ابن جریر طبری
| امام | |
|---|---|
| ابن جریر طبری | |
| رحمہ اللہ | |
| (عربی میں: محمد بن جرير الطبري) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 839ء [1][2][3][4][5] آمل [5] |
| وفات | سنہ 922ء (82–83 سال) بغداد [5] |
| مدفن | الرحبی پارک |
| رہائش | آمل رے مصر بغداد |
| شہریت | |
| مذہب | اسلام |
| فرقہ | اہل سنت |
| فقہی مسلک | اجتہاد (مؤسس جریری مذہب) |
| عملی زندگی | |
| استاذ | محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم |
| تلمیذ خاص | ابوبکر القفال الشاشی |
| پیشہ | مورخ [5]، فلسفی ، فقیہ ، مصنف [6]، شاعر |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی [5] |
| شعبۂ عمل | اسلامی الٰہیات ، تفسیر قرآن |
| کارہائے نمایاں | تفسیر طبری ، تاریخ الرسل والملوک ، تہذیب الآثار |
| درستی - ترمیم | |
ابو جعفر محمد بن جریر طبری (224ھ –310ھ / 839ء –923ء )[7] ایک بڑے مفسر ، مؤرخ اور فقیہ تھے۔[8] انھیں "امام المفسرین" کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ ان کی ولادت طبرستان کے دار الحکومت آمل میں ہوئی۔ [9] انھوں نے ری ، بغداد، کوفہ اور بصرہ کا سفر کیا۔ بعد میں مصر گئے اور 253ھ میں فسطاط پہنچ کر وہاں کے علما سے امام مالک ، امام شافعی اور ابن وہب کے علوم حاصل کیے۔ پھر واپس آ کر بغداد میں مستقل سکونت اختیار کی۔ ،[10] خطيب بغدادی ان کے بارے میں کہتے ہیں: وہ قرآن کے حافظ، قراءات کے ماہر، معانی کے جاننے والے، فقہ القرآن میں ماہر، حدیث اور اس کی اسناد، صحیح و ضعیف، ناسخ و منسوخ سب کے عالم تھے۔ صحابہ، تابعین اور بعد کے اہل علم کے اقوال سے بھی پوری طرح واقف تھے اور حلال و حرام کے مسائل میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ [11] ان پر قضا (جج بننے) کی پیشکش کی گئی مگر انھوں نے قبول نہ کی اور اسی طرح دیگر حکومتی مناصب سے بھی انکار کیا۔
ياقوت حموی کہتے ہیں:[12] ان کے ترکے میں 80 سے زیادہ ضخیم جلدوں میں ان کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے مسودات ملے۔ ان کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں:[13] :[14] اختلاف علما الامصار (ان کی پہلی کتاب) جامع البيان عن تاويل القرآن (تفسیر طبری) تاريخ الامم والملوک (تاریخ طبری) تهذيب الآثار ، ذيل المذيل ، لطيف القول في احكام الشريعہ ، بسيط القول في احكام الشريعہ ، كتاب القراءات ، صريح السنہ ، التبصير فی معالم الدين ، محمد بن جریر طبری کا انتقال شوال 310ھ میں بغداد میں ہوا اور وہیں دفن کیے گئے۔ [15][16][17]
نسب اور ابتدائی زندگی
[ترمیم]وہ ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب طبری ہیں۔ طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ آمل نام کے دو شہر ہیں، اس لیے اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ کس آمل سے تعلق رکھتے تھے، تاہم بعض محققین کے نزدیک مراد ترکمانستان والا آمل ہے۔[18][19]، [20] ان کی پیدائش 224ھ میں ہوئی۔ بعض علما نے ان کا نسب یمن کے قبیلہ ازد کی طرف منسوب کیا ہے، جس کی ایک جماعت مشرقی اسلامی علاقوں میں آباد ہوئی تھی اور یہی قول زیادہ راجح سمجھا جاتا ہے۔ خود طبری نسبی مباحث میں زیادہ گفتگو سے احتراز کرتے تھے، جبکہ مستشرق بروکلمان نے انھیں عجمی النسل قرار دیا ہے۔[21][22][23][24][25][26][27]
طبری نے آمل ہی میں پرورش پائی۔ ان کے والد نے ان کی بہترین تربیت کی، ان میں ذہانت، فہم اور علم کا شوق محسوس کیا، چنانچہ بچپن ہی سے انھیں قرآن مجید حفظ کرنے کی طرف متوجہ کیا، جیسا کہ اس زمانے کے اسلامی تعلیمی طریقوں میں رائج تھا۔ [28]خصوصاً اس لیے بھی کہ ان کے والد نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر انھوں نے نیک لی: انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کا بیٹا رسول کے سامنے کھڑا ہے، اس کے پاس پتھروں سے بھری تھیلی ہے اور وہ انھیں رسول کے سامنے پھینک رہا ہے۔ جب یہ خواب ایک معبّر کو سنایا گیا تو اس نے کہا: “تمھارا بیٹا بڑا ہو کر دین کی نصرت کرے گا اور شریعت کا دفاع کرے گا۔”[29]
