ابو العاص بن الربیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوالعاص سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابو العاص بن الربیع
نام لقیط، کنیت ابوالعاص۔ ام المومنین حضرت خدیجہ کے بھانجے تھے۔صحابی اور داماد رسول اللہ ﷺانکے والد علی بن العاص تھے آنحضرت کی بعثت پریہ ایمان نہ لائے۔ بلکہ غزوہ بدر میں مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف لڑے ۔

نسب[ترمیم]

ابو العاص لقيط بن الربيع بن عبد العزى بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن كعب بن لؤي بن غالب بن فہر بن مالك بن النضر بن كنانہ، العبشمی القرشي الكنانی[1]

حالات زندگی[ترمیم]

ابو العاص بن ربیع زینب بنت محمد کے خاوند تھے۔جس سے انکاایک فرزند جس کا نام علی تھا اور ایک لڑکی جن کا نام امامہ تھا،پیدا ہوئے ۔ زمانہ جاہلیت میں ان کا بہت بڑا کاروبار تھا۔حضرت فاطمہ زہراء نے حضرت علی مرتضیٰ کو وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد آپ حضرت امامہ بنت ابو العاص سے نکاح کر لیں۔ چنانچہ حضرت علی نے حضرت سیدہ فاطمہ کی وصیت پر عمل کیا۔ [2]

داماد رسول[ترمیم]

اعلانِ نبوت سے قبل حضرت خدیجہ کی فرمائش پر حضرت محمد ﷺ نے اپنی بڑی بیٹی حضرت زینب کا نکاح ان کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص بن ربیع سے کردیا۔ ابوالعاص حضرت بی بی خدیجہ کی بہن حضرت ہالہ کے بیٹے تھے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے حضرت خدیجہ کی سفارش سے حضرت ز ینب کاابوالعاص کے ساتھ نکاح فرمادیا تھا۔ حضرت ز ینب تومسلمان ہوگئی تھیں مگر ابوالعاص شرک و کفر پر اڑا رہا۔ رمضان2ھ میں جب ابوالعاص جنگِ بدر سے گرفتار ہو کرمدینہ آئے۔ اس وقت تک حضرت زینب مسلمان ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ ہی میں مقیم تھیں۔ چنانچہ ابوالعاص کو قید سے چھڑانے کے لیے انہوں نے مدینہ میں اپنا وہ ہار بھیجا جو ان کی ماں حضرت خدیجہ نے ان کو جہیز میں دیاتھا۔ یہ ہار حضورِ اقدس ﷺ کا اشارہ پاکر صحابہ کرام نے حضرت ز ینب کے پاس واپس بھیج دیا اور حضور ﷺ نے ابوالعاص سے یہ وعدہ لے کر ان کو رہا کر دیا کہ وہ مکہ پہنچ کر حضرت ز ینب کو مدینہ منورہ بھیج دیں گے۔ چنانچہ ابوالعاص نے اپنے وعدہ کے مطابق حضرت زینب کو اپنے بھائی کنانہ کی حفاظت میں بطن یا جج تک بھیج دیا۔ ادھر حضور ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کو ایک انصاری کے ساتھ پہلے ہی مقام بطن یا جج میں بھیج دیا تھا۔ چنانچہ یہ دونوں حضرات بطن یا جج سے اپنی حفاظت میں حضرت زینب کو مدینہ منورہ لائے۔ جب حضرت زینب مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئیں تو کفار قریش نے ان کاراستہ روکا یہاں تک کہ ایک بدنصیب ظالم ہباربن الاسودنے ان کو نیزہ سے ڈرا کر اونٹ سے گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا۔ مگر ان کے دیور کنانہ نے اپنے ترکش سے تیروں کو باہر نکال کر یہ دھمکی دی کہ جو شخص بھی حضرت زینب کے اونٹ کا پیچھا کریگا۔ وہ میرے ان تیروں سے بچ کر نہ جائے گا۔ یہ سن کر کفار قریش سہم گئے۔ پھر سردار مکہ ابو سفیان نے درمیان میں پڑ کر حضرت ز ینب کے لیے مدینہ منورہ کی روانگی کے لیے راستہ صاف کرا دیا۔ اس کے بعد ابوالعاص محرم 7 ھ میں مسلمان ہو کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے چلے آئے اور حضرت زینب کے ساتھ رہنے لگے۔[3][4]

غزوہ بدرمیں کفارکے ساتھ[ترمیم]

