ابو قتادہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوقتادہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

ابو قتادہ انصاری آپ کا نام حارث بن ربعی یا ابن نعمان ہے،کنیت سے زیادہ مشہور ہیں ان کا لقب’’ فارس رسول اللہ‘‘ ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

حارث نام، ابوقتادہ کنیت ،فارس رسول اللہ لقب،قبیلہ خزرج کے خاندان سلمہ سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، حارث بن ربعی بن بلدمہ بن خناس ابن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن زید بن جشم بن خزرج ،ابو قتادة الانصاري الخزرجی، ثم من بنی سلمہ، ہے۔ والدہ کا نام کبشہ بنت مظہر بن حرام تھا اوربنو سلمہ میں سواد بن غنم کے خاندان سے تھیں۔[1]

ولادت[ترمیم]

ہجرت سے تقریبا 10سال پیشتر مدینہ میں پیدا ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

بیعت عقبہ میں اسلام لائے اورتمام غزوات میں شامل ہوئے،بدریااحد میں آپ کی آنکھ نکل پڑی تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ ٹکا کر اپنا لعاب شریف لگادیاتو دوسری آنکھ سے زیادہ روشن ہو گئی،ابو سعید خدری کے اخیافی یعنی ماں شریکے بھائی ہیں،ستر سال عمر پائی 54ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی علی المرتضی نے جنازہ پڑھایا۔[2][3]

  • ابو قتادہ صحابی کے حق میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دعا فرما دی کہ اَفْلَحَ وَجْھُکَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَہٗ فِیْ شَعْرِہٖ وَبَشَرِہٖ. یعنی فلاح والا ہو جائے تیرا چہرہ ،یااﷲ! اس کے بال اور اس کی کھال میں برکت دے۔ ابو قتادہ نے ستر برس کی عمر پا کر وفات پائی مگر ان کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا نہ بدن میں جھریاں پڑی تھیں، چہرے پر جوانی کی ایسی رونق تھی کہ گویا ابھی پندرہ برس کے جوان ہیں۔ [4]

عام حالات[ترمیم]

اپنے وقت کے بہترین شہسوار اور تیز انداز تھے۔ یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مال غنیمت بیچ کر اپنے لیے ایک باغ خریدا اور اسلامی تاریخ میں جائداد بنانے کی مثال قائم کی۔ تقریبا 150 احادیث آپ سے مروی ہیں۔ مدینہ میں انتقال فرمایا۔ حضرت علی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ عہد نبوت کے بعد علی المرتضیٰ کے زمانہ مبارک میں امارت مکہ پر نامزد ہوئے تھے،لیکن پھر کسی وجہ سے قثم بن عباس امیر بنائے گئے، یہ 36ھ کا واقعہ ہے، اسی سنہ میں جنگ جمل اوردوسرے سال صفین کا معرکہ ہوا، ابو قتادہ دونوں میں شریک ہوئے 38 ھ میں خوارج نے علم بغاوت بلند کیا، جناب علی نے جس فوج کے ساتھ فوج کشی کی تھی، ابو قتادہ اس کے پیادوں کے افسر تھے۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

اخوت اسلامی کا یہ حال تھا کہ ایک انصاری کا جنازہ آنحضرتﷺ کے پاس نماز کے لیے لایا گیا آپ ﷺنے پوچھا اس پر قرض تو نہیں، لوگوں نے کہا دو دینار (1روپے) ہیں، فرمایا کچھ چھوڑا بھی ہے؟ جواب ملا کچھ نہیں، ارشاد ہوا کہ تم لوگ نماز پڑھ لو، ابو قتادہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں قرض ادا کردوں تو آپ نماز پڑھائیں گے،فرمایا ہاں ،چنانچہ انہوں نے قرض ادا کرکے آنحضرتﷺ کو خبر کی، اس وقت آپ نے جنازہ منگا کر نماز پڑھی۔[5] ایک مسلمان پر ان کا کچھ قرض تھا، جب یہ تقاضا کرنے جاتے تو وہ چھپ رہتا،ایک روز گئے تو اس شخص کے لڑکے سے معلوم ہوا کہ گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں، پکار کر کہا، نکلو مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپنا بیکار ہے، جب وہ آیا تو چھپ رہنے کی وجہ پوچھی ،اس نے کہا بات یہ ہے کہ میں تنگدست ہوں، میرے پاس کچھ نہیں ہے اس کے ساتھ عیال دار بھی ہوں، پوچھا واقعی تمہارا حال خدا کی قسم ایسا ہی ہے، بولا ہاں، ابوقتادہ آبدیدہ ہو گئے اوراس کا قرض معاف کر دیا۔[6] حضرت ابوبکرؓ نے جب مرتدین کے مقابلہ کے لیے لشکر بھیجا تھا تو حضرت خالدؓ کو لکھا کہ وہ مالک بن نویرہ یربوعی کی طرف جائیں، انہوں نے کسی وجہ سے مالک کو جس نے اسلام قبول کر لیا تھا، قتل کرڈالا، حضرت ابوقتادہؓ کو اتنی ناگواری ہوئی کہ انہوں نے بارگاہ خلافت میں عرض کیا کہ میں ان کی ماتحتی میں نہ رہوں گا انہوں نے ایک مسلمان کا خون کیا ہے۔[7]

وفات[ترمیم]

سنہ وفات میں سخت اختلاف ہے بعض کے نزدیک 40ھ ہے ،ان لوگوں کے نزدیک کوفہ میں انتقال کیا تھا اور جناب علی نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں 6 یا 7تکبیریں کہیں،لیکن صحیح یہ ہے کہ 50 ھ اور 60 ھ کے درمیان انتقال کیا، امام بخاری نے اوسط میں یہی لکھا ہے اوراس پر دلائل قائم کیے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. الاصابہ فی تمیز الصحابہ مؤلف: ابن حجر العسقلانی ناشر: دار الكتب العلمیہ بیروت
  3. اصحاب بدر،صفحہ 211،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  4. الکلام المبین ص68 بحوالہ دلائل النبوۃ بیہقی
  5. مسند:5/295
  6. مسند:5/318
  7. تاریخ یعقوبی:2/148