معلوم ہوتا ہے کہ والد نے یہ خواب بار بار اپنے بیٹے کو سنایا، جس سے اس میں علم حاصل کرنے کا شوق اور جذبہ مزید بڑھ گیا۔ چنانچہ وہ علم کے حصول، محنت اور جدوجہد میں لگ گیا اور بعد میں تصنیف و تالیف کے ذریعے دین کا دفاع کرنے لگا۔ بچپن ہی میں طبری پر غیر معمولی ذہانت اور علمی صلاحیتوں کے آثار ظاہر ہو گئے تھے۔ ان کے والد نے اس کو پہچان کر اس کی بھرپور پرورش کی، انھیں علما اور تعلیمی مراکز کی طرف بھیجا اور دنیاوی مشاغل سے آزاد رکھ کر علم کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی۔ یوں طبری نے نہ صرف اپنے والد کی توقعات پوری کیں بلکہ ان کے خوابوں سے بھی آگے بڑھ گئے۔ طبری خود بیان کرتے ہیں: “میں نے سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا، آٹھ سال کی عمر میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگا اور نو سال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کر دی۔”[30]
صفات
[ترمیم]نبوغ اور ذہانت
[ترمیم]امام طبری فطری صلاحیتوں کے حامل تھے۔ وہ غیر معمولی ذہانت، تیز عقل، گہری فہم اور قوی حافظہ رکھتے تھے۔ ان کے والد نے ان اوصاف کو بچپن ہی میں پہچان لیا، اس لیے انھیں کم عمری ہی سے طلبِ علم کی طرف متوجہ کیا اور اپنی زمین کی آمدنی ان کی تعلیم، سفر اور علمی مصروفیات پر خرچ کرنے کے لیے مخصوص کر دی۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انھوں نے سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا، آٹھ سال کی عمر میں لوگوں کو نماز پڑھائی اور نو سال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کر دی۔[31]
امام طبری کا حافظہ
[ترمیم]
امام طبری غیر معمولی حافظے کے مالک تھے۔ وہ متعدد علوم کو جمع کرتے، ان کے مسائل، دلائل اور شواہد کو یاد رکھتے تھے۔ ان کی موجودہ تصانیف اس بات کی واضح دلیل ہیں۔ ابو حسن سری بن مغلس نے کہا: “اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ابو جعفر طبری نے اپنی زندگی میں جتنا علم محفوظ کیا، اس میں سے جو کچھ وہ بھول گئے، وہ بھی اتنا ہے جتنا کوئی دوسرا شخص اپنی پوری زندگی میں یاد کر پاتا ہے۔”[32]
ورع اور زہد
[ترمیم]امام طبری نہایت متقی، زاہد اور پرہیزگار تھے۔ وہ حرام سے سخت بچتے، مشتبہ امور سے دور رہتے، اللہ کا خوف رکھتے اور سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا گزارا زیادہ تر اپنے والد کی چھوڑی ہوئی زمین اور باغ کی آمدنی پر ہوتا تھا۔ ابن کثیر نے ان کے بارے میں کہا:[33] “وہ عبادت، زہد، تقویٰ اور حق پر قائم رہنے میں بلند مقام رکھتے تھے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتے تھے… وہ بڑے صالحین میں سے تھے۔”[34] وہ دنیاوی آسائشوں سے بے رغبت تھے، علم کے حصول کے دوران کم سے کم پر اکتفا کرتے اور بادشاہوں و حکام کے عطیات قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔[35]
عفت اور خودداری
[ترمیم]امام طبری نہایت پاکیزہ زبان کے مالک تھے اور کسی کو اذیت دینے سے بچتے تھے۔ وہ ایسے اخلاق سے دور رہتے تھے جو اہلِ علم کے شایانِ شان نہ ہوں۔ ایک مرتبہ ان کا مناظرہ داود بن علی ظاہری سے ہوا، جب داود لاجواب ہو گئے تو ان کے ایک ساتھی نے امام طبری کو سخت بات کہی، مگر انھوں نے اس کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا، خاموشی اختیار کی اور مجلس سے اٹھ گئے، بعد میں اس مسئلے پر ایک کتاب تصنیف کی۔ اسی طرح وہ انتہائی خوددار بھی تھے؛ تنگی کے باوجود کسی سے سوال نہ کرتے، لوگوں کے مال سے بے نیاز رہتے اور عطیات سے اجتناب کرتے تھے۔ [36] .[37]
طبری کا تواضع اور درگزر
