ابو اسحاق ابراہیم الزرقالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو اسحاق ابراہیم الزرقالی
Azarquiel (MUNCYT, Eulogia Merle).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1029[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
طلیطلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1087 (57–58 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اشبیلیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہر فلکیات،  ریاضی دان[2][3][4]،  منجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فلکیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ابو اسحاق ابراہیم الزرقالی جسے الزرقالی اور ابن زرقالہ بھی کہا جاتا ہے، ایک عرب[6] مسلمان ہیئت دان اور آلات ساز تھا جو اپنے وقت کا ممتاز ماہر فلکیات تھا۔ اس کا نام مشہور الزرقالی ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اصل نام الزرق اللہ ہے۔[7] جب کہ لاطینی زبان میں اسے Arzachel یا Arsechieles سے جانا جاتا ہے، یہ نام Arzachel سے نظر ثانی شدہ ہے، جس کا مطلب ہے نقش گر۔[8]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

الزرقالی طلیطلہ کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوا۔ طلیطلہ اس وقت طائفہ طلیطلہ کا دار الحکومت تھا۔ شروع میں اس کی ترتیب بطور لوہار کی گئی۔ بعد میں اس نے ہنسدہ اور فلکیات کی تعلیم ذوق و شوق سے حاصل کی۔

سائنس[ترمیم]

الزرقالی نے اپنی کتاب میں بتایا کہ ستارون کے مقابلے میر اوج الشمس حرکت پزیر ہے۔ اس نے اس حرکت سے پیدا ہونے والے تغیر کی پیمائش بھی کی۔ اس نے اس تغیر کی مقدار ہر دو سو ننانوے عام سالوں کے سیکنڈ لیے ایک ڈگری بتائی جو 1204 زاویائی سیکنڈ سالانہ بنتی ہے۔ یہ پیمائش منطقۃ البروج (Zodiac) ہی کی سمت میں کی گئی تھی۔ دور جدید کے نازک اور حساس ترین آلات سے یہ پیمائش 11.08 زاویائی سیکنڈ سالانہ نکلی ہے۔[9]

طلیطہ کے جداول[ترمیم]

الزرقالی کی پہلی کتاب طلیلہ کے جداول پر مشتمل ہے۔ اس کے دو لاطینی تراجم بھی موجود ہیں۔ اس میں مطلع استوائی اور سورج، چاند اور سیاروں کی مساواتوں کو معلوم کرنے سے متعلق الخوارزمی کا جدول دیا گیا ہے، اس کے علاوہ اس میں البتانی کا جدول بھی شامل ہے جس میں طلع مائل، طالع اختلاف منظر، گرہن اور سیاروں کی ترتیب جیسے موضوعات پر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔[10][11] تعدیل بروج سے متعلق ہرمس کا جدول اہتراز طریق الشمس یا آغاز اور اختتام سے متعلق ثابت بن قرہ کا جدول بھی کتاب میں موجود ہے۔ اس کتاب میں ٹرگنومیٹری کی نسبتوں یعنی سائن، کوسائن، ٹینجٹ اور کوٹینجٹ کے ساتھ کروگہ جیسے ہندوستانی عوامل پچھلے جداول میں بھی کافی حد تک تصحیح کی۔[9]

کام[ترمیم]

اہم کام :

  • "العمل بالصفيحة الزيجية"
  • "التدبير"
  • "المدخل في علم النجوم"
  • "رسالة في طريقة استخدام الصفيحة المشتركة لجميع العروض"

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12046128c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://www.worldatlas.com/webimage/countrys/europe/spain/esfamous.htm
  3. http://www.nationmaster.com/encyclopedia/Cosmic-Era-locations
  4. http://www.discogs.com/lists/Esoterica-Electronica/131346?page=2
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12046128c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. Edward Stewart Kennedy (1983)۔ Studies in the Islamic exact sciences (en زبان میں)۔ American University of Beirut۔ 
  7. s.v. "al-Zarqālī"، Julio Samsó، دائرۃ المعارف الاسلامیہ، New edition, vol. 11, 2002.
  8. Chaucer Name Dictionary: A Guide to Astrological, Biblical, Historical, Literary, and Mythological Names in the Works of Geoffrey Chaucer۔ Routledge, 1996۔ صفحہ 41۔ آئی ایس بی این 978-0-8153-2302-0۔ 
  9. ^ ا ب "ابو اسحاق الزرقالی"۔ اردو سائنس انسائیکلوپیڈیا 10 (اشاعت سوم)۔ لاہور: اردو سائنس بورڈ۔ صفحہ 1914۔ 
  10. Thomas F. Glick؛ Steven John Livesey؛ Faith Wallis (2005)، Medieval Science, Technology, and Medicine: An Encyclopedia، روٹلیج، صفحہ 30، آئی ایس بی این 0-415-96930-1 
  11. G. J. Toomer (1969)، "The Solar Theory of az-Zarqāl: A History of Errors"، Centaurus 14 (1): 306–336، Bibcode:1969Cent.۔۔14.۔306T، doi:10.1111/j.1600-0498.1969.tb00146.x ، at p. 314.

مزید پڑھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]