (72–73 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر ،  مفسرِ قانون   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

 

ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن عیسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن ابی زمنین مری بیری قرطبی المالکی اور مختصراً ابن ابی زمنین کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ ایک مالکی فقیہ، محدث اور اندلسی مفسر تھے۔ ان کی ولادت محرم 324ھ (936ء) میں ہوئی اور وفات 399ھ (1008ء) میں ہوئی۔[1]

حالات زندگی

[ترمیم]

ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن عیسیٰ المری، جو ابن ابی زمنین کے نام سے مشہور ہیں، 324 ہجری میں إلبيرة (البیرہ) میں پیدا ہوئے۔ وہ طلب علم کے لیے قرطبہ گئے اور وہاں کچھ عرصہ قیام پزیر رہے۔ بعد ازاں 395 ہجری کے بعد وہ دوبارہ إلبيرة واپس آ گئے اور وہیں سکونت اختیار کی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوا۔[1][2]

ابن ابی زمنین کے نمایاں شیوخ

[ترمیم]

ابن ابی زمنین کے اساتذہ کا ذکر مختلف تاریخی مصادر میں ملتا ہے، جن سے انھوں نے علم حاصل کیا۔ ان میں شامل ہیں:

  1. والد: عبد اللہ بن عیسیٰ بن ابی زمنین
  2. احمد بن یحییٰ بن شامة (وفات 343ھ)
  3. احمد بن عبد اللہ بن العطار (وفات 345ھ)
  4. أبان بن عیسیٰ الغافقی (وفات 346ھ)
  5. وہب بن مسرة الحجاری (وفات 346ھ)
  6. احمد بن سعید بن حزم (وفات 350ھ)
  7. اسحاق بن ابراہیم بن مسرة الطلیطلی (وفات 352ھ)
  8. احمد بن مطرف بن مشاط (وفات 354ھ)
  9. محمد بن معاویہ الأموی (وفات 358ھ)
  10. سعید بن فحلون (وفات 364ھ)
  11. تمام بن عبد اللہ المعافری (وفات 377ھ)[3][4][5][6]

ابن ابی زمنین کے شاگرد

[ترمیم]

ابن ابی زمنین سے کئی نامور طلبہ نے علم حاصل کیا، جن میں شامل ہیں:

  1. ابو اسحاق ابراہیم بن مسعود التُجیبی الإلبیری
  2. ابو عمرو الدانی
  3. ابو عمر بن الحذاء
  4. ابراہیم بن مخلد
  5. احمد بن ایوب بن ابی الربیع
  6. ابو عبد اللہ بن عوف
  7. ابو زکریا القلیعی
  8. محمد بن عبد اللہ الخولانی
  9. احمد بن عفیف الأموی
  10. احمد بن محمد بن افرانک
  11. احمد بن یحییٰ بن سمیق
  12. حسن بن محمد بن غسان
  13. سعید بن یحییٰ التنوخی
  14. عبد الرحمن بن احمد بن بشر
  15. عبد الرحمن بن احمد بن ہانئ[7][8][9]

ابن ابی زمنین کا علم اور تصانیف

[ترمیم]

ابن ابی زمنین علم و فقہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے، جیسا کہ مشہور محدث ابو عمرو الدانی نے ان کے بارے میں کہا: "وہ فقہی مسائل کے حافظ، عمدہ مصنف اور کثرت سے کتابیں لکھنے والے تھے، خاص طور پر وثائق، زہد اور مواعظ پر ان کی تصنیفات بہت زیادہ ہیں۔ وہ علم میں وافر حصہ رکھتے تھے۔"[10][11]

  • ابو عمرو الدانی نے مزید کہا:

"میں نے انھیں قرطبہ میں 395 ہجری میں پایا، انھوں نے مجھے اپنی تمام روایات اور تصنیفات کی اجازت دی۔ وہ نیک نیت، سلف صالحین کے طریقے پر اور قرآن سن کر بہت متأثر ہونے والے تھے، یہاں تک کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔"

  • الحمیدی نے ان کے متعلق کہا:

"وہ ایک نمایاں فقیہ، زاہد اور متقی انسان تھے، ان کی وعظ، زہد اور صالحین کے حالات پر تصانیف ابن ابی الدنیا کی طرز پر لکھی گئی ہیں۔ ان کے پاس اس موضوع پر بہت سی نظمیں بھی تھیں۔"[12]

  • الخولانی نے کہا:

"وہ زاہد، صالح، علم و فقہ میں ماہر اور مسائل پر گہری نظر رکھنے والے تھے۔ ان کی شاعری میں زہد اور حکمت کے اشعار نمایاں ہیں۔ ان کی تصانیف ہر فن میں مفید تھیں، خاص طور پر کتاب المغرب جو مدونہ کے اختصار، اس کے مشکل مقامات کی وضاحت اور اس میں ایسی فقہی نکات پر مشتمل تھی جو دیگر مختصرات میں نہیں پائی جاتیں۔"[13]

وفات

[ترمیم]

ابن ابی زمنین کا انتقال 399 ہجری میں إلبيرة (البیرہ) میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 75 سال تھی۔[14][15]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب
  2. الذهبي : تاريخ الاسلامظ ج ٨ ، ص ٨٠٧ .
  3. القاضي عياض: ترتيب المدارك، ٧/١٨٣ .
  4. ابن الخطيب: الاحاطة، ٢/٢٧٣ .
  5. ابن فرحون: الديباج المذهب، ٢/٢٣٢ .
  6. ابن بشكوال: الصلة، ٢/٤٥٨ .
  7. الحميدي: جذوة المقتبس، ٢١٥ .
  8. ابن العماد: شذرات الذهب: ٢/٣٧٤ .
  9. الداوودي: طبقات المفسرين، ٢/١٦١
  10. ابن بشكوال: الصلة،ج ٨ ، ص ٤٥٨ .
  11. الحميدي: جذوة المقتبس، ج ٢ ، ص ٥٦ .
  12. القاضي عياض:ترتيب المدارك، ج 7 ، ص 184 .
  13. الذهبي: تاريخ الاسلام ، ج ٨ ، ص ٨٠٧ .
  14. ابن الخطيب:الاحاطة، ج ٣ ، ص ١٢٣ .
  15. ابن بشكوال: الصلة،ج ٨ ، ص ٤٥٩ .
  • أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأندلسي (1415هـ)۔ أُصُولُ السُّنَّة۔ تحقيق وتخريج وتعليق: عبد الله بن محمد عبد الرحيم بن حسين البخاري (1 ایڈیشن)۔ مكتبة الغرباء الأثرية {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |مقام اشاعت= رد کیا گیا (معاونت)
  • أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عيسى بن محمد بن إبراهيم ابن أبي زمنين (1998)۔ مُنْتَخب الأحكام۔ تحقيق: عبد الله بن عطية الرداد الغامدي (1 ایڈیشن)۔ المكتبة المكية ومؤسسة الريان