ابو احمد بن جحش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو احمد بن جحش
معلومات شخصیت

نام ونسب[ترمیم]

عبد نام،ابواحمد کنیت،سلسلۂ نسب یہ ہے، عبد بن جحش بن رباب بن یعمر بن جبیرابن مرہ بن کثیر بن غنم بن وددان بن اسد بن حزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر، ان کی والدہ امیمہ عبدالمطلب کی بیٹی تھیں اوریہ ام المومنین حضرت زینب کے حقیقی اورآنحضرتﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ [1]

اسلام وہجرت[ترمیم]

وہ اپنے بھائی عبد اللہ اورعبیداللہ ؓ کے ساتھ دعوتِ اسلام کے آغاز یعنی آنحضرتﷺ کے ارقم کے گھر میں پناہ گزین ہونے کے قبل مشرف باسلام ہوئے اور بھائیوں ہی کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ آگئے اور مبشربن عبدالمنذرؓ کے گھر مہمان ہوئے۔

ابو سفیان کی شرارت[ترمیم]

مکہ میں ایک جماعت تھی، جس کا مقصد صرف اسلام کو نقصان پہنچانا اورمسلمانوں کو اذیت دینا تھا، ابوسفیان اورابوجہل اس کے سرغنہ تھے،ابواحمد ہجرت کے بعد ان کے قابو سے باہر ہوچکے تھے، اس لیے براہِ راست ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کر سکتے تھے؛چنانچہ انہوں نے ان کا گھر ابن علقمہ عامری کے ہاتھ بیچ ڈالا، فتح مکہ میں جب مسلمان فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور دشمنان اسلام کی قوتیں ٹوٹ گئیں، اس وقت ابو احمدؓ نے سب کے سامنے اپنے مکان کا مطالبہ کیا؛لیکن آنحضرتﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ذریعہ سے چپکے سے کچھ کہلادیا، انہوں نے ابو احمدؓ کے کان میں جاکر کہدیا، اس کے بعد پھر آخر دم تک انہوں نے مکان کے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا، بعد کو ان کی اولاد سے معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ نے حضرت عثمانؓ کے ذریعہ سے کہلایا تھا کہ تم اس مکان کو جانے دو اور اس کے عوض میں تم کو خلدبریں میں قصر ملے گا۔ [2]

وفات[ترمیم]

سنہ وفات صحیح طورپر متعین نہیں کیا جاسکتا ؛لیکن 20ھ کے قبل وفات پاچکے تھے؛کیونکہ ان کی بہن حضرت زینبؓ کا انتقال 20ھ میں ہوا اور یہ ان کی زندگی میں وفات پاچکے تھے۔ [3]

ازواج واولاد[ترمیم]

اولاد کوئی نہ تھی، گھر میں تنہا بیوی تھیں،ایک مرتبہ عتبہ بن ربیعہ،عباس بن مطلب اورابوجہل ادھر سے گذرے، رفاعہ کو تنہا دیکھ کر عتبہ نے ٹھنڈی سانس لی کہ افسوس آج بنی جحش کے گھر میں کوئی رہنے والا تک نہیں، ابوجہل جو اپنی کینہ پروری کا ہر جگہ ثبوت دیتا تھا، بولا ان پر روتے کیا ہو، یہ سب ہمارے بھتیجے کا کیا دھرا ہے ،ان ہی نے ہمارا شیرازہ درہم برہم کیا۔ [4]

فضل وکمال[ترمیم]

شاعری قریش کا طغرائے کمال تھا، حضرت ابواحمدؓ بھی شاعر تھے؛چنانچہ ابوسفیان نے ان کا گھر بیچا تو انہوں نے ایک منظوم شکایت لکھی،جس کے دو شعر یہ ہیں۔ اقطعت عقدک بیننا والجاریات الی ندامہ دارابن عمک بعتھا تثریٰ بھا عنک الندامہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد:4/76)
  2. (ابن سعد،جز4،قسم1:76)
  3. (استیعاب:2/641)
  4. (اسد الغابہ:5/134)