مندرجات کا رخ کریں

ابن اثیر جزری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
امام  [دوسری زبانیں] ‏   ویکی ڈیٹا پر  (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ابن اثیر جزری
(عربی میں: علي بن مُحمَّد بن عبد الكريم بن عبد الواحد الجزري الشيباني)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معلومات شخصیت
پیدائش 12 مئی 1160ء [1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزیرہ ابن عمر   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1233ء (72–73 سال)[5][1][6][2][3][7][8]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موصل   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش موصل   ویکی ڈیٹا پر  (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب ابن الأثير
بہن/بھائی
عملی زندگی
تلمیذ خاص ابن مودود موصلی   ویکی ڈیٹا پر  (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مورخ [9][10][11]،  سوانح نگار ،  الٰہیات دان [9][10]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تاریخ ،  علم حدیث   ویکی ڈیٹا پر  (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں الکامل فی التاریخ ،  اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ   ویکی ڈیٹا پر  (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابن اثير جزری، جن کا مکمل نام ابو الحسن عز الدین علی بن محمد بن محمد بن عبد الکریم بن عبد الواحد جزری موصلی شیبانی تھا، (4 جمادی الاولیٰ 555ھ / 12 مئی 1160ء — شعبان 630ھ / جون 1233ء) ایک عظیم مسلم عالم دین ، مؤرخ ، ماہرِ انساب ، محدث ، ادیب اور اخبار نویس تھے۔ وہ مسلمان عرب مؤرخین میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔[12]

ابن اثیر نے عباسی خلافت کے آخری دور کو دیکھا اور خلیفہ المستنصر باللہ عباسی کے زمانے میں زندگی گزاری۔ انھوں نے صلاح الدين ايوبی کے عہد، بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی، خوارزم پر منگول حملوں اور مشرقِ اسلامی میں پیش آنے والے خونریز واقعات کا مشاہدہ کیا۔ انھوں نے اپنی مشہور کتاب الكامل فی التاريخ تصنیف کی، جس میں ابتدائے زمانہ سے لے کر اپنے زمانے تک کے واقعات کو ترتیبِ زمانی کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا۔ یہ کتاب اسلامی تاریخ کی اہم ترین تصانیف میں شمار ہوتی ہے اور تاریخی واقعات کی جامع تدوین کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔[12][13]

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

نسب

[ترمیم]

ابن اثير جزری کا مکمل نام عز الدین علی بن محمد بن محمد بن عبد الکریم بن عبد الواحد جزری موصلی شیبانی تھا۔ وہ قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتے تھے، جو ربیعہ عدنانیہ کی مشہور شاخوں میں سے ایک ہے۔[12][14]

ولادت اور ابتدائی زندگی

[ترمیم]

ابن اثير جزری کی پیدائش 4 جمادی الاولیٰ 555ھ / 12 مئی 1160ء کو جزیرہ ابن عمر میں ہوئی، جو جزیرہ فرات کے بالائی علاقے میں واقع تھا اور موجودہ دور میں جنوب مشرقی تركيا کا حصہ ہے۔ ان کے والد نے ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا۔ انھوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور پڑھنے لکھنے کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں جب ان کا خاندان موصل منتقل ہوا تو وہاں انھوں نے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ابو فضل عبد اللہ بن احمد اور ابو فرج یحییٰ ثقفی جیسے علما سے حدیث سنی۔

وہ حج کے سفر کے مواقع سے بھی علمی فائدہ اٹھاتے تھے۔ حج کے راستے میں بغداد جاتے اور وہاں کے جلیل القدر علما سے استفادہ کرتے، جن میں ابو قاسم یعیش بن صدقہ شافعی اور ابو احمد عبد الوہاب بن علی صدمی شامل تھے۔ بعد ازاں وہ دمشق گئے، جہاں شام کے علما اور فقہا سے علم حاصل کیا اور ایک مدت تک وہاں قیام کیا۔ پھر واپس موصل لوٹ آئے اور گوشہ نشینی اختیار کرکے تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے۔ وہ معروف لغوی مجد الدين مبارک بن اثير اور ادیب و وزیر ضياء الدين بن اثير کے بھائی تھے۔[12]

علمی مقام

[ترمیم]

