ابو الاسود الدؤلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الاسود الدؤلی
أبو الأسود الدؤلي.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 603  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عراق  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 688 (84–85 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب ملك النحو
عملی زندگی
أعمال أمير البصرة
قاضي البصرة
پیشہ ماہرِ لسانیات، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل لسانيات  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو الاسود الدؤلي (16/603–69/689) کا پورا نام أبو الاسود ظالم بن عمرو بن سفيان الدