ابن وحشیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن وحشیہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 9  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 930 (29–30 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف، مؤرخ، ماہر آثاریات، مترجم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو بکر احمد بن علی اور ابن وحشیہ کے نام سے مشہور ہیں، جیسا کہ “الفہرست” میں مذکور ہے، وہ تیسری صدی ہجری کے سائنس دان تھے۔

تالیفات[ترمیم]

سحر[ترمیم]

جادو اور طلسمات میں ان کی تصانیف بہت مشہور ہیں جن میں

  • کتاب طرد الشیاطین
  • کتاب السحر الکبیر
  • کتاب السحر الصغیر

کیمیا[ترمیم]

ان کی کیمیا پر بھی کچھ تصانیف ہیں جو یہ ہیں :

  • کتاب الاصول الکبیر
  • کتاب الاصول الصغیر
  • کتاب شوق المستہام فی معرفہ رموز الاقلام۔

لسانیات[ترمیم]

  • كتاب شوق المستهام في معرفة رموز الأقلام

زراعت[ترمیم]

ابن وحشیہ کی زراعت پر “الفلاحہ النبطیہ” قدیم زرعی تصانیف میں قابلِ قدر مقام رکھتی ہے، اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نبطی اسلاف بہت عظیم علم کے مالک تھے، کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب قدیم بابلی کتب سے منقول ہے، اس کتاب کی تصنیف کا زمانہ کوئی 291ھ کا بتایا جاتا ہے، اس کتاب کا تذکرہ یہودی فلاسفر “ابن میمون” نے اپنی کتاب “مورہ نبوشیم” میں وثنیوں کے عقائد کے باب میں کیا ہے جہاں انہوں نے ستاروں کی عبادت اور زراعت کے تعلق پر بحث کی ہے، “الفلاحہ النبطیہ” میں صرف زرعی قواعد ہی بیان نہیں کیے گئے بلکہ اس سے بڑھ کر وہمی اور خرافی اعتقادات اور انباط اور ان کے پڑوسیوں کے درمیاں قائم ازمنۂ قدیم سے چلتی ہوئی روایات پر ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0