ابن زیدون
ظاہری ہیئت
(394ھ۔ یکم رجب 463ھ / 1003ء۔ 4 ابريل 1071ء )
ابو الوليد احمد بن عبد اللہ بن احمد بن غالب بن زيدون مخزومی اندلسی اندلس کے نامور شاعر اور ادیب۔ مناظر فطرت اور قلبی جذبات کو دلآویز انداز سے بیان کرنے میں کمال حاصل تھا۔ ایک دیوان یادگار ہے۔ دنیائے ادب میں ایسی شہرت کے حامل تھے کہ اشبیلیہ میں بنو عباد کے مقرب خاص بن گئے۔
قرطبہ میں اپنے والد ابوبکر عبد اللہ سے جو خود بھی ایک ادیب، قاضی اور فقیہ تھے، تعلیم حاصل کی۔ مورخ ابن بسام نے ابن زیدون کی تحریروں کے لیے "غایتہً منشور و منظوم" کے الفاظ استعمال کیے۔ اشبیلیہ میں وفات پائی۔
== حوالہ جات =
[ترمیم]زمرہ جات:
- 1003ء کی پیدائشیں
- 1071ء کی وفیات
- 394ھ کی پیدائشیں
- 463ھ کی اموات
- اندلس کے شعراء
- اندلس کے نثر نگار
- بنی مخزوم
- عربی شعراء
- عربی نثر نگار
- قرطبہ، اندلس کی شخصیات
- گیارہویں صدی کی عرب شخصیات
- گیارہویں صدی کی اندلس کی شخصیات
- عرب شعرا
- قرطبہ میں پیدا ہونے والی شخصیات
- اندلس کے وزراء
- گیارہویں صدی کے عرب مصنفین
- گیارہویں صدی کے ہسپانوی شعرا
- گیارہویں صدی کا ادب