مندرجات کا رخ کریں

ابن ابی زید قیروانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابن ابی زید قیروانی
(عربی میں: ابن أبي زيد القيرواني)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 922ء [1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قیروان   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 996ء (7374 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قیروان   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت افریقیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فقیہ ،  محدث ،  عالم [5]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [6]  ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ ،  اسلامی عقیدہ ،  علم حدیث   ویکی ڈیٹا پر  (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابن ابی زید قیروانی کا پورا نام عبد اللہ ابو محمد بن عبد الرحمٰن ابن ابی زید قیروانی ہے۔ آپ 310 ہجری / 922 عیسوی میں تونس کے شہر قیروان میں پیدا ہوئے۔ آپ فقہ مالکی کے جلیل القدر علما میں سے ہیں اور آپ کو ’’مالکِ اصغر‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اپنے زمانے میں آپ مالکیہ کے پیشوا تھے۔ آپ کی مشہور ترین تصنیف کتاب الرسالہ ہے۔ آپ 386 ہجری / 996 عیسوی میں 76 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔[7]

فقہی مقام

[ترمیم]

آپ نے قیروان کے فقہائے کرام سے تعلیم حاصل کی، خصوصاً ابو بکر بن اللباد پر زیادہ اعتماد فرمایا۔ نیز آپ نے محمد بن مسرور حجام، عسال سے علم حاصل کیا اور حج کے سفر کے دوران ابو سعید بن الاعرابی، محمد بن الفتح، حسن بن نصر سوسی اور دراس بن اسماعیل سے سماع کیا۔ آپ سے علم سیکھنے والوں میں شامل ہیں: فقیہ عبد الرحیم بن عجوز سبتی، فقیہ عبد اللہ بن غالب سبتی، عبد اللہ بن ولید بن سعد انصاری اور ابو بکر احمد بن عبد الرحمن خولانی۔[8]

ابن ابی زید قیروانی فقہ مالکی کے بڑے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ علما نے آپ کے علمی مقام کا اعتراف کیا ہے۔ آپ اپنے وقت کے امامِ مالکیہ، امام مالک کے مذہب کو جمع و مرتب کرنے والے اور اس کی توضیح کرنے والے تھے۔ آپ کثیر الحفظ، کثیر الروایہ اور وسیع العلم تھے۔ قاضی عیاض آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:[9]

’’آپ اپنے زمانے میں مالکیہ کے امام اور مقتدا تھے۔ امام مالک کے مذہب کے جامع اور ان کے اقوال کے شارح تھے۔ آپ علم میں وسیع، حفظ و روایت میں کثرت رکھنے والے تھے۔ آپ کی تصانیف اس پر دلیل ہیں۔ نہایت فصیح اللسان اور اپنے بیان میں پختہ تھے۔ آپ نے مذہب کو خوب اختصار کے ساتھ جمع کیا اور آپ کی کتابوں نے اطرافِ عالم کو بھر دیا۔‘‘

اور حجوی نے اپنی کتاب الفکر السامی میں لکھا:[8]

’’آپ مؤلفین کی اعلیٰ جماعت میں شمار ہوتے ہیں۔ میری رائے میں آپ ہی وہ شخصیت ہیں جن پر یہ حدیث پوری طرح صادق آتی ہے کہ:’’اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سرے پر اس امت میں ایسا شخص پیدا کرتا ہے جو دین کے امور کی تجدید کرتا ہے۔‘‘

عقیدہ

[ترمیم]

اثریہ (سلفی) نقطۂ نظر

[ترمیم]

امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں ابن ابی زید کے بارے میں کہا: “وہ رحمہ اللہ اصول میں سلف کے طریقے پر تھے، علمِ کلام نہیں جانتے تھے اور نہ تاویل کرتے تھے۔” اور ابن ابی زید القیروانی نے کتاب الرسالہ کے دیباچے میں لکھا:[8]، وقال ابن زيد القيرواني في مقدمة كتاب الرسالة:[10]

"دینی امور میں جو چیزیں واجب ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان دل سے ایمان لائے اور زبان سے اقرار کرے کہ اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کا کوئی ہمسر، نہ اس کی کوئی اولاد، نہ وہ کسی کی اولاد، نہ اس کی کوئی زوجہ ہے اور نہ کوئی اس کا شریک۔ اس کی اولیت کی کوئی ابتدا نہیں اور نہ آخریت کی کوئی انتہا۔ اس کی صفات کی حقیقت تک وصف کرنے والے نہیں پہنچ سکتے اور نہ اس کے امر کی کنہ کا احاطہ کرنے والے غور و فکر کرنے والے۔

غور و فکر کرنے والے اس کی نشانیوں میں عبرت پکڑتے ہیں، مگر اس کی ذات کی ماہیت میں تفکر نہیں کرتے:وہ علم والا، خبر رکھنے والا، تدبیر کرنے والا، قادر، سننے والا، دیکھنے والا، بلند و برتر ہے۔ اللہ اپنے عرشِ مجید پر بذاتِ خود قائم ہے اور اپنے علم کے ساتھ ہر جگہ ہے۔"