[ترمیم]طبری اپنے اصحاب، زائرین اور طلبہ کے ساتھ نہایت عاجزی اور انکسار سے پیش آتے تھے، اپنی علمی حیثیت کے باوجود نہ تکبر کرتے تھے، نہ علم پر گھمنڈ کرتے تھے اور نہ دوسروں پر برتری جتاتے تھے۔ اگر انھیں دعوت دی جاتی تو قبول کر لیتے اور اگر کسی مجلس یا ضیافت میں بلایا جاتا تو وہاں بھی تشریف لے جاتے تھے۔ [38] وہ کسی کے لیے دل میں کینہ اور بغض نہیں رکھتے تھے، بلکہ مطمئن طبیعت کے مالک تھے، جو ان کے ساتھ غلطی کرتا اسے معاف کر دیتے اور جو ان کے ساتھ زیادتی کرتا اس سے درگزر کرتے۔ [39]محمد بن داود ظاہری نے طبری پر بے بنیاد الزامات لگائے اور ان پر سخت تنقید کی، کیونکہ طبری نے ان کے والد سے مناظرہ کر کے ان کے دلائل کو رد کر دیا تھا۔ لیکن جب طبری کی ملاقات محمد بن داود سے ہوئی تو انھوں نے ان سب باتوں کو نظر انداز کر دیا اور اس کے والد کے علم کی تعریف کی، جس کے بعد بیٹے نے بھی حد سے تجاوز اور الزامات لگانا چھوڑ دیا۔ [40]
اس تمام تواضع، وسعتِ قلبی اور درگزر کے باوجود، طبری باطل پر خاموش نہیں رہتے تھے، نہ حق کے معاملے میں کسی کی خوشامد کرتے تھے اور نہ اپنے عقیدہ یا اصول پر سمجھوتہ کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ حق بات کہتے تھے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے۔ وہ مضبوط دل، بہادر اور حق کے اظہار میں جری تھے، چاہے اس کے نتیجے میں انھیں جاہلوں کی اذیت، حسد کرنے والوں کی تنگی یا بدخواہوں کے الزامات ہی کیوں نہ سہنے پڑیں۔ [41]
اس کی آزمائش
[ترمیم]
امام محمد بن جریر طبری کو اپنی زندگی کے آخری دور میں شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ بغداد میں حنابلہ کے ایک بڑے عالم ابو بکر بن داؤد کے ساتھ اختلافات اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بعض حنابلہ نے طبری کو اذیتیں پہنچائیں۔ عوام الناس نے بھی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں تشیع کی طرف منسوب کیا اور اس الزام میں حد سے بڑھ گئے۔ یہاں تک کہ لوگوں کو ان کے پاس جانے سے روک دیا گیا اور امام طبری اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گئے، یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔[42]
بعض حنبلی علما کی محمد بن جریر طبری سے عداوت کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب «اختلاف الفقہاء» میں احمد بن حنبل کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ انھوں نے بہت سے فقہا جیسے ابو حنیفہ ، محمد بن ادریس شافعی ، مالک بن انس اور اوزاعی وغیرہ کا ذکر کیا تھا۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ ابن حنبل فقیہ نہیں بلکہ محدث تھے۔ تاہم اس کے باوجود طبری نے ابن حنبل کی قدر کم نہیں کی، بلکہ ان کا مقام بلند بیان کیا اور محنۂ خلقِ قرآن کے مسئلے میں ان کی رائے کی پیروی کی۔ اپنی کتاب «صریح السنہ» میں طبری لکھتے ہیں: “رہا قرآن کے بارے میں بندوں کے الفاظ کا مسئلہ، تو اس بارے میں ہمیں کسی صحابی یا تابعی سے کوئی روایت معلوم نہیں، سوائے اس کے جس کے قول میں کفایت اور شفا ہے یعنی امام ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل اور ہمارے نزدیک اس مسئلے میں ان کے قول کے سوا کوئی بات کہنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ہمارے لیے ان کے سوا کوئی امام نہیں جس کی ہم پیروی کریں اور انہی کا قول ہمارے لیے کافی اور قابلِ اعتماد ہے اور وہی امام متبع ہیں۔”[43]
اس آزمائش کے بعد محمد بن جریر طبری اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے حنابلہ کے سامنے وضاحت اور معذرت کے طور پر ایک مشہور کتاب تصنیف کی، جس میں احمد بن حنبل کے مذہب کو بیان کیا، اس کے عقیدہ کو درست قرار دیا اور ان لوگوں کی تردید کی جنھوں نے ان کے بارے میں غلط گمان کیا تھا۔[44] جب انھوں نے یہ کتاب حنابلہ کے سامنے پیش کی تو انھوں نے ان سے صلح کر لی اور مخالفت چھوڑ دی۔ اس کے بعد ان کے طلبہ دوبارہ ان کی مجالس میں آنے لگے، جبکہ اس سے پہلے حنابلہ لوگوں کو ان سے ملنے سے روکتے تھے، یہاں تک کہ کوئی ان کے پاس آتا جاتا بھی نہ تھا۔ اس آزمائش کی تفصیلات متعدد مؤرخین اور علما نے بیان کی ہیں، جن میں ياقوت الحموی (معجم الادباء )، ابن عساكر (تاريخ دمشق)، ابن الاثير (الكامل فی التاريخ)، ابن كثير (البدایہ والنہایہ)، خطیب بغدادی (تاريخ بغداد)، شمس الدین ذہبی (سیر اعلام النبلاء) اور الصفدی (الوافی بالوفیات) شامل ہیں۔ [45][46][47][48]
