ابن خلدون رسالہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مصری یونیورسٹی الازھر کے مشہور پروفیسر ڈاکٹر طہ حسین کے فرنچ رسالہ کے عربی ترجمے کا اردو ترجمہ جس میں ابن خلدون سوانح زندگی اور اس کے فلسفہ اجتماعی کی تشریح و تنقید ہے۔

کتاب پس منظر[ترمیم]

ڈاکٹر طہ حسین کو جب مصری یونیورسٹی نے تکمیل فن کے لیے فرانس بھیجا تو انہوں نے 1917 میں فرنچ زبان میں رسالہ ابن خلدون لکھا اور اس کے ذریعہ سے سربون یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی اور پھر کالج دی فرانس نے بھی ان کو اس رسالہ پر سنتورا مشہور انعام عطا کیا۔

اس کے بعد خود ڈاکٹر طہ حسین کی کاوش سے 1925 میں محمد عبد اللہ عنان نے عربی میں اس کا ترجمہ کیا اور اسی عربی ترجمہ کا اردو ترجمہ مولانا عبدالسلام ندوی نے سلیمان ندوی کے ایما پر کیا۔

ابن خلدون[ترمیم]

ابن خلدون ایک مورخ، فقیہ ، فلسفی اور سیاست دان تھے۔ پورا نام ابوزید ولی الدین عبدالرحمن ابن خلدون۔

تونس میں پیدا ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد تونس کے سلطان ابوعنان کے وزیر مقرر ہوئے۔ لیکن درباری سازشوں سے تنگ آ کر حاکم غرناطہ کے پاس چلے گئے۔ یہ سرزمین بھی راس نہ آئی تو مصر آ گئے اور الازھر میں درس و تدریس پر مامور ہوئے۔ مصر میں ان کو مالکی فقہ کا منصب قضا تفویض کیا گیا اور اسی عہدے پر وفات پائی۔ ابن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے العبر کے نام سے ہسپانوی عربوں کی تاریخ لکھی تھی جو دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ مقدمتہ فی التاریخ ہے ہے جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مہشور ہے۔ یہ تاریخ ، سیاست، عمرانیات، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔

دیباچہ[ترمیم]

علامہ سید سلیمان ندوی نے 17جولائی 1940 میں دیباچہ لکھا۔ ایک اقتباس

مقدمہ ابن خلدون درحقیقت اس کے زمانہ تصنیف تک کے انسانی علوم اور خیالات پر سب سے پہلا تبصرہ اور تاریخ کے واقعات کو سائنس بنانے کی سب سے پہلی کوشش، اقتصاد (اکانومی) اور اجتماع(سوشیالوجی) پر ایک فن کی حیثیت سے سب سے پہلی انسانی نگاہ ہے۔ اتفاق سے ان ہی دنوں ڈاکٹر طہ حسین کی یہ کتاب ہاتھ آئی۔ ڈاکٹر صاحب فلسفہ تشکیک کے بڑے ماہر ہیں۔ وہ دنیا کے ہر واقعہ پر سب سے پہلے شک کرتے ہیں پھر بہ مجبوری یقین، اس لیے وہ بہت سے یقینیات پر یقین کرنے کی دولت سے محروم ہیں۔ تاہم ان کی یہ کتاب غنیمت نظر آی اور ابن خلدون کو اردو میں روشناس کرانے کے لیے اس کتاب کا ترجمہ مفید معلوم ہوا۔ اس لیے میں نے یہ کتاب اپنے رفیق کار مولانا عبدالسلام ندوی صاحب کے سپرد کی کہ وہ اس کو اردو میں منتقل کریں ، جس کو انہوں نے حسب ستور خوبی سے انجام دیا۔

فہرست عنوانات[ترمیم]

پہلی فصل[ترمیم]

ابن خلدون

سوانح زندگی

اخلاق

تصنفات

دوسری فصل[ترمیم]

ابن خلدون کا تاریخ کو سمجھنا

اس کی تاریخی روش

تیسری فصل[ترمیم]

مقدمہ کی غرض کی توضیح

ابن خلدون سے پہلے اجتماعی مباحث

ابن خلدوں کا اجتماع کو سمجھنا اور اس کا مطالعہ کرنا

مقدمہ اور علم اجتماع

چوتھی فصل[ترمیم]

وہ مظاہر جو اجتماع سے الگ ہیں

اقلیم

جغرافیانہ ماحول

مذہب

پانچویں فصل[ترمیم]

بدویانہ زندگی کے اجتماعی مظاہر

حرکت اجتماعیہ کے تین دور

قبیلہ کے خواص

عصبیت حکومت کی اولین شرطہ ہے، عصبیت کے تغیرات

فضیلت حکومت کی دوسری شرط ہے

تاریخ میں ابن خلدون کے اصول کی قدروقیمت

ابن خلدون اور عرب

چھٹی فصل[ترمیم]

تمدنی زندگی کے اجتماعی مظاہر سیاست

قیام سلطنت کے لیے ایک دینی یا سیاسی اصول کی ضرورت

نئی سلطنت کے قیام کے لیے اس سلطنت کے صنعت کی ضرورت جس پر حملہ کیا گیا ہو

ارسٹاکریٹک یعنی امرا کی حکومت اور آٹوکریٹک یعنی شخصی حکومت میں جنگ

زوال سلطنت کے مختلف اسباب

ساتویں فصل[ترمیم]

خلافت

حکومت کی شکلیں

دینی حکومت: خلافت

خلافت کی شرطیں

ایک وقت میں دو خلیفوں کی موجودگی

خلافت کی تبدیلی سلطنت کی صورت میں

ولی عہدی

سلطنت کے مناصب

آٹھویں فصل[ترمیم]

شہری زندگی کے عام خواص

شہروں کی بنیاد ڈالنا

تمدن اور حکومت کی ترقی کے درمیان تعلقات

تمدن کی ترقی اور باشندوں کی کثرت کے درمیان تعلقات

تمدن کی عمر انحطاط کے اسباب

نویں فصل[ترمیم]

وسائل کسب معاش کے طریقے

قدرتی ذرائع آمدنی سے فائدہ حاصل کرنا

زراعت

تجارت

صنعت

دسویں فصل[ترمیم]

علوم

علوم کا وجود ایک اجتماعی مظہر ہے

علوم کی ترتیب

عقلی تربیت

خاتمہ[ترمیم]

ابن خلدون پر ایک جرمن رسالے کا ترجمہ

بیرونی روابط[ترمیم]

ابن خلدون از عبدالسلام ندوی