ابن قیم الجوزیہ نے اسی عقیدہ کی عبارات اجتماع الجيوش الاسلاميہ على غزو المعطلہ والجہميہ میں نقل کی ہیں۔ اسی طرح ابن ابی زید کی یہ باتیں النوادر والزیادات اور ان کی مستقل تصنیف کتاب السُنّہ میں بھی منقول ہیں:"وہ سنّتیں جن کی مخالفت بدعت اور گمراہی ہے:یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی معبود ہے، اُس کے اسمائے حسنیٰ ہیں اور بلند صفات ہیں، وہ ہمیشہ سے اپنی تمام صفات کے ساتھ قائم ہے۔

اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ علم رکھتا ہے، قدرت رکھتا ہے، ارادہ رکھتا ہے اور مشیت رکھتا ہے۔ اس نے اپنی مشیت اور اپنے حکم سے تمام اشیاء کو وجود بخشا، جیسا کہ اس کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾ اور اس کا کلام اس کی صفت ہے، نہ مخلوق ہے کہ فنا ہو جائے، نہ مخلوق کی صفت ہے کہ ختم ہو جائے۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے بذاتِ خود کلام کیا اور انھیں اپنا وہ کلام سنایا جو اس کے غیر میں قائم نہیں تھا۔ وہ سنتا ہے، دیکھتا ہے، قبضہ کرتا ہے اور کشادہ عطا کرتا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں: ﴿وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ اور دونوں ہاتھ اس کی نعمت کے معنی میں نہیں ہیں، جیسا کہ اس کے فرمان میں ہے: ﴿مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ وہ قیامت کے دن آئے گا، جب کہ اس سے پہلے آنا نہیں تھا: فرشتے صف بستہ ہوں گے، امتوں کو پیش کیا جائے گا، ان کا حساب، سزا اور جزا ہوگی۔

وہ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ وہ فرمانبرداروں سے راضی ہوتا ہے، توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور کافروں سے ناراض ہوتا ہے۔ جب وہ غضبناک ہوتا ہے تو اس کے غضب کے آگے کوئی شے ٹھہر نہیں سکتی۔ وہ اپنے آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے اور اپنی زمین کے نیچے نہیں۔ اور اپنے علم کے ذریعہ ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ کے لیے کرسی ہے، جیسا کہ اس کا فرمان ہے: ﴿وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ﴾ اور احادیث کے مطابق قیامت کے دن اللہ اپنا کرسی نصب فرمائے گا تاکہ لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمائے۔" تلمسان کے منصورة شہر میں واقع مسجد کا نام مسجد ابن ابی زید القیروانی سے معروف ہے۔

اشاعرہ کی رائے

[ترمیم]

اشعری علما کے ہاں ان کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں:

  • تاج الدین سبکی کی رائے

سبکی نے انھیں اپنی کتاب طبقات الشافعیة الکبرى میں اشاعرہ کی دوسری جماعت میں شمار کیا ہے۔[11]

  • ابن ابی جمرة کی توضیح

ابن ابی جمرة نے بهجة النفوس میں کہا کہ ابن ابی زید کے قول: “وَأَنَّهُ فَوْقَ عَرْشِهِ الْمَجِيدِ بِذَاتِهِ” سے اثری/حنبلی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ غلط فہمی ہے؛ کیونکہ “المجید” کو وہ غلط طرح سے صفتِ عرش بنا کر تفسیر کرتے ہیں، جبکہ دراصل جملہ یہاں ختم ہو چکا ہوتا ہے اور “المجید بذاته” نئے کلام کی ابتدا ہے۔[12]

  • فخر الدین ابن عساكر کی شہادت

ابن عساکر نے تبيين كذب المفتری میں ابن ابی زید کو اشعری مذہب کے ائمہ میں شمار کیا اور لکھا کہ: وہ عقل و دین میں مہتم بالشان تھے ان کی شہرت ان کے فضل پر کافی ہے انھیں مالکِ صغیر کہا جاتا تھا انھوں نے معتزلہ کی تردید کی اور ابو حسن اشعری کو اہل بدعت کے رد کرنے والا، سنت کا محافظ قرار دیا

ابن ابی زید القیروانی کے نام سے معروف مسجد منصورہ، ولایہ تلمسان میں واقع ہے۔

اسی کتاب میں ابن عساکر نے ابن ابی زید کی ایک تاریخی تحریر نقل کی جس میں انھوں نے ابنِ کلاب کو بھی متکلمِ اہلِ سنت اور بدعتیوں کا رد کرنے والا کہا۔ اس سے ان کی اشعری منہج کے ساتھ موافقت ظاہر ہوتی ہے۔[13]