اسی طرح بعض لوگ آیت
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
کی تفسیر میں یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نبی محمد کو ان کے تہجد کے بدلے عرش پر بٹھائیں گے۔ اس پر طبری نے کہا:
“عرش پر بیٹھنے والی روایت محال ہے” اور ایک شعر پڑھا:
“پاک ہے وہ ذات جس کا کوئی ہم نشین نہیں اور نہ اس کے عرش پر کوئی ہم مجلس ہے۔”
جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ناراض ہو گئے، عوام کو ان کے خلاف بھڑکا دیا، انھیں رافضی قرار دیا اور ان کے گھر پر پتھراؤ بھی کیا۔ [44]
تلامذہ
[ترمیم]امام طبری اپنے زمانے کے بڑے علما میں سے تھے۔ ان کی مجالسِ علم میں بہت سے نامور علما شریک ہوئے اور ان سے استفادہ کیا۔ ان کے مشہور تلامذہ میں شامل ہیں:
- شیخ عبد اللہ بن احمد فرغانی
- شیخ احمد بن عبد اللہ بن حسین جبنی کبائی
- شیخ احمد بن موسیٰ بن عباس تمیمی
- شیخ احمد بن کامل قاضی
- شیخ مخلد بن جعفر
- شیخ عبد الواحد بن عمر بن محمد ابو طاہر بغدادی البزاز
- شیخ محمد بن احمد بن عمر ابو بکر ضریر رملی
- شیخ محمد بن محمد بن فیروز
اور ان کے علاوہ بھی بہت سے علما نے ان سے علم حاصل کیا۔[49]
ابن جریر طبری کی چند تصانیف
[ترمیم]
- جامع البیان فی تفسیر القرآن۔ یہ اہل سنت کے ہاں سب سے قدیم تفسیر اور ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے ۔
- تاریخ الطبری (تاریخ الرسل والملوک)۔ تاریخ کے لحاظ سے یہ کتاب بھی اولین ماخذ کا درجہ رکھتی ہے ۔
- التبصیر فی معالم الدین[50]
- كتاب آداب النفس الجيدة والأخلاق النفيسة
- اختلاف علما الأمصار في أحكام شرائع الإسلام
- صريح السنة (مذهب و عقیدہ کی وضاحت)
- الفصل بين القراءات
- آداب القضاة
- آداب النفوس
- آداب المناسك
- تهذيب الآثار
- فضائل أبي بكر وعمر
- ذيل المذيل ۔ [51]
ان کا شعر
[ترمیم]| إذا أعسـرت لم يعلم رفيقي | وأستغني فيستغني صديقي | |
| حيائي حافظ لي ماء وجهي | ورفقي في مطالبتي رفيـقي | |
| ولو أني سمحت ببذل وجهي | لكنت إلى الغنى سهـل الطريق |
ترجمہ:اگر میں تنگدست ہوتا ہوں تو میرا دوست بھی اس کا علم نہیں پاتا اور جب میں خوش حال ہوتا ہوں تو میرا دوست بھی خوش حال ہو جاتا ہے
میرا حیا میرے چہرے کی آبرو کی حفاظت کرتا ہے اور میری نرمی و ملائمت میرے دوستوں کے مطالبات میں (ان کے ساتھ حسنِ سلوک میں) مددگار ہوتی ہے
اور اگر میں اپنا چہرہ (یعنی عزت و آبرو) نچھاور کرنے پر راضی ہو جاؤں تو میرے لیے مالداری تک پہنچنا بہت آسان راستہ ہوتا
علما کا امام طبری کے بارے میں خراجِ تحسین
[ترمیم]- امام نوویؒ فرماتے ہیں:
“امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ طبری جیسی تصنیف کسی نے نہیں کی۔”[52]
- یاقوت حموی کہتے ہیں:
“ابو جعفر الطبری محدث، فقیہ، قاری اور مؤرخ تھے، مشہور اور معروف شخصیت تھے۔”[53]
- خطیب بغدادی لکھتے ہیں:
“وہ علما کے اماموں میں سے تھے، ان کے قول کو فیصل سمجھا جاتا تھا اور ان کی رائے کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے کے کسی بھی شخص سے زیادہ علوم جمع کیے تھے۔ وہ حافظِ قرآن، قراءات کے ماہر، معانی کے ماہر، احکامِ قرآن کے فقیہ، سنن اور ان کی اسناد (صحیح و ضعیف) کے عالم، صحابہ و تابعین کے اقوال کے ماہر اور تاریخِ اقوام و ایام کے جاننے والے تھے اور ان جیسا بہت کم دیکھا گیا۔”[54][55]
- ابن خلكان کہتے ہیں:
“وہ اپنے زمانے کے مجتہد، بلند پایہ عالم، بہترین تصانیف کے مالک، ثقہ، سچے، حافظ، تفسیر میں امام، فقہ، اجماع و اختلاف کے ماہر، تاریخ اور ایامِ عرب کے جاننے والے، قراءات اور لغت میں ماہر تھے۔”[56]
