ابوبکر شبلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ ابوبکر شبلی (ولادت 247ھ) جوشيخ الكبير ، العارف الخطير ، ذو الفضل الجلی کے القاب سے مشہور ہیں

نام[ترمیم]

ابو بکر شبلی جنید بغدادی کے شاگرد رشید تھے۔کنیت ابوبکر لقب شبلی تھاآپ کاپورانام دنف بن جحدر[1] خراسانى تھا۔ بعض مؤرخین آ پ کا نام جعفر بن یونس بتاتے ہیں کیونکہ یہی نام آپ کے سنگ تر بت پر کندہ تھا۔

شبلی نسبت[ترمیم]

’’شبلہ‘‘ نام کا ایک گاؤں ماوارء النہر علاقے میں وادی فرغانہ میں تھا، آپ کے خاندان کا اسی گاؤں سے تعلق تھا۔ اسی لیے آپ شبلی کہلائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آ پ کا خاندان مصر سے آیا تھا، لیکن یہ روایت کمزور ہے، بہر حال آپ خود بغداد (یا سامرا) میں پیدا ہوئے وہیں پروان چڑھے۔ سامرا اس زمانے میں دار الخلافہ تھا۔ آپ کے والد عرض بیگی کے عہدے پر مامور تھے۔

ابو بکر شبلی ؒ کا علمی مقام[ترمیم]

