ابوالحسن ہنکاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ الاسلام ابوالحسن علی بن محمود بن جعف رہاشمی ہنکاری صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ شیخ الاسلام کے لقب سے مشہور ہیں۔

ولادت[ترمیم]

ابو الحسن ہنکاری کی ولادت 409ھ بمطابق 1017ء بمقام ہنکار نزد موصل، عراق میں ہوئی۔ یہ کردوں کا علاقہ ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسم علی بن محمد بن جعفر ہاشمی،لقب :شیخ الاسلام اور کنیت ابوالحسن ہے والد کا نام شیخ محمد بن شیخ جعفر ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب محمد بن عبد اللہ کے چچا زاد اور رضاعی بھائی حارث بن عبد المطلب ہاشمی سے جاملتا ہے۔ جبکہ سلسلہ نسب اس طرح ہے :ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف بن جعفر بن شریف عمر بن عبد الوہاب بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم۔[1]

علاقائی نسبت[ترمیم]

علاقہ ہکارکی نسبت سے "ہکاری"کہلاتے ہیں یہ بغدادکاایک قصبہ ہے۔ بعض مؤلفین "ہنکاری"لکھتے ہیں،یہ غلط ہے۔[2] ماضی قریب کے ایک بزرگ عالمِ دین علامہ غلام دستگیر نامی آپ کی اولاد میں سے ہیں۔

القاب[ترمیم]

قطب العالمین، بدر السالکین، سلطان الاولیاء والمتقین، شیخ الاسلام والمسلمین، امام الملۃ والھدیٰ، محی الشریعتہ الغرّا، مقتدائے اہلِ زمان، سرگروہ مشائخ دَوران، واقفِ رموزِ حقیقت کاشف غوامصِ معرفت،عارفِ ربانی

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ محمد جعفر سے حاصل کی۔ آپ اپنے وقت کے ممتاز ترین علما مشائخ میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے علوم ظاہری وباطنی دونوں میں کمال حاصل کیا۔ علم فقہ، حدیث غرض تمام جملہ علوم پر مہارت اور شہرت حاصل کی۔ آپ نے شیخ ابوالعلا مصری سے سند حدیث لی۔ آپ کو بایزید بسطامی سے اویسی نسبت تھی جس کی وجہ سے آپ کو ان سے بھی فیض پہنچا۔ آپ اپنے زمانے میں شیخ الاسلام کے لقب سے مشہور ہوئے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کئی بلاد کا سفر کیا اور کئی علما و مشائخ سے ملے اور اُن سے احادیث اخذ کیں، پھر اپنے وطن کو واپس آئے، لوگوں میں آپ کو بڑی قبولیت حاصل ہوئی، سب کو آپ کی نسبت بڑا اچھا اعتقاد تھا۔ مکہ مکرمہ میں شیخ ابو الحسن محمد علی بن صخر الازدی سے اور مصر میں شیخ ابا عبد اللہ محمد الفضل بن لطیف سے اور بغداد میں ابی القاسم وغیرہ علما ءو فضلا سے احادیث سنیں اور آپ سے ابو زکریا یحییٰ بن عطاف الموصلی وغیرہ نے سماع کیا۔

بیعت وخلافت[ترمیم]

قطب وقت غوث زماںشیخ ابو الفرح علاؤ الدین محمد یوسف طرطوسی کے ہاتھ مبارک پربیعت کی۔ اور انہیں کی خدمت میں رہ کر خرقہ خلافت حاصل کیا۔ روحانی بیعت حضرت رسول اکرمﷺ ،اور امام حسن بصری اور سلطان ابراہیم بن ادہم بلخی،اور خواجہ بایزید بسطامی سے تھی۔[3] آپ اپنے زمانے کے مشاہیرکبار میں سے تھے۔ صاحب خوارق و کرامت، مقتدائے زمانہ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ تین روز کے بعد روزہ افطار کرتے تھے۔ بعداز نماز عشا تا نماز تہجد دو قرآن شریف ختم کرتے تھے۔ شب وروز عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ روم و شام اور حرمین الشریف تک کا سفر کیا اور بے شمار علما، فضلا، مشائخ اور محدثین سے ملاقاتیں کیں اور ان سے احادیث حفظ کیں اور ایک عرصہ کے بعد اپنے وطن مالوف کو واپس ہوئے۔

وفات[ترمیم]

آپ یکم محرم الحرام 484ھ بمطابق 1093ء کوانتقال ہوا آپ کا مزار بغداد کے نزدیک ہنکار گاؤں میں ہے۔[1][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب خزینۃ الاصفیاءجلد اول،صفحہ 149، مکتبہ نبویہ، لاہور
  2. شریف التواریخ
  3. تحفۃ الابرار
  4. ضیائے طیبہ