- ابن الاثیر کہتے ہیں:
“ابو جعفر تاریخ نقل کرنے والوں میں سب سے زیادہ معتبر ہیں۔ ان کی تفسیر ان کے وسیع علم اور تحقیق پر دلالت کرتی ہے۔ وہ مجتہد تھے، کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے۔”[57]
- شمس الدین ذہبی فرماتے ہیں:
“وہ عظیم امام، مفسر ابو جعفر ہیں، بڑے تصانیف کے مالک، اسلامی ائمہ میں سے معتبر شخصیت۔ وہ ثقہ، حافظ، سچے، تفسیر، فقہ، اجماع، اختلاف، تاریخ، قراءات اور لغت کے امام تھے۔”[58] اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں: “طبری کی تفسیر جیسی کوئی کتاب کسی نے نہیں لکھی۔”
- القفطی کہتے ہیں:
“وہ کامل عالم، فقیہ، قاری، نحوی، لغوی، حافظ اور اخبار کا جاننے والا تھا، علوم کا جامع تھا۔ اس جیسا اپنے فنون میں کوئی نہیں دیکھا گیا۔ اس نے بڑی بڑی تصانیف لکھیں، جن میں قرآن کی تفسیر شامل ہے جو سب سے بڑی اور سب سے زیادہ فوائد والی تفسیر ہے۔”[59]
- ابن خزيمہ کہتے ہیں:
“میں زمین پر محمد بن جریر سے زیادہ عالم کسی کو نہیں جانتا۔”[60][61]
- ابن تغری بردی کہتے ہیں:
“وہ علم کے اماموں میں سے ایک تھے، ان کے قول کو فیصلہ کن سمجھا جاتا تھا، ان کی رائے کی طرف رجوع کیا جاتا تھا، وہ بہت سے علوم میں ماہر تھے اور اپنے زمانے کے یکتا شخص تھے۔”[62]
- ابن تيميہ فرماتے ہیں:
“لوگوں کے ہاتھوں میں موجود تفاسیر میں سب سے صحیح تفسیر محمد بن جریر طبری کی ہے، کیونکہ وہ سلف کے اقوال اسناد کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، اس میں بدعت نہیں اور نہ وہ متہم لوگوں سے روایت کرتے ہیں۔”[63]
- جلال الدین سیوطی کہتے ہیں:
“ابو جعفر امام المفسرین مطلقاً ہیں، بڑے ائمہ میں سے ہیں، انھوں نے ایسے علوم جمع کیے جو ان کے زمانے میں کسی اور کو حاصل نہ تھے۔ وہ حافظِ قرآن، معانی کے ماہر، فقہ القرآن کے فقیہ، سنن اور ان کی اسناد کے عالم، صحابہ و تابعین کے اقوال اور تاریخ و اخبار کے ماہر تھے۔” اور ایک اور جگہ لکھتے ہیں: “طبری اور ان کی تفسیر تمام تفاسیر میں سب سے عظیم اور جلیل القدر ہے، کیونکہ وہ اقوال کی توجیہ، ان میں ترجیح، اعراب اور استنباط کو بیان کرتے ہیں، اس لحاظ سے وہ تمام تفاسیر پر فوقیت رکھتی ہے۔”.[64] ".[65][66]
وفات اور مزار
[ترمیم]

امام طبری کا انتقال اتوار کے دن، مغرب کے وقت، 26 شوال 310ھ (مطابق 923 عیسوی) کو ہوا، جیسا کہ تاریخی مصادر میں مذکور ہے۔ وہ اپنی پوری زندگی علم و عمل کی عبادت گاہ میں گزارتے رہے۔[67] ابن کثیر کے مطابق: طبری کی وفات تقریباً پچاسی سال کی عمر میں ہوئی اور ان کے سر اور داڑھی میں اب بھی سیاہی باقی تھی۔ انھیں ان کے گھر ہی میں دفن کیا گیا، کیونکہ بعض عوامی حنبلیوں نے دن کے وقت ان کی تدفین سے منع کیا اور ان پر رفض (شیعیت) کا الزام لگایا۔ بعض جاہلوں نے تو ان پر الحاد تک کا الزام لگا دیا حالانکہ وہ اس سے بالکل بری تھے بلکہ وہ قرآن و سنت کے عظیم امام تھے۔ [68]
خطیب بغدادی اور ابن عساکر کے مطابق: ان کے جنازے میں اتنے لوگ شریک ہوئے کہ ان کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ کئی مہینوں تک ان کی قبر پر رات دن نمازِ جنازہ پڑھی جاتی رہی۔[69] انھیں اگلے دن دوپہر کے وقت ان کے گھر ہی میں دفن کیا گیا جو رحبة یعقوب (بغداد) میں واقع تھا۔ ان کی وفات پر اہلِ علم اور ادب کی ایک بڑی جماعت نے مرثیے لکھے۔ [70] .[71] ابو بکر بن دُرَید نے ان کی وفات پر ایک قصیدہ کہا، جس کا آغاز یوں ہے:
| لن تستطيع لأمر الله تعقيبا | فاستنجد الصبر أو فاتبع الخوبا |
اسی طرح ابو سعید ابن اعرابی نے بھی ان کے بارے میں مرثیہ کہا، جس میں یہ اشعار شامل ہیں::
| قام ناعي العلوم اجمع لما | قام ناعي محمد بن جرير |
آج کل رحبہ یعقوب (جہاں انھیں دفن کیا گیا تھا) کو حديقہ رحبی کہا جاتا ہے۔ پرانے مکانات ختم کر کے اس جگہ کو وسیع کر دیا گیا ہے۔ امام طبری کے مزار کی عمارت کی تجدید بھی کی گئی ہے اور ان کا قبر اب باغ کے درمیان، شارع عشرین، اعظمیہ (بغداد) میں واضح طور پر موجود ہے۔ [72]
