ابن کثیر فرغانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الفرغانی
أحمد بن كثير الفرغاني (عربی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Image illustrative de l'article ابن کثیر فرغانی
فرغانہ میں ابن کثیر فرغانی کا مجسمہ

معلومات شخصیت
پیدائش دہائی 790  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وادئ فرغانہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات دہائی 860  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
رہائش بغداد
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہر فلکیات،ریاضی دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
مجلس بیت الحکمت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

ابو العباس احمد ابن محمد ابن کثیر افرغانی۔ (800/805-870) جو مغرب میں الفرغانی کے نام سے مشہور ہے، ایک عرب[3] یا فارسی[4][5] سنی مسلمان ماہر فلکیات تھا، اور نویں صدی کے سب سے مشہور ماہرین فلکیات میں سے ایک تھا۔ الفرغانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک قمری دہانے کا نام الفرغانی رکھا گیا ہے۔

زندگی[ترمیم]

مامون الرشید کی سرپرستی میں بغداد میں دیگر سائنس دانوں کے ساتھ، فرغانی نے نصف النہار قوس کی لمبائی کی مدد سے زمین کے قطر کی پیمائش کی کوشش کی۔ بعد ازاں وہ قاہرہ چلا گیا، جہاں اس نے 856ء کے اردگرد اسطرلاب پر ایک رسالہ لکھا۔ وہاں 861ء میں اس نے الروادہ (پرانے قاہرہ میں) بڑے زیر تعمیر نیلومیٹر کی نگرانی کی۔

کام[ترمیم]

اس نے نصابی کتاب كتاب في جوامع علم النجوم (ستاروں کی سائنس کا خلاصہ) یا جرمی حرکات پر فلکیات کے عناصر، 833ء میں لکھی، یہ بطلیموس کی المجسطی کا ایک قابل وضاحتی خلاصہ تھا، اس میں نئی تحقیقات کے نتائج اور ابتدائی اسلامی ماہرین فلکیات کے نظرثانی شدہ قدروں کا اضافہ تھا۔[6] اس کا ترجمہ بارہوین صدی مین لاطینی زبان میں ہوا اور Regiomontanus کے وقت تک یورپ میں بہت مقبول رہا۔ دانتے الیگیری کے بطلیموسی علم فلکیات کا ماخذ یہی کتاب ہے، جیسا کہ اس کی مشہور کتاب ڈیوائن کامیڈی میں Convivio میں اور دیگر تحریروں سے ظاہر ہوتا۔[7][8] سترہویں صدی کے ڈچ مستشرق میں جیکب گولیسوس نے ایک مخطوطہ جو اس نے مشرق وسطی میں حاصل کر لیا تھا اس کی بنیاد پر عربی متن مع نیا لاطینی ترجمہ و حواشی کے ساتھ شائع کرایا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. درآمد شدہ از: ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13083816j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. گلسپی، چارلس کولسٹن (1970). سائنسی سوانح حیات کی ڈکشنری. سکربنر ان نیویارک. صفحہ۔541–545. 
  3. سائنس، دی کیمبرج ہسٹری آف اسلام، جلد۔ 2، مدیر۔ پی۔ ایم۔ ہولٹ، این کے۔ ایس۔ لیمبٹن، برنارڈ لیوس، (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1978)، 760۔
  4. سر پیٹرک قوری، دی ڈیٹا بک آف آسٹرونومی،سی آر سی پریس، 2000, بی جی 48ref Henry Corbin, سفر اور پیغمبر: ایران اور فلسفہ، نارتھ اٹلانٹک بک، 1998، صفحہ 44
  5. Texts, Documents and Artefacts: Islamic Studies in Honour of D.S. Richards۔ Edited by Chase F. Robinson, Brill Academic Publishers, BG 25۔
  6. دالال، احمد (2010). اسلام، سائنس، اور تاریخ کا چیلنج. ییلے یونیورسٹی پریس. صفحہ۔32. 
  7. Mary A. Orr, Dante and the Early Astronomers (London: Gall and Inglis, 1913)، 233-34۔
  8. Scott، John A. (2004). Understanding Dante. Notre Dame: U of Notre Dame P. صفحہ۔22. 

مزید مطالعہ[ترمیم]

  • Sabra، Abdelhamid I. (1971). "Farghānī، Abu'l-ʿAbbās Aḥmad Ibn Muḥammad Ibn Kathīr al-". Dictionary of Scientific Biography 4. New York: Charles Scribner's Sons. صفحات 541–545. آئی ایس بی این 0-684-10114-9. 
  • Jacobus Golius (ed.)، كتاب محمد بن كثير الفرغاني في الحركات السماوية وجوامع علم النجوم، بتفسير الشيخ الفاضل يعقوب غوليوس / Muhammedis Fil. Ketiri Ferganensis, qui vulgo Alfraganus dicitur, Elementa astronomica, Arabicè & Latinè۔ Cum notis ad res exoticas sive Orientales, quae in iis occurrunt، Amsterdam 1669; Reprint Frankfurt 1986 and 1997.
  • El-Fergânî، The Elements of Astronomy، textual analysis, translation into Turkish, critical edition & facsimile by Yavuz Unat, edited by Şinasi Tekin & Gönül Alpay Tekin, Harvard University 1998.
  • (Latin میں) Elements of Chronology and Astronomy – Muhamedis Alfragani Arabis Chronologica et astronomica elementa. http://www.wdl.org/en/item/10669/#languages=lat. 
  • Richard Lorch (ed.)، Al-Farghānī on the Astrolabe. Arabic text edited with translation and commentary، Stuttgart, 2005, ISBN 3-515-08713-3.
  • Yavuz Unat, El-Fergânî، Cevami İlm en-Nucûm ve Usûl el-Harekât es-Semâviyye, Astronominin Özeti ve Göğün Hareketlerinin Esası، T.C. Kültür ve Turizm Bakanlığı، Bilimin ve Felsefenin Doğulu Öncüleri Dizisi 14, Ankara 2012.
  • Yavuz Unat, “Fergânî’nin ‘Astronominin Özeti ve Göğün Hareketlerinin Esasları’ Adlı Astronomi Eseri”، DTCF Dergisi, Cilt 38, Sayı 1-2, Ankara 1998, s. 405–423.

بیرونی روابط[ترمیم]