ابن طاہر قیسرانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابن طاہر القیسرانی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ابن طاہر قیسرانی
معلومات شخصیت
پیدائش 17 دسمبر 1056  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یروشلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 ستمبر 1113 (57 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
فقہی مسلک ظاہری
عملی زندگی
پیشہ محدث،  سوانح نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابن طاہر القیسرانی یا ابو الفضل محمد بن طاہر بن علی ابن احمد الشیبانی المقدسی (پیدائش: 17 دسمبر 1056ء— وفات: 12 ستمبر 1113ء) مسلم مؤرخ اور ماہرِ روایات تھے۔[1] انہوں نے سب سے پہلے سنی اسلام کے حوالے سے قرآنِ پاک کے بعد چھ معتبر ترین کتب[2][3][4] یعنی صحاح ستہ کا تعین کیا اور سب سے پہلے ہی سنن ابن ماجہ کو بھی معتبر گردانا۔[5]

سیرت[ترمیم]

ابن القیسرانی کی پیدائش 1057ء میں یروشلم میں ہوئی۔ آپ کے والدین عرب اور ان کا تعلق قیساریہ سے تھا۔ اسی وجہ سے آپ کا نام پڑا۔ عربی میں یروشلم کو بیت المقدس کہتے ہیں ،سو انہیں مقدسی بھی کہا گیا۔ آپ کی پیدائش کا تذکرہ ابن خلکان نے 6 شوال 448ھ درج کیا ہے جو ولیم میک گوکن ڈی سلین کے مطابق دسمبر 1056 بنتی ہے۔[6]

ابن القیسرانی نے حدیث کی تحقیق میں بہت سفر کیا۔ ابن القیسرانی نے حدیث کا علم 12 سال کی عمر سے حاصل کرنا شروع کیا اور 19 سال کی عمر میں بغداد کا رخ کیا اور پھر عراق میں کچھ وقت گزارنے کے بعد واپس وطن لوٹے اور کچھ عرصے بعد حج کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔[6] پھر انہوں نے تہامہ، حجاز، شام، مصر، میسوپوٹامیہ، فارس اور خراساں کا بھی تعلیمی سفر کیا۔ انہوں نے زندگی کا زیادہ حصہ ہمدان میں گزارا جو موجودہ ایران کا حصہ ہے اور یہاں بہت ساری ایسی کتب تصنیف کیں جو مشہور ہوئیں۔[2] مشرق میں جب وہ خواجہ عبد اللہ انصاری کے شاگرد تھے تو انہوں نے معاوضہ لے کر محمد البخاری، مسلم ابن الاحجاج، ابو داؤد اور ابن ماجہ کے نسخے اپنے ہاتھ سے لکھے۔[7]

ایک اور حج سے واپس لوٹتے وقت ابن القیسرانی کی وفات بغداد میں جمعے کو ہوئی۔ ابن خلکان نے یومِ وفات کا تعین 28 ربیع الاوّل کیا ہے جو 507 ہجری بنتا ہے۔ ڈی سلین کے مطابق یہ ستمبر 1113 گریگوری ہے۔

علمی خدمات[ترمیم]

ابن القیسرانی نے سب سے پہلے صحاح ستہ کو معتبر شمار کیا: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن الصغریٰ، جامع ترمذی اور سنن ابی ماجہ۔[2] سنی اسلام کے لیے ان کتب کی اہمیت کے باوجود ابن القیسرانی سے قبل کسی نے ان پر توجہ نہیں دی تھی اور ان کتب سے کسی خاص موضوع کا حوالہ یا متن تلاش کرنا کارِ دارد تھا۔[8]

اس کے علاوہ ابن القیسرانی نے ابنِ ماجہ کی فہرست تیار کی جس کی وجہ سے سنن ابی ماجہ کو صحاح ستہ میں جگہ ملی۔ اس سے قبل ابن الصلاح نے ابنِ ماجہ کو اسی وجہ سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ ابن القیسرانی کی فہرست کی وجہ سے یہ حدیث کی پہلی کتاب بنی جس کی تدوین اس طرح کی گئی تھی۔[5][9] چونکہ یہ کتاب ابن الاثیر کی کتاب الکامل فی التاریخ اور عبدالغنی المقدیسی کی الکامل اسماء الرجال سے کم از کم ایک صدی قبل لکھی گئی تھی، اس لیے مؤرخین ابن القیسرانی کو صحاحِ ستہ کی بنیاد مانتے ہیں۔[3][4][5] ابن القیسرانی ظاہری تھے اور اسلامی فقہ کے ظاہری معنوں کے قائل تھے۔[10] اس کے علاوہ وہ باقاعدہ صوفی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور نثر اور شاعری پر بھی لکھتے رہے۔[6] ان کی طرف سے موسیقی اور رقص کے دفاع کو سخت گیر مذہبی حلقوں سے مخالفت کا سامنا رہا۔ اپنے تمام تر تاریخی اور روایات سے متعلق کام کے باوجود ان کی کتب میں موجود گرائمر کی اغلاط کی وجہ سے ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Names of Zahiri Scholars"۔
  2. ^ ا ب پ Ibn Khallikan's Biographical Dictionary, translated by William McGuckin de Slane. Paris: Oriental Translation Fund of Great Britain and Ireland. Sold by Institut de France and Royal Library of Belgium. Vol. 3, pg. 5.
  3. ^ ا ب Scott C. Lucas, Constructive Critics, Ḥadīth Literature, and the Articulation of Sunnī Islam, pg. 106. Leiden: Brill Publishers, 2004.
  4. ^ ا ب Muhammad 'Abd al-Ra'uf, Hadith Literature - 1. Taken from The Cambridge History of Arabic Literature, vol. 1, pg. 287. Cambridge: Cambridge University Press, 1983.
  5. ^ ا ب پ Ignác Goldziher, Muslim Studies, vol. 2, pg. 240. Halle, 1889-1890. ISBN 0-202-30778-6
  6. ^ ا ب پ Ibn Khallikan, pg. 6.
  7. الذہبی، Wikisource-logo.svg تذکرۃ الحفاظ.، ج 4، ص 27-29۔
  8. Lucas, pg. 103.
  9. Lucas, pg. 83.
  10. Christopher Melchert, The Formation of the Sunni Schools of Law: 9th-10th Centuries C.E., pg. 185. Leiden: [Brill Publishers, 1997.