  • جدید اشعری تحقیق

شیخ حبیب بن طاہر نے ایک مستقل کتاب «ابن أبي زيد القيرواني وعقيدته في الرسالة والجامع» میں ان کی اشعری العقیدہ ہونے پر دلائل فراہم کیے۔[14]

جوابی موقف: اثباتِ صفات کچھ اشعری ائمہ نے واضح کیا کہ ابن ابی زید کی عبارات صفاتِ باری کے اثبات پر دلالت کرتی ہیں:

  • القرطبی نے الأسنى فی شرح اسماء اللہ الحسنى میں انھیں اُن علما میں شمار کیا

جو علوِّ ذاتی کے قائل ہیں۔

  • البرزلی نے بھی کہا کہ ان کے قول سے جہتِ علو کا ظاہر مفہوم نکلتا ہے۔[15]
  • ابن جزی الکلبی نے تسہيل میں ذکر کیا کہ انھوں نے آیت:

﴿استوى على العرش﴾ کو ظاہری معنی پر محمول کیا۔[16]

تالیفات

[ترمیم]

ابن ابی زید القیروانی کی اہم تصانیف میں شامل ہیں:[17]

ابن ابی زید نے ’’النوادر والزیادات‘‘ تقریباً سو حصوں (جلدوں) میں تصنیف کی اور ’’المدوّنة‘‘ کا اختصار بھی کیا اور ان دونوں کتابوں پر مغرب میں فتاویٰ کا مدار رہا۔ اسی طرح انھوں نے یہ کتابیں بھی تصنیف کیں: کتاب العتبیة على الأبواب ، کتاب الاقتداء بمذهب مالک ، کتاب الرسالہ ، کتاب الثقة بالله والتوكل عليه ، کتاب المعرفة والتفسير ، کتاب إعجاز القرآن ، کتاب النهی عن الجدال ، رسالة في الرد على القدرية ، رسالہ في التوحيد ، کتاب من تحرّك عند القراءہ

مزید دیکھو

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12464296r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6cp1746 — بنام: Ibn Abi Zayd — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. بنام: ʻAbd Allāh ibn ʻAbd al-Raḥmān Ibn Abī Zayd al-Qayrawānī — پی یو ایس ٹی آئی ڈی: https://pust.urbe.it/cgi-bin/koha/opac-authoritiesdetail.pl?marc=1&authid=300171
  4. Diamond Catalog ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/5885 — بنام: ʿAbd Allāh ibn ʿAbd al-Raḥmān Ibn Abī Zayd al-Qayrawānī
  5. عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118923803 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  6. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12464296r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  7. ابن أبي زيد القيرواني من خلال كتابه "متن الرسالة"، مجلة دعوة الحق، العدد 364 ذو الحجة 1422/فبراير 2002 آرکائیو شدہ 2017-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  8. 1 2 3 سير أعلام النبلاء، الطبقة الحادية والعشرون، ابن أبي زيد، جـ 17، صـ 10: 13 آرکائیو شدہ 2017-10-08 بذریعہ وے بیک مشین
  9. اجتماع الجيوش الإسلامية، فصل: ذكر قول الإمام مالك الصغير أبي محمد عبد الله بن أبي زيد القيرواني، طبعة مكتبة ابن رشد، جـ 1، صـ 151: 156 آرکائیو شدہ 2017-10-08 بذریعہ وے بیک مشین
  10. عقيدة السلف - مقدمة أبي زيد القيرواني لكتابه الرسالة، طبعة دار العاصمة، صـ 56 آرکائیو شدہ 2018-01-13 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  11. طبقات الشافعية الكبرى للتاج السبكي، ج: 3، ص: 368-372.
  12. رفع الإشكال عن رسالة ابن أبي زيد القيرواني. آرکائیو شدہ 2018-03-14 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  13. موقع نيل وفرات: ابن أبي زيد القيرواني وعقيدته في 'الرسالة' و'الجامع'؛ دراسة في المنهج والمضمون. آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  14. تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري لابن عساكر.آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  15. أبو القاسم البرزالي۔ "نوازل البرزلي أو جامع مسائل الأحكام مما نزل من القضايا بالمفتين والحكام تأليف أبي القاسم بن احمد البرزالي المالكي / ت 844هـ طبع في دار الغرب الإسلامي بيروت في 7 مجلدات"۔ نوازل البرزالي۔ ج 6 شمارہ 200
  16. محمد ابن جزي۔ "التسهيل لعلوم التنزيل، تأليف محمد بن أحمد بن جزي الكلبي الأندلسي الغرناطي، طبع في دار أطلس الخضراء في 3 أجزاء"۔ التسهيل لعلوم التنزيل۔ ج 1 شمارہ 400۔ 2025-01-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-10
  17. كتاب عقيدة السلف مقدمة ابن أبي زيد القيرواني آرکائیو شدہ 2018-01-22 بذریعہ وے بیک مشین

بیرونی روابط

[ترمیم]