ابو بکر شبلی نے متداول علوم بڑی تندہی سے سیکھے، فقہ مالکیہ میں تبحر حاصل کیا اور احادیث کی کتابت بھی کی۔ امام مالک کی مؤطا پوری کی پوری یاد تھی لیکن ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ ہی ان میں توحید اور خداشناسی بھی پیدا ہو چکی تھی اور انکشاف باطن کی جستجو بھی تھی لیکن خاندانی حالات کے سبب انہیں شاہی ملازمت میں داخل ہونا پڑا اور خاندانی کار نامو ں کے صلے میں نہاوند کے والی مقر ر ہوئے۔ ایک دن انھوں نے یہ طوق غلامی اتار پھینکا، گناہو ں سے توبہ کی اور تلاش حق میں نکل کھڑے ہوئے۔ لوگوں نے خیر نسّاج کا پتہ بتایاجو بغداد ہی میں رہتے تھے۔ وہ وہاں پہنچے اور خیر نساج کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں اور معصیتوں سے توبہ کی۔ نسّاج بڑے صاحب معرفت بزرگ تھے، انھوں نے محسوس کیاکہ شبلی کے ذوق وشوق، ان کی طبیعت کے جوش وخروش، ان کے عزم وہمت اور پھر ان کے علم وفضل کاتقاضاہے کہ وہ حضرت جنیدؒ کی صحبت وخدمت میں رہیں، چنانچہ انھوں نے انھیں جنید بغدادی کے پاس بھیجا۔ تذکرۃ الاولیاء میں روایت ملتی ہے کہ جب شبلی خیر نسّاج کے پیام کے ساتھ جنید بغدادی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سامنے ہوتے ہی عرض کی: ’’لوگوں نے آپ کے ساتھ گوہر مراد کاپتا دیا ہے۔ یو ں ہی عطا ہو گا یا قیمت سے؟‘‘ جنید بغدادی نے ان کی صورت دیکھ کر فرمایا: ’’بچے! تم لے نہ سکو گے کیونکہ وہ بہت گراں ہے اور تمہارے پاس اتناسر مایہ نہیں۔ اگرمفت دے دوں تو تمہیں اس کی قدر نہ ہو گی، ہاں اگر جوانمردوں کی طرح اس دریا میں سر کے بل غوطہ لگاؤ گے اور صبر وانتظار سے جستجو کرو گے تو وہ گوہر مراد ہاتھ آجائے گا۔‘‘ چنانچہ جنید بغدادی نے شروع ہی سے بڑی سخت محنت لی، انھیں نہاوند بھیجا، جہاں کے لوگوں پر انہوں نے حکومت کی تھی اور کہا کہ ایک ایک فرد سے پوچھ کر معلوم کریں کہ اگر انہوں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو و ہ انہیں معاف کر تا ہے یانہیں، انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی، پھر جنید بغدادی نے ان سے بازار میں کبریت بچوائی، دریوزہ گری کرائی اور اس طرح ان کے نفس کو مشیخت اور جاہ طلبی کے ہر شائبے سے پاک کیا۔ پھر تو ایسا ہو ا کی جنید بغدادی کی تربیت نے انھیں کندن بنادیا اور عشق الہی میں وہ اس طرح زمزمہ پرواز ہوئے کہ ہمہ وقت اللہ کا نام لیتے اور اگر کسی اور کے منہ سے یہ نام سنتے تو اس کا منہ شکر سے بھر دیتے۔ جنید بغدادی|ان کی سر شاری وبے خودی کے باوجود انہیں بہت پسند کرتے تھے، اکثر فر ماتے: ’’شبلی ہمیشہ سر شارہی رہتاہے۔ اگر وہ کچھ ہو ش میں رہنے لگے تو ایک ایسا امام ثابت ہو سکتا ہے جس سے ایک خلق کو فیض پہنچے، حضرت شبلیؒ کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف پکارتے پھرتے تھے کہ ’’شامت ہے اس کی جسے نہ پانی ڈبوتاہے اور نہ آگ جلاتی ہے، نہ درندے پھاڑتے ہیں اور نہ پہاڑ ہلاک کرتے ہیں۔‘‘ پھر اندر کی آواز کہتی کہ ’’جو خدا کا مقبول ہو اسے کوئی دوسرا قتل نہیں کر سکتا۔‘‘ جب بہت بیتابی بڑھی تو لو گوں نے زنجیروں میں باندھ کے بٹھا دیا اور شفاخانے میں اٹھا لے گئے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن شبلی بازار میں داخل ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ دیکھو وہ دیوانہ جاتا ہے۔ شبلی نے یہ سن کر فرمایا، تم سمجھتے ہو کہ میں دیوانہ ہو ں اور میں سمجھتاہوں کہ تم بہت ہو شیار ہو۔ خدا مجھے اور دیوانہ کرے اور تمہیں اور ہوشیار بنائے۔ جنید امام شبلی کے بارے میں اکثر یہ بھی فرماتے کہ’’لوگو! تم شبلی کو اس نظر سے نہ دیکھا کرو جس طرح دوسروں کو دیکھتے ہو کیونکہ وہ ’’عین من عیون اللّٰہ‘‘ ہیں۔ جنید نے ایک موقع پر یہ بھی فر مایا تھاکہ ’’ہر قو م کا ایک تاج ہو تاہے اور ہم اہل تصوف کے تاج شبلی ہیں۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ ہمہ وقت کی سر شاری وارفتگی میں شبلی کو شریعت مطہرہ اور شعائر اسلامی کا حد درجہ پاس تھا۔ رمضان کا مہینہ آتا تو طاعات الہٰی میں خوب سرگرم ہو جاتے اور فر مایا کر تے کہ ’’میر ے رب نے اس مہینے کی تعظیم کی ہے، اس لیے سب سے پہلے مجھے اس کی تعظیم کرنی چاہیے۔‘‘ شبلی کے خادم خاص کا بیان ہے کی جب شبلی پر موت کے آثار ظاہر ہو ئے، زبان بند ہو گئی اور پیشانی پر پسینے کے قظرے نمودار ہوئے تو مجھے اشارے سے بلایا اور وضو کرانے کے لیے فرمایا۔ چنانچہ میں نے وضو کرایا لیکن داڑھی میں خلال کرانا بھول گیا، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور انگلی سے اپنی داڑھی میں خلال کرنے لگے۔ جعفر خلدی جب یہ واقعہ بیان کرتے تو بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور کہتے، لوگو بتاؤ تو سہی! یہ کیسا باکمال شخص تھا کہ جس نے زندگی کی آخری سانس تک شریعت کے آداب میں سے ایک ادب بھی فوت نہیں ہونے دیا۔

شبلی کا روحانی مرتبہ[ترمیم]

جنید بغدادی شبلی کے روحانی مرتبہ سے واقف تھے اور اسی لیے ان کی بڑی قدر ومنزلت کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے شبلی کو ذوق وشوق اور اضطراب کی حالت میں دیکھ کر فرمایا، شبلی! اگر تم اپناکام حق تعالی پر چھوڑ دو تو راحت پاؤ۔ یہ سن کر شبلی نے کہا، یوں تونہیں، لیکن ہاں! اگر حق تعالی میرا کام مجھ پر چھوڑ دے تو البتہ راحت پاؤں۔ یہ سن کر جنیدنے فرمایا، شبلی کی تلوار سے خون ٹپکتا ہے۔ ایک بار جنید بغدادی نے خواب میں دیکھا کہ ر سول اللہ ﷺ نے شبلی کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ صبح ہوئی تو شبلی سے خواب بیان کیا اور پوچھا، تم ایسے کون سے اعمال کیا کرتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا، مغرب کی سنتوں کے بعد دو رکعت نفل ادا کرتا ہوں اور ان میں آیت کریمہ ’’لقد جاء کم رسو ل من انفسکم…الخ‘‘ ضرور پڑھتا ہوں۔ یہ سن کر جنیدنے فرمایا، بے شک یہ اسی کی برکت ہے۔ شبلی نے ایک دن ایک گیلی لکڑی کو جلتے ہو ئے دیکھا، جس کے دوسرے سرے سے حسب معمول کچھ رطوبت ظاہر تھی۔ یہ دیکھتے ہی وفور جذب وجوش سے ان پر سر مستی کا عالم طاری ہو گیا اور اپنے مریدوں سے مخاطب ہو کے فر مایا: ’’مدعیو! اگر یہ دعویٰ ہے کہ تمہارے دل آتش عشق سے لبریز ہیں اور تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو پھر تمہاری آنکھوں سے آنسو کیوں نہیں جاری ہوتے۔‘‘ ایک مرتبہ فرمایا: ’’پر ہیز گاری تین طرح کی ہے:

  • (1)زبان سے
  • (2) ارکان (اعضاء جورح) سے
  • (3) دل سے۔

زبان کی پر ہیزگاری یہ ہے کہ جس امر سے کچھ تعلق نہ ہو اس میں انسان خاموش رہے۔ ارکان کی پر ہیزگاری یہ ہے کہ شبہات چھوڑ دیے جائیں اور جن چیزوں سے شک پیداہوتاہے انھیں چھوڑ کر اس چیز کی طرف رجوع کیاجائے جس میں شک وشبہ نہ ہو اور دل کی پرہیز گاری یہ ہے کہ ذلیل وحقیر ارادوں اور برے خیالات سے پیچھاچھڑا لیاجائے۔ ایک موقع پر شبلی نے فرمایا: ’’صوفی اس وقت صوفی ہوتاہے جب ساری خلقت کو اپنی عیال خیال کرے، یعنی اپنے آپ کو سب کا کفیل اور بوجھ اٹھانے والاسمجھے۔ صوفیہ نے شبلی کی اس بات کو آب زر سے لکھنے کے لائق سمجھا ہے کہ ’’عارف کو کسی سے علاقہ نہیں، محب کو کوئی شکایت نہیں، خوفزدہ کو کبھی قرار نہیں اور اللہ عزوجل سے کسی کو مفر نہیں۔َ‘‘

اقوال شبلی[ترمیم]

شبلی کے یہ اقوال تصوف کی بنیادی باتیں ہیں:

  1. آزادی دل کی آزادی ہے اور بس۔
  2. محب اگر خاموش ہوا اور عارف نہ خاموش ہوا تو ہلاک ہوا۔
  3. شکم منعم کی طرف دیکھنے کا نام ہے نہ کہ نعمت کی طرف دیکھنے کا۔
  4. دل، دنیا اور آخرت دونوں سے بہتر ہے کیونکہ دنیامحنت کا گھر ہے اور آخرت نعمت کا گھر ہے اور دل معرفت کاگھر ہے۔
  5. ہزار سال کی عبادت میں ایک وقت کی غفلت رسوائی ہے۔
  6. عبادت کی زبان علم ہے اور اشارات کی زبان معرفت ہے۔

انتقال[ترمیم]

ابوبکرشبلی کا انتقال ذو الحجہ سنہ 334ھ بمطابق 945ء میں 87 سال کی عمر میں ہوا[2]۔ ابو محمد ہروی جو آپ کے خادم خاص اور باصفا عقیدت مندوں میں تھے، اس شب میں جس کے بعد دن میں ان کی وفات ہوئی صبح تک آپ کے پاس تھے، انہوں نے بیان کیاکہ اس رات شبلی بار بار یہ شعر پڑھتے تھے: کُلُّ بَیتِِ اَنْتَ سَاکِنُہ
غَیْرُ مُحْتَاجِِ اِلی السُّرَجِ
وَجْھُکَ اَلماْمُوْلُ حُجتُنَا
یَوْمَ یاَتی النَّاسُ باِلْحُجَجِ
ترجمہ: جس گھر میں تو رہتا ہو اسے چراغ کی ضرورت نہیں۔ تیراچہرہ جو امید ہے، اس روز جب سب لوگ اپنی اپنی حجتیں لے کر حاضر ہوں گے، ہماری حجت ہو گا۔[3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. التعرف لمذهب اهل التصوف ،مؤلف: ابو بكر الكلاباذی ناشر: دار الكتب العلمیہ بيروت
  2. طبقات الأولياء،ابن الملقن، ص204
  3. http://www.alqalamonline.com/index.php/alqalam-old-articles/biyan-page/91-other-albayan-articles/2300-471-hazrat-abu-bakar-shibli-rah
  4. موسوعۃ الكسنزان مؤلف: شيخ عبد الكريم الكسنزان الحسينی