محمد بن سیرین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابن سیرین سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمد بن سیرین
(عربی میں: محمد بن سيرين ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 653  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 جنوری 729 (75–76 سال)[1] اور 12 جنوری سنہ 728 (74–75 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طبی کیفیت اندھا پن  ویکی ڈیٹا پر بیماری (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد انس بن مالک، زید بن ثابت، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد قتادہ بن دعامہ، ایوب سختیانی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف، محدث، فقیہ، مفسر قرآن، خواب کی تعبیر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ، علم حدیث، تفسیر قرآن، خواب کی تعبیر  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آپ کا نام محمد، کنیت ابو بکر اور والد کا نام سیرین تھا ۔ابن سیرین کے نام سے معروف ہیں۔

نسب[ترمیم]

آپ کا نسب یوں ہے :ابو بکر محمد بن ابی عمر سیرین الانصاری بن البصری [4] آپ خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انس بن مالک کے آزادکردہ غلام ہیں۔ آپ کے والد سیرین جرجرایا (عراق ) کے باشندے تھے۔ فن تعبیر خواب کے بہت ماہر تھے۔ رشتہ ولاء سے انصاری ہیں

ولادت[ترمیم]

آپ کی پیدائش بصرہ مین ہوئی اس بارے میں انس بن سیرین کہتے ہیں کہ عثمان غنی کی خلافت کے دو سال رہتے تھے جب میرے بھائی محمد پیدا ہوئے اورمیں ان سے ایک سال چھوٹا ہوں۔[5]

فضل وکمال[ترمیم]

آپ ایک لمبے عرصے تک انس بن مالک کے منشی اور زیر تربیت رہے۔ انس بن مالک کے علاوہ اکابر صحابہ میں انہوں نے ابو ہریرہ کی زیادہ صحبت اٹھائی تھی اور ان کے اصحاب میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ پارچہ فروش تھے اور فقہ کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے

شیوخ[ترمیم]

ابن سیرین انس کے تربیت یافتہ ابو ہریرہ کے شاگرد اور حسن بصری کے ہم نشین تھے جن میں سے ہر ایک حدیث کا رکن اعظم تھا۔ ان تینوں بزرگوں کے علاوہ انہوں نے اس کا علم مختلف صحابہ سے لیا جن میں زید بن ثابت، عمران بن حصین، ابن عباس، ابن عمر اور دیگر صحابہ سے حدیث سنی۔ ان بزرگوں کے فیض نے ان کو علم حدیث کا دریا بنا دیا تھا۔ ابن سعد، حافظ ذہبی، امام نووی اور ابن حجر انہیں امام الحدیث لکھتے ہیں۔[6]

روایات میں احتیاط[ترمیم]

آپ کے پاس اس قدر وسیع علم تھا مگر اس کے باوجود آپ بڑے محتاط تھے اور سماع اور روایت دونوں میں انتہائی احتیاط برتتے تھے۔ معمولی درجہ کے اشخاص سے تحصیلِ علم اور اخذ حدیث خلافِ احتیاط سمجھتے تھے۔ چنانچہ فرماتے تھے کہ علم دین ہے اس لیے اس کو حاصل کرنے سے پہلے اس شخص کو اچھی طرح سے پرکھ لو۔ جس سے اس کو حاصل کرنا ہے۔[7] روایت میں اتنا محتاط تھے کہ احادیث کو ان کے اپنے الفاظ سے روایت کرتے تھے تنہا معنی بیان کرنا کافی نہ سمجھتے تھے۔ حدیث اس احتیاط سے بیان کرتے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی چیز صاف کر رہے ہیں یا کسی چیز کا خوف ہے۔[7]

تلامذہ[ترمیم]

حدیث میں آپ کے شاگردوں کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ آپ سے ایوب، ابن عون، قرۃ بن خالد، ابو ہلال، محمد بن سلیم، عوف، ہشام بن حسان، یونس، مہدی بن میمون اور بہت سے دوسرے لوگوں نے علم حاصل کیا۔[6]

وفات[ترمیم]

وفات 110ھ میں بصرہ میں ہوئی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: Aydın Əlizadə — عنوان : Исламский энциклопедический словарь — ناشر: Ansar — ISBN 978-5-98443-025-8
  2. Encyclopaedia of Islam اور Encyclopédie de l’Islam
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12482780p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. (تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی جلد 2صفحہ 85)
  5. (تذکرۃ الحفاظ جلد 1صفحہ80)
  6. ^ ا ب تذکرۃ الحفاظ جلد 1صفحہ 80
  7. ^ ا ب سیرۃ الصحابہ جلد 2صفحہ 463