مسلسل طبری
[ترمیم]عام 1987ء میں مصری ریڈیو اور ٹیلی ویژن اتحاد نے امام طبری کی زندگی پر مبنی پہلا ٹیلی ویژن ڈراما تیار کیا، جس کا نام “امام طبری” تھا۔ اس کی ہدایت کاری مجدی ابو عمیرہ نے کی، جبکہ مرکزی کردار عزت علايلى نے ادا کیا (امام طبری کا کردار)۔ دیگر اداکاروں میں امينہ رزق، سميہ الفی، ليلى فوزی اور عمر حريری شامل تھے۔ اس ڈرامے کی کل 28 اقساط تھیں، جو پہلی بار مصر کے سرکاری چینل القناة الأولى پر نشر ہوئیں اور بعد ازاں مختلف عرب ٹی وی چینلز پر بھی دکھائی گئیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118620436 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ ناشر: انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا انک. — دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/al-tabari/ — بنام: ṬABARĪ AL- — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ عنوان : Brockhaus Enzyklopädie — Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/abu-djaafar-muhammad-bin-djarir-at-tabari — بنام: Abu Djaafar Muhammad bin Djarịr at- Tabari
- ↑ Diamond Catalog ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/6855 — بنام: Muḥammad ibn Ǧarīr al-Ṭabarī
- ^ ا ب پ ت ٹ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb11925884j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ↑ عنوان : Library of the World's Best Literature — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library
- ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج الثاني، ص 508، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ البداية والنهاية، ابن كثير الدمشقي، الجزء الحادي عشر، فصل: ثم دخلت سنة عشر وثلاثمائة، ترجمة أبو جعفر الطبري، على ويكي مصدر
- ↑ "ياقوت الحموي: معجم الأدباء (إرشاد الأريب إلى معرفة الأديب) جـ 6، صـ 2445، على المكتبة الشاملة"۔ 2019-04-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ "ياقوت الحموي: معجم الأدباء (إرشاد الأريب إلى معرفة الأديب) جـ 6، صـ 2447، على المكتبة الشاملة"۔ 2019-04-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ "ياقوت الحموي: معجم الأدباء (إرشاد الأريب إلى معرفة الأديب) جـ 6، صـ 2448، على المكتبة الشاملة"۔ 2019-04-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ "تاريخ بغداد وذيوله، للخطيب البغدادي، طبعة المكتبة العلمية، جـ 2، صـ 161، على المكتبة الشاملة"۔ 2016-09-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ تفسير الطبري من كتابه جامع البيان عن تأويل آي القرآن، موقع طريق الإسلام آرکائیو شدہ 2024-12-22 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ "ياقوت الحموي: معجم الأدباء (إرشاد الأريب إلى معرفة الأديب) جـ 6، صـ 2460، على المكتبة الشاملة"۔ 2019-04-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ "سير أعلام النبلاء، شمس الدين الذهبي، الطبقة السابعة عشر، محمد بن جرير، جـ 14، صـ 267: 282، على موقع إسلام ويب"۔ 2019-03-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ الأعلام - خير الدين الزركلي - ج ٦ - الصفحة ٦٩. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ تفسير الطبري ولوج 31-03-2017 آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ library.islamweb.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ طبقات رواة الحديث بخراسان في القرن الخامس الهجري وعددهم(555)راويا - اطروحة دكتوراه: منصور غلام عبد الستار النهلوي، جامعة دمشق 2000 ص 32
- ↑ كتاب الطبري: السيرة والتاريخ، الدكتور عبد الرحمن العزاوي، دار الشؤون الثقافية، بغداد 1955 ص 174
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 48.