ابن اثير جزری نے علم کے حصول اور علما سے ملاقات کے لیے طویل اسفار کیے۔ اس دوران انھوں نے حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، فرائض، منطق اور قراءات جیسے علوم حاصل کیے، کیونکہ جن ممتاز اساتذہ سے انھوں نے تعلیم پائی وہ ان علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ تاہم ابن اثیر نے خاص طور پر دو علوم کو اپنی تخصص کا میدان بنایا: علمِ حدیث علمِ تاریخ یہاں تک کہ وہ حدیث کے حفظ، معرفت اور متعلقہ علوم میں امام سمجھے جانے لگے۔ وہ قدیم و جدید تواریخ کے حافظ تھے، عربوں کے انساب، ان کے ایام اور تاریخی واقعات کے ماہر تھے اور رجال و انساب خصوصاً صحابہ کے حالات سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔

حدیث اور تاریخ کے انہی دو علوم کے ذریعے ابن اثير جزری نے اپنے زمانے میں عظیم شہرت حاصل کی، اگرچہ ان پر مؤرخ ہونے کی صفت اس قدر غالب آگئی کہ ان کی دوسری علمی حیثیتیں اس کے پیچھے چھپ گئیں۔ درحقیقت حدیث اور تاریخ کے علوم میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ اسلامی تدوینِ علم کے آغاز سے ہی اکثر بڑے محدثین عظیم مؤرخ بھی رہے ہیں۔ مثال کے طور پر: محمد بن جرير طبری تفسیر، فقہ اور تاریخ تینوں علوم کے امام تھے۔ شمس الدین ذہبی حدیث کے حافظ اور ایک عظیم مؤرخ تھے۔ ابن عساكر بھی ان دونوں صفات کے جامع تھے۔ ایسی مثالیں بہت زیادہ ہیں۔ ابن خلكان نے ابن اثیر کے بارے میں لکھا:

” “موصل میں ان کا گھر اہلِ فضل کا مرکز تھا۔ میری ان سے حلب میں ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں فضائل، تواضع اور عمدہ اخلاق کا کامل نمونہ پایا۔ میں بار بار ان کے پاس جاتا رہا۔ حلب کے اتابک طغرل نے بھی ان کی بڑی عزت و تکریم کی تھی۔” “

ابن اثیر سے روایت کرنے والوں میں: ابن الدبيثی ، قوصی ، ابن العديم اور ان کے والد ابو فضل بن عساكر ابو سعید قضاعی جیسے علما شامل تھے۔

تصانیف

[ترمیم]

ابن اثير جزری کو اپنی تصنیفات کے لیے وافر تاریخی مواد میسر آیا۔ اس کی کئی وجوہ تھیں، جن میں: موصل کے حکمرانوں سے ان کے قریبی تعلقات، علم کے حصول کے لیے ان کے متعدد اسفار، موصل کے حاکم کی جانب سے بعض سرکاری و سیاسی ذمہ داریوں کی انجام دہی، صلاح الدين ايوبی کے ساتھ غزوات میں شرکت جس کی وجہ سے وہ جنگی واقعات کو چشم دید انداز میں بیان کر سکے کتب کا مسلسل مطالعہ اور علم حاصل کرنے میں ان کی غیر معمولی محنت شامل ہے ۔

انھوں نے اس عظیم تاریخی مواد کو جمع کرکے اسے مرتب، مہذب اور منظم انداز میں تصنیف کیا، یہاں تک کہ یہ چار بڑی کتابوں کی صورت میں سامنے آیا۔ انہی تصانیف نے انھیں محمد بن جرير طبری کے بعد نمایاں ترین مسلم مؤرخین میں شامل کر دیا۔ ان کی مشہور تصانیف یہ ہیں:

  1. الكامل فی التاريخ — عمومی تاریخ پر مشتمل کتاب۔
  2. التاریخ الباہر فی الدولۃ الاتابکیہ — اتابکی ریاست کی تاریخ پر کتاب۔
  3. اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ — صحابہ کے حالات و تراجم پر مشتمل کتاب۔
  4. اللباب فی تهذيب الانساب — انساب اور قبائل کے موضوع پر کتاب۔[15]،

