ابن ادریس حلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن ادریس حلی
(عربی میں: محمد بن منصور الحلي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1148  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1202 (53–54 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابن ادریس حلی (پیدائش: 1148ء— وفات: 1202ء) شیعی محدث اور فقیہ تھے۔ ابن ادریس حلی چھٹی صدی ہجری کے مؤثر فقہائے شیعہ میں سے ہیں۔ ابن ادریس استنباطِ احکام میں کثیر عقلی دلائل، شاذ فتاویٰ دینے اور شیخ طوسی (متوفی 1067ء) کی ہیبت علمی کو توڑنے میں مشہور ہیں۔

سوانح[ترمیم]

نام و نسب[ترمیم]

ابن ادریس کا نام محمد، کنیت ابوعبداللہ اور لقب فخرالدین اور شمس الدین ہے۔[1] ابن ادریس کو عجلی اور رَبَعی بھی کہا گیا ہے (بنی عجل سے منسوب ہے جو بکر بن وائل قبیلے سے ربیعہ کی ایک شاخ ہے) ۔[2] ابن‌ادریس نے شیخ طوسی کے نسخہ کتاب مصباح المتہجد میں اپنا نسب مکمل طور پر ذکر کیا ہے اور اپنے باپ کا نام منصور بن احمد بن ادریس لکھا ہے۔ اس لحاظ سےان کی شہرت ان کے جد (دادا) سے لی گئی ہے۔[3] ان کی والدہ کے نسب میں اختلاف موجود ہے۔ بعض مصادر ابن ادریس کو شیخ طوسی کی نواسی سے کہتے ہیں اور کہا گیا کہ ابن ادریس اپنے ماموں ابو علی طوسی کے واسطے سے شیخ طوسی سے روایت نقل کرتے ہیں۔[4] لیکن محققین ابن ادریس کے سنہ ولادت اور شیخ طوسی کے سنہ وفات (460ھ) کے درمیان زیادہ فاصلے اور دیگر دلائل کی وجہ سے اسے درست تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ بعض مصادر ابن ادریس کو شیخ مسعود ورّام کی نواسی سے سمجھتے ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

غالباً ابن ادریس کی پیدائش 543ھ مطابق 1148ء میں ہوئی ہے [5] کیونکہ اُنہوں نے اپنی بلوغت کا سنہ 558ھ مطابق 1163ء لکھا ہے۔[6]

اساتذہ[ترمیم]

ابن ادریس کے اساتذہ یہ ہیں:

  • عبد اللہ بن جعفر دوریستی
  • علی بن ابراہیم علوی عُرَیضی
  • عربی بن مسافر عبادی
  • سوراوی
  • ابوالمکارم ابن زہرہ حلبی (صاحب غنیۃ النزوع)
  • ابن شہر آشوب
  • عمیدالرؤسا ھبۃ اللہ بن حامد
  • حسین بن ھبۃ اللہ (ھبۃ اللہ بن حامد کے فرزند)

تلامذہ[ترمیم]

ابن ادریس حلی کے شاگرد یہ ہیں، علاوہ ازیں یہ شاگرد علم حدیث میں بھی اِن کے رُوَات ہیں:

  • فخار بن معد الموسوی
  • نجیب الدین محمد بن جعفر بن نما
  • جعفر بن نما (نجیب الدین محمد کے دادا)
  • ابوالحسن علی بن یحییٰ خیاط
  • سید محی الدین حسینی حلبی (یہ ابن زہرہ حلبی کے بھتیجے تھے)
  • جعفر بن احمد قمرویہ الحائری
  • بہاء الدین وَرام
  • حسن بن یحییٰ الحِلی (جمال الدین حسن بن یوسف بن مطہر حلّی کے والد تھے)

فقہ میں اجتہاد اور شیخ طوسی کے برعکس حیثیت[ترمیم]

ابن ادریس سے پہلے تمام فقہا شیخ طوسی کی اتباع کر رہے تھے اور کسی میں ان کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں تھی اور سب شیخ طوسی کے استنباط کے طریقے پر کاربند تھے لیکن ابن ادریس نے اس ہیبت کو ختم کیا اور فقہ کو ایک نئے مرحلے میں وارد کیا۔ محققین کی نظر میں اکثر فقہا شیخ طوسی کے بعد شیخ پر اعتماد اور حسن اعتقاد کی بدولت شیخ کی فقہی اور غیر فقہی نظریات میں ان کی پیروکار تھے۔ اس وجہ سے شیعی فقہ میں اجتہاد اور استنباط کا گراف نیچے آ گیا۔فکری استقلال کی ضرورت کے پابند ابن ادریس جیسے گنے چنے چند فقہا نے شیخ طوسی سمیت گذشتہ فقہا کے آرا و نظریات پر اعتراض کرنے کا باب کھولا۔ اس روش نے مستقبل کے فقہا پر اپنا اثر چھوڑا اور اس روش کی بدولت شیعہ اجتہاد میں دوبارہ جان پیدا کی۔

وہ فقہ، اصول، تفسیر اور لغت میں تبحر رکھتے تھے۔ ابن ادریس استنباط احکام میں کثیر عقلی دلائل، شاذ فتاوا دینے اور شیخ طوسی کی ہیبت علمی کو توڑنے میں مشہور ہیں۔ انہوں نے فقہ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا اور شیخ طوسی کے نظریات کو رد کرنے میں دوسرے علما کی نسبت پہل کی۔ کہا گیا ہے کہ وہ بہت شدید لہجے میں دوسروں پر تنقید کرتے، اسی وجہ بعض علما ان پر معترض ہوئے ہیں۔ ابوالمکارم بن زہرہ اور ابن شہرآشوب ان کے مشہور اساتذہ میں سے ہیں اور ابن نما اور ان کے والد محقق حلی جیسے برجستہ علما ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔ابن ادریس کی کتاب سرائر کو ان کے مؤثر ترین اثر میں گنا جاتا ہے۔

علما ابن ادریس کی نسبت تمام روایات کے چھوڑنے کے نظریہ کو قبول نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ خبر متواتر قرائن قطعی پر مشتمل خبر واحد کو حجت سمجھتے تھے اور صرف خبر واحد پر عمل کے مخالف تھے۔[7] ابن ادریس سے پہلے کے علما جیسے سید مرتضی علم الہدی اور بعض چھٹی صدی کے علما جیسے ابن شہر آشوب، طَبْرِسی اور ابن زہرہ بھی اس نظریے کے قائل تھے اور اس نظزیے کو قبول کرنا کسی بھی لحاظ سے قابل طعن نہیں ہے اور نہ ہی ان کے ضعف کا سبب بن سکتا ہے۔

وفات[ترمیم]

بعض مؤلفین کے نزدیک ابن ادریس تقریباً 597ھ اور اُن کے بیٹے صالح کے مطابق تقریباً 598ھ میں فوت ہوئے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن الفوطی: تلخیص مجمع‌الآداب فی معجم الالقاب جلد 4، قسم 3، صفحہ 308۔
  2. السمعانی: الانساب،  جلد 4، صفحہ 160
  3. آفندی اصفہانی:  جلد 5،  صفحہ 35۔
  4. شیخ حر عاملی: امل‌الآمل، جلد 2، صفحہ 237۔
  5. محمد بن اسماعیل مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، جلد 5،  صفحہ 348۔
  6. محمد باقر مجلسی: بحار الانوار، جلد 104، صفحہ 19
  7. ابن ادریس الحلی: السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، جلد 1، صفحہ 47۔ مطبوعہ 1411ھ قم۔
  8. آقا بزرگ تہرانی: طبقات اعلام الشیعۃ، جلد 12، صفحہ 155۔ مطبوعہ بیروت، 1972ء