- ↑ حوار مع العلامة المؤرخ جواد علي، مجلة بين النهرين، العددان 59 – 60، 1985، ص93.
- ↑ ما ساهم به المؤرخون العرب في تاريخ الدولة العباسية، د. عبد العزيز الدوري، الجامعة الامريكية في بيروت، 1960 ص 34
- ↑ الوراقة والوراقين في التاريخ الاسلامي، د فاروق عمر فوزي، مجلة التاريخ والاثار العراقية العدد 7 ص 187
- ↑ مخطوطة كتاب مطالع الأنوار لأبي بكر المالقي، مخطوطة فريدة بخط المؤلف، د.قاسم السامرائي، مجلة عالم المخطوطات والنوادر، الرياض، المجلد الرابع، 1999، ص 104
- ↑ عروبة العلماء المنسوبين للبلدان الاجنبية -الطبري، د.ناجي معروف، مجلة الاقلام، 1966 ص 43
- ↑ أصول التاريخ والأدب، د.مصطفى جواد، مخطوط المجمع العلمي العراقي، مج 33 ص 21
- ↑ محمد بن جرير الطبري (224- 311هـ) أ.د. إبراهيم السلقيني عميد كلية الدراسات الإسلامية والعربية بدبي، مقال في مجلة كلية الدراسات الإسلامية والعربية العدد الأول 2002
- ↑ تاريخ اداب اللغة العربية ج3 ص 432
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 49. د/ محمد الزحيلي: الإمام الطبري ص31.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 49.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 49. د/ محمد الزحيلي: الإمام الطبري ص61، 62.
- ↑ معجم الأدباء: إرشاد الأريب إلى معرفة الأديب. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ books.google.com.sa (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ تاج الدين السبكي: طبقات الشافعية الكبرى 3/ 125.
- ↑ البداية والنهاية - ابن كثير - ج ١١ - الصفحة ١٦٦. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ د/ محمد الزحيلي: الإمام الطبري ص68.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 78، 79.
- ↑ د/ محمد الزحيلي: الإمام الطبري ص71.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 89.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء, مرجع سابق.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء، مرجع سابق. ابن كثير: البداية والنهاية 11/ 146.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 85، 86. د/ محمد الزحيلي: الإمام الطبري ص76.
- ↑ الطبري، د.عبد الرحمن العزاوي، دار الكتاب، بغداد، 1999، ص 45
- ↑ طه محمد نجار رمضان (1426 هـ - 2005 م)۔ مصطفى محمد حلمي (مدیر)۔ أصول الدين عند الإمام الطبري (الأولى ایڈیشن)۔ المملكة العربية السعودية – الرياض: دار الكيان۔ ص 33۔ 2023-10-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ اشاعت=(معاونت) - ^ ا ب حسين عاصي (1992 م)۔ أبو جعفر محمد بن جرير الطبري: وكتابه تاريخ الأمم والملوك۔ بيروت - لبنان: دار الكتب العلمية۔ ج 13۔ ص 58–60۔ 2023-10-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ اشاعت=(معاونت) - ↑ حسام بن حسن صرصور (2004 م)۔ آيات الصفات ومنهج ابن جرير الطبري في تفسير معانيها۔ بيروت - لبنان: دار الكتب العلمية۔ ص 506۔ 2023-10-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ اشاعت=(معاونت) - ↑ منى زيتون۔ "محنة الإمام الطبري مع الحنابلة"۔ صحيفة المثقف۔ 2021-01-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ طارق أبو السعد۔ "ماذا تعرف عن محنة الطبري مع الحنابلة؟"۔ حفريات - صحيفة إلكترونية ثقافية تصدر عن مركز دال للأبحاث والإنتاج الإعلامي في القاهرة.۔ 2024-10-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ يوسف زيدان۔ "اضْطهاد الطَّبَري"۔ المصري اليوم۔ 2024-12-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-23
- ↑ الخطيب البغدادي: تاریخ بغداد 2/548۔ ابن الجزری: غایة النہایة فی طبقات القراء 1/72۔
- ↑ "اختلاف علماء الأمصار في أحكام شرائع الإسلام (اختلاف الفقهاء) - الطبري"۔ SifatuSafwa (بزبان عربی)۔ 2024-12-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-04-09
- ↑ الطبري، د.عبد الرحمن العزاوي، دار الكتاب، بغداد، 1999، ص 43
- ↑ الإمام النووي: تهذيب الأسماء واللغات 1/ 78.
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 40.
- ↑ تذكرة الحفاظ - الذهبي - ج ٢ - الصفحة ٧١١. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ الخطيب البغدادي: تاريخ بغداد 2/ 550.
- ↑ وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان - ابن خلكان - ج ٤ - الصفحة ١٩١. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ ابن جَرِير الطَّبريمكتبة العرب آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ maktabatalarab.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج ١٤ - الصفحة ٢٦٧. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ القفطي: إنباه الرواة 3/ 89.
- ↑ الوافي بالوفيات - الصفدي - ج ٢ - الصفحة ٢١٣. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ الذهبي: العبر في خبر من غبر 1/ 460.
- ↑ ابن تغري بردي: النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة 3/ 205.
- ↑ مجموع فتاوى ابن تيمية - تقي الدين ابن تيمية - ج 13 الصفحة: 385 - مجمع الملك فهد سنة النشر: 1416هـ/1995م.
- ↑ طبقات المفسرين - جلال الدين السيوطي - الصفحة ٨٢. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ في علوم القرآن - السيوطي - ج ٢ - الصفحة ٥٠٠[مردہ ربط] .
- ↑ السيوطي: الإتقان في علوم القرآن 2/ 190.
- ↑ وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان - ابن خلكان - ج ٤ - الصفحة ١٩٢. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ البداية والنهاية - ابن كثير - ج ١١ - الصفحة ١٦٧. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج ٥٢ - الصفحة ٢٠٥. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ ياقوت الحموي: معجم الأدباء 18/ 40. القفطي: إنباه الرواة 3/ 90. تاج الدين السبكي: طبقات الشافعية الكبرى 3/ 126. ابن خلكان: وفيات الأعيان 3/ 332.
- ↑ تاريخ بغداد - الخطيب البغدادي - ج ٢ - الصفحة ١٦٤. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ shiaonlinelibrary.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- ↑ الدليل السياحي للأضرحة والمقامات في العراق - دائرة الأضرحة والمراقد والمقامات السنية العامة - ديوان الوقف السني - صفحة 34
- 839ء کی پیدائشیں
- 922ء کی وفیات
- بغداد میں وفات پانے والی شخصیات
- محمد بن عبد اللہ کی ثقافتی عکاسی
- 838ء کی پیدائشیں
- 923ء کی وفیات
- آمل کی شخصیات
- اسلام کے مسلمان مورخین
- ایرانی مورخین
- دسویں صدی کی ایرانی شخصیات
- دسویں صدی کے عرب مصنفین
- دسویں صدی کے مؤرخین
- رجال شناس
- سنی ائمہ
- علمائے اہلسنت
- فارس کے مسلمان مورخین اسلام
- مفسرین
- نویں صدی کی ایرانی شخصیات
- نویں صدی کے اسلامی مسلم علما
- نویں صدی کے عرب مصنفین
- طبرستان
- اثری شخصیات
- نویں صدی کے ماہرین قانون
- ازد
- خلافت عباسیہ کے صابی علماء
- 224ھ کی پیدائشیں
- 310ھ کی وفیات
- حفاظ قرآن
- ایرانی مسلمان صوفیاء
- ایران کے محدثین
- نویں صدی کے مؤرخین
- نویں صدی کے طبیب
- دسویں صدی کے طبیب
- اسلامی مذہبی رہنما
- نویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- دسویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- دسویں صدی کے مسلمان
- نویں صدی کی عباسی شخصیات
- تواریخ
- دسویں صدی کا ادب
- نویں صدی کا ادب
- فارسی ادب
- فارسی شخصیات
- خلافت عباسیہ کی شخصیات
- دسویں صدی کی شخصیات
- مسلمان علما
- ایرانی فلسفی