اس طرح ابن الاثیر نے تاریخ نگاری کی چار مختلف اقسام میں تصنیف و تالیف کی۔

الكامل فی التاريخ ایک عمومی تاریخ کی کتاب ہے جو 12 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں تخلیقِ کائنات اور آغازِ زمانہ سے لے کر مصنف کے دور تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب 628ھ تک کے حالات پر ختم ہوتی ہے۔ اس میں قدیم دنیا کی تاریخ بھی شامل ہے اور اسلام کے ظہور سے پہلے اور بعد کے واقعات بھی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، یعنی اسلام سے پہلے کی تاریخِ عالم اور اسلام کے بعد کی اسلامی تاریخ دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ ابن اثیر نے اس کتاب میں تاریخ لکھنے کے لیے “سال بہ سال” (حولی) طریقہ اختیار کیا، یعنی ہر سال کے واقعات کو الگ الگ درج کیا ہے۔ انھوں نے مشرق، مغرب اور ان کے درمیان کے علاقوں کی خبروں میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی، جو تقریباً ساڑھے سات سو سال کے عرصے پر محیط ہے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب دیگر تاریخوں کے مقابلے میں زیادہ جامع اور عمومی تاریخ کا درجہ رکھتی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے صرف بڑے سیاسی واقعات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ: مقامی حادثات موسم اور فطری حالات قحط، مہنگائی اور ارزانی وبائیں اور بیماریاں زلزلے جیسے سماجی اور طبعی واقعات کو بھی شامل کیا ہے۔

الكامل فی التاريخ صرف واقعات و حوادث کو نقل کرنے والی کتاب نہیں ہے بلکہ اس کے مؤلف ایک ماہر تجزیہ کار اور بصیرت رکھنے والے ناقد بھی تھے۔ انھوں نے تاریخی مظاہر کی توجیہ اور تحلیل کرنے کی کوشش کی، اپنے مصادر کے راویوں اور مؤرخین پر تنقیدی نظر ڈالی اور ان کی روایات پر بحث بھی کی۔ ابن اثیر کے ہاں سیاسی، عسکری، اخلاقی اور عملی نوعیت کی تنقیدیں کتاب کے متن کے درمیان بسا اوقات خود بخود شامل ہو جاتی ہیں، جس سے ان کی تاریخی شخصیت اور علمی رائے واضح طور پر نمایاں ہوتی ہے۔

اس کتاب کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے محمد بن جرير طبری کی تاریخ کو آگے بڑھایا، کیونکہ طبری کی کتاب 302ھ پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد تقریباً تین صدیوں سے زائد عرصے کی جامع تاریخ موجود نہیں تھی، جس خلا کو ابن الاثیر نے پُر کیا۔ مزید یہ کہ اس کتاب میں: صلیبی جنگوں کی مکمل اور مسلسل تاریخ 491ھ سے 628ھ تک شامل ہے اور اسلامی مشرق پر تاتاری یلغار کی ابتدا 616ھ سے تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے ۔ ابن الاثیر نے اپنی تاریخ سادہ اور روان نثر میں لکھی، جس میں تکلف اور لفظی آرائش نہیں ہے۔ انھوں نے مشکل اور غیر مانوس الفاظ سے اجتناب کیا اور تاریخی مواد کو مختصر، واضح اور جامع انداز میں پیش کیا۔ یوں یہ کتاب ان تمام اہم تاریخی واقعات کا مجموعہ ہے جو اس دور میں پیش آئے۔

اسد الغابة فی معرفة الصحابة کا موضوع رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کی سوانح اور تراجم ہیں، یعنی ان ہستیوں کا تعارف جنھوں نے دعوتِ اسلام کا پرچم اٹھایا، مختلف علاقوں میں سفر کیا اور اپنے کردار و عمل سے قوموں اور سلطنتوں کی اصلاح کی، اس سے پہلے کہ وہ جنگ و قتال کے ذریعے فتوحات کرتے۔ اس کتاب کی تیاری میں ابن اثير جزری نے متعدد مصادر سے استفادہ کیا۔ ان میں سے چار بنیادی اور مرکزی ماخذ ایسے تھے جن پر انھوں نے خاص طور پر اعتماد کیا اور وہ ان کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے تھے: معرفة الصحابة الاستيعاب فی معرفة الاصحاب معرفة الصحابة الذيل على معرفة الصحابة ان مصادر کی بنیاد پر ابن الاثیر نے صحابہ کے حالات کو جمع، ترتیب اور تحقیق کے ساتھ پیش کیا۔

اس کتاب میں تقریباً 7554 صحابہ اور صحابیات کی سوانح و تراجم شامل ہیں۔ کتاب کے آغاز میں صحابی کی تعریف واضح کرنے کے لیے ایک مقدمہ (تمہید) شامل کیا گیا ہے، تاکہ قاری کو اس اصطلاح کی صحیح سمجھ حاصل ہو سکے۔ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں صحابہ کے تراجم کو حروفِ تہجی (الفبائی) ترتیب کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔ ہر صحابی کے ذکر کا آغاز ان مصادر کے ذکر سے ہوتا ہے جن پر مؤلف نے اعتماد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ درج ذیل معلومات بیان کرتے ہیں: صحابی کا نام اور نسب اگر وہ مہاجرین میں سے ہوں تو ان کی ہجرت کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے مشاہدات اور غزوات وفات کی تاریخ اور مقام، اگر معلوم ہو یہ کتاب متعدد مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور صحابہ کی سوانح کے اہم ترین مصادر میں شمار ہوتی ہے۔[16]

وفات

[ترمیم]

ابن اثير جزری اپنی رحلات کے بعد موصل ہی میں مقیم رہے اور زندگی کے آخری حصے میں تصنیف و تالیف کے کام میں مشغول رہے۔ وہ حکومتی مناصب سے دور رہے اور اپنی مالی حالت کی وجہ سے باعزت اور آرام دہ زندگی گزارتے رہے۔ ان کا گھر طلبہ اور آنے جانے والے اہل علم کے لیے ایک علمی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ آخرکار وہ شعبان 630ھ میں وفات پا گئے۔ ان کی قبر موصل میں ایک علاحدہ مقام پر موجود تھی، لیکن بعد میں قبرستان ختم کر دیا گیا اور ان کی قبر بابِ سنجار کے علاقے میں سڑک کے درمیان آ گئی۔ بعد ازاں یہ نشانات بھی مٹ گئے اور 2014ء میں موصل پر تنظیم داعش کے قبضے کے دوران ان کی قبر کے آثار بھی ختم کر دیے گئے۔[17][18] ۔ .[19]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb15085637q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  2. 1 2 عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Ibn-al-Athir — بنام: Ibn al-Athir — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. 1 2 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6qr917w — بنام: Ali ibn al-Athir — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ↑ عنوان : Чувашская энциклопедия — ISBN 978-5-7670-1471-2 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://chuvenc.ru/
  5. ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118863835 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  6. ↑ مصنف: آرون سوارٹز — او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL5373159A?mode=all — بنام: Izz al-Din Ibn al-Athir — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ↑ ناشر: انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، انکارپویشن — دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/ibn-al-athir/ — بنام: IBN AL-ATHĪR — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. ↑ بنام: ʻAlī ibn Muḥammad Ibn al-Athīr — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/62694 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  9. 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118863835 — اخذ شدہ بتاریخ: 19 ستمبر 2024 — اجازت نامہ: CC0
  10. 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118863835 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  11. ↑ مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین —  : اشاعت 15 — جلد: 4 — صفحہ: 331 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
  12. 1 2 3 4 الكامل في التاريخ، ابن الأثير الجزري، طبعة دار بيت الأفكار الدوليَّة في عمَّان، صدرت في عام 2005، ص 9
  13. ↑ "زي النهارده.. ولد ابن الأثير الجزري"۔ البوابة نيوز۔ 2020-07-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-08-21
  14. ↑ تذكرة الحفاظ/الطبقة الثامنة عشرة
  15. ↑ عز الدين أبي الحسن علي/ابن الأثير الجزري (1 جنوری 2000)۔ اللباب في تهذيب الأنساب 1-2 ج1 (بزبان عربی)۔ Dar Al Kotob Al Ilmiyah دار الكتب العلمية۔ ISBN:978-2-7451-2683-2۔ 2023-08-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  16. ↑ انظر مقدمة الذهبي لتجريد أسماء الصحابة، بيروت، دار المعرفة، ص ب.
  17. ↑ "الموصل بعد 150 عاماً !"۔ almadapaper.net۔ 20 جولائی 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-21
  18. ↑ "عز الدين بن الاثير وقبر البنت"۔ omferas.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-21[مردہ ربط]
  19. ↑ "قبر البنت في باب سنجارفي الموصل". منتديات برطلي (بزبان امریکی انگریزی). 21 Nov 2023. Retrieved 2023-11-21.