جنگِ بدر کے قیدیوں میں حضور ﷺ کے داماد ابو العاص بن الربیع بھی تھے۔ یہ ہالہ بنت خویلد کے لڑکے تھے اور ہالہ حضرت خدیجہ کی حقیقی بہن تھیں اس لئے حضرت خدیجہ نے رسول اﷲ ﷺ سے مشورہ لے کر اپنی لڑکی حضرت زینب کا ابو العاص بن الربیع سے نکاح کر دیا تھا۔حضور ﷺ نے جب اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ کی صاحبزادی حضرت زینب نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کے شوہر ابوالعاص مسلمان نہیں ہوئے اور نہ حضرت زینب کو اپنے سے جدا کیا ۔ ابو العاص بن الربیع نے حضرت زینب کے پاس قاصد بھیجا کہ فدیہ کی رقم بھیج دیں۔ حضرت زینب کو ان کی والدہ حضرت خدیجہ نے جہیز میں ایک قیمتی ہار بھی دیا تھا۔ حضرت زینب نے فدیہ کی رقم کے ساتھ وہ ہار بھی اپنے گلے سے اتار کر مدینہ بھیج دیا۔ جب حضور ﷺ کی نظر اس ہار پر پڑی تو حضرت خدیجہ اور ان کی محبت کی یاد نے قلب مبارک پر ایسا رقت انگیز اثر ڈالا کہ آپ رو پڑے اور صحابہ سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں کی مرضی ہو تو بیٹی کو اس کی ماں کی یادگار واپس کر دویہ سن کر تمام صحابۂ کرام نے سرتسلیم خم کر دیا اور یہ ہار حضرت زینب کے پاس مکہ بھیج دیا گیا۔ [5][6] ابتدائی زمانہ تک یہی حکم جاری تھا اسی لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح عتبة بن ابی لہب اور ابو العاص بن بیع سے کردیا تھا حالانکہ یہ دونوں کفر پر تھے، بعد میں وہ آیات نازل ہوئی جن میں مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد سے حرام قرار پایا[7]انہوں نے وعدہ کو پورا کیا اور حضرت زینب کو بھیج دیا اور پھر بعد میں خود بھی اسلام قبول کرلیا۔ [8]

قبول اسلام[ترمیم]

ابوالعاص رہاہوکرمدینہ سے مکہ آئے اور حضرت زینب کو مدینہ بھیج دیا۔ ابوالعاص بہت بڑے تاجر تھے یہ مکہ سے اپنا سامان تجارت لے کر شام گئے اور وہاں سے خوب نفع کما کر مکہ آرہے تھے کہ مسلمان مجاہدین نے ان کے قافلہ پر حملہ کرکے ان کا سارا مال و اسباب لوٹ لیا اور یہ مالِ غنیمت تمام سپاہیوں پر تقسیم بھی ہوگیا۔ ابو العاص چھپ کر مدینہ پہنچے اور حضرت زینب نے ان کو پناہ دے کر اپنے گھر میں اتارا ۔ حضو رﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں کی خوشی ہو تو ابوالعاص کا مال و سامان واپس کردو۔ فرمانِ رسالت کا اشارہ پاتے ہی تمام مجاہدین نے سارا مال و سامان ابو العاص کے سامنے رکھ دیا۔ ابو العاص اپنا سارا مال و اسباب لے کر مکہ آئے اور اپنے تمام تجارت کے شریکوں کو پائی پائی کا حساب سمجھا کر اور سب کو اس کے حصہ کی رقم ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیااور اہل مکہ سے کہہ دیا کہ میں یہاں آکر اور سب کا پورا پورا حساب ادا کر کے مدینہ جاتا ہوں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ابوالعاص ہمارا روپیہ لے کر تقاضا کے ڈر سے مسلمان ہوکر مدینہ بھاگ گیا۔اس کے بعد حضرت ابو العاص مدینہ آکر حضرت زینب کے ساتھ رہنے لگے۔[9][10] اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے داماد سیدہ زینب (رض) کے شوہر ابو العاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : ’’ اس نے مجھ سے بات کی اور سچی بات کی اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا اور اسے پورا کر دکھایا۔‘‘ [[11][12]

وفات[ترمیم]

10ہجری میں حضرت علی کی سرکردگی میں یمن جانے والے سریہ میں شریک ہوئے۔ یمن سے واپسی پر حضرت علی نے انھیں اس علاقہ کا عامل بنا دیا ۔آپ کی وفات 12یا13 ھ| 633 ء رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ایک سال بعد ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ https://ar.wikipedia.org/wiki/
  2. ^ مدارج النبوت،قسم سوم،باب ہشتم،ج2،ص325
  3. ^ المواہب اللدنیہ وشرح الزرقانی،باب فی ذکر اولاد الکرام،ج4،ص318۔319
  4. ^ مدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب اول ، ج 2 ، ص 455۔456
  5. ^ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ذکر رؤیا عاتکۃ...الخ،ص270
  6. ^ تاریخ طبری ص 1348
  7. ^ تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی سورہ ہود آیت38۔ تفسیرقرطبی
  8. ^ الحافظ ابن حجر فی الاصابۃ فی حرف العین
  9. ^ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، اسلام ابی العاص بن الربیع،ص272
  10. ^ تاریخ طبری
  11. ^ بخاری، کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر من درع النبی : 3110۔
  12. ^ مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل فاطمۃ 2449