ابن قیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن قیم
(عربی میں: ابن قيم جوزيةخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
ابن قیم

معلومات شخصیت
پیدائش 4 فروری 1292[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 ستمبر 1350 (58 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Mameluke Flag.svg سلطنت مملوک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو بکر قیم جوزیہ
عملی زندگی
استاد ابن تیمیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
نمایاں شاگرد ابن رجب،ابن کثیر،مجد الدین فیروز آبادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،فقیہ،محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث،فقہ،تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

علامہ ابن قیم کا پورا نام حافظ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن حریز الزرعی الدمشقی تھا اور ابن قیم کے نام سے مشہور ہؤۓ، چھ سو اکیانوے (691) ھ میں دمشق کے قریب زرع نامی گاؤں میں ولادت ہوئی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے شاگردوں میں سے ہیں جن کے ساتھ آپ چھبیس سالوں تک مستقل ساتھ رھے اور آپ کا تعلق امام احمد بن حنبل کے فقہ سے تھا۔

ولادت[ترمیم]

علامہ ابن القیم کی ولادت 7 صفر 691ھ مطابق 28 جنوری 1292ء کو دمشق میں ہوئی۔

آپ کی تصانیف کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہے ۔ سب سے مشہور آپ کی کتاب عوام الناس میں زاد المعاد ہے جو اسلامی شریعی مسائل کے حل کرنے میں خاص اہمیت رکھتی ہے ۔آپ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے ، آپ اپنی اسی مذکور کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”یہ جو حیات عیسیٰ لوگوں میں مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام 33 سال کی عمر میں آسمان پر چلے گئے تھے یہ صحابہ کرام کا عقیدہ نہیں بلکہ یہ عقیدہ مسلمانوں میں مسیحیوں کی طرف سے آیا “ آپ کے اس بیان کی تصدیق آپ کی خود کی کتاب کے علاوہ مشہور فقیہہ امت مصنف کتاب رد المختار علی درلمختار علامہ ابن عابدین شامی حنفی کے بیان کی صورت میں مشہور تفسیر ِقرآن فتح البیان از نواب صدیق حسن خان قنوجی بھوپال میں بھی درج ہے ۔ یاد رہے کہ یہ عقیدہ امت میں جمہور کا عقیدہ نہیں ، امت کے اکثر و بیشتر جید علماء حیات عیسیٰ یعنی عیسیٰ کے زندہ جسم سمیت آسمان پر جانے کے ہی قائل ہیں لیکن چند اولیائے امت عیسیٰ کی وفات کے بھی قائل تھے۔ اب اس کا حل ہمیں وہی نظر آتا ہے جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب اوربانی ندوۃُ العلماء لکھنئو مولانا شبلی نعمانی صاحب مرحوم نے فرمایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لکھا ہے کہ یہود نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ صلیب دی اور دوسری طرف سورت مائدہ کے آخری رکوع میں عیسیٰ کا خود کا بیان درج ہے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگران تھا، اس لیے ان علماء کے نزدیک یہ معاملہ مشتبہ ہے اور شائد قیامت تک یہ مشتبہ ہی رہے ۔ امام ابن قیم حنبلی کی دیگر کتب درج ذیل ہیں:

  • اعلام المعوقین
  • اغاثۃ اللھفان
  • تہذیب سنن ابی داؤد
  • الصواعق المرسلۃ
  • الطب النبوی
  • بدایع الفواید
  • الفواید
  • اجتماع الجیوش الاسلامیۃ
  • تلبیس ابلیس

وفات[ترمیم]

علامہ ابن القیم کی وفات 13 رجب 751ھ مطابق 15 ستمبر 1350ء کو دمشق میں ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/118983547 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12538862m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