مندرجات کا رخ کریں

ابن ہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابن ہانی
(عربی میں: محمد بن هانئ بن محمد بن سعدون الأزدي الأندلسي)[1]  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 934ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اشبیلیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 972ء (37–38 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف ،  شاعر [2]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [3]  ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابن ہانی اندلسی (وفات 362ھ ) ایک اندلس کا شاعر تھا جسے مغرب کا متنبی کا لقب دیا جاتا تھا۔

حالات زندگی

[ترمیم]

ابو القاسم محمد بن ہانئ بن سعدون، جن کا نسب مشہور عربی سردار حاتم بن قُبَیصہ بن مہلب بن ابی صفرة الازد سے جا ملتا ہے، اشبیلیہ (اندلس) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ہانئ افریقہ کے شہر مہدیہ کے نواحی گاؤں کے رہنے والے تھے، لیکن وہاں سے ترک وطن کر کے اندلس آ گئے، جہاں ابن ہانئ کی ولادت اشبیلیہ میں ہوئی۔[4]

ابن ہانئ نے اشبیلیہ میں تعلیم حاصل کی اور شعر و ادب میں مہارت حاصل کی۔ وہ اشبیلیہ کے حاکم سے وابستہ ہو گئے اور اس کے مقرب بنے، لیکن ان کے اشعار میں فلسفیانہ رجحانات اور اسماعیلی میلان کی وجہ سے اہل اشبیلیہ نے ان پر بدعت کا الزام لگایا، یہاں تک کہ حکمران کی مخالفت تک جا پہنچے۔ چنانچہ حاکم نے ان سے اشبیلیہ سے چلے جانے کا مشورہ دیا۔[5] ،[4]

ابن ہانئ 27 برس کی عمر میں اشبیلیہ چھوڑ کر مغرب چلے گئے، جہاں انھوں نے جوہر الصقلی کی مدح کی، پھر الزاب کے علاقے گئے اور وہاں جعفر اور یحییٰ ابنی علی کی خدمت میں رہے جنھوں نے ان کی قدر کی۔ ان کی شہرت جب فاطمی خلیفہ المعز ابو تمیم معدّ بن منصور تک پہنچی، تو اس نے انھیں طلب کیا۔ ابن ہانئ المعز کی خدمت میں منصوریہ (قرب قیروان) آ گئے اور ان کی خوب مدح کی۔

جب المعز نے مصر کا رخ کیا تو اس نے ابن ہانئ سے ساتھ چلنے کو کہا، لیکن ابن ہانئ نے اجازت مانگی کہ پہلے جا کر اپنے اہل و عیال کو لے آئے۔ اسی سفر کے دوران، 23 رجب 362ھ کو برقة (لیبیا) میں قتل کر دیے گئے۔

جب ان کی موت کی خبر مصر میں المعز کو پہنچی تو اس نے افسوس کرتے ہوئے کہا: "یہ وہ شخص تھا جس سے ہم مشرق کے شعرا پر فخر کرنا چاہتے تھے، مگر ہمیں یہ شرف نصیب نہ ہوا۔"[5]

کہا گیا ہے: إن تكن فارسا فكن كعلي أو تكن شاعرا فكن كابن هاني (اگر تُو سپاہی بنے تو علیؑ جیسا ہو اور اگر شاعر بنے تو ابن ہانئ جیسا ہو)

ہر وہ شخص جو ایسی صفت کا مدعی ہو جو اس میں نہ ہو، اسے آزمائش کی گواہیاں جھوٹا ثابت کر دیتی ہیں۔[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین —  : اشاعت 15 — جلد: 7 — صفحہ: 130 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
  2. ↑ عنوان : بوَّابة الشُعراء — PoetsGate poet ID: https://poetsgate.com/poet.php?pt=135 — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اپریل 2022
  3. ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb14649097z — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  4. 1 2 3 ابن خلكان (1972)۔ وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان (بزبان عربی)۔ دار صادر۔ ص 421–422 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |نسخہ= رد کیا گیا (معاونت)
  5. 1 2 ديوان ابن هانئ الأندلسي. ابن هانئ الأندلسي. المطبعة اللبنانية. بيروت (لبنان) 1886.

المصادر

[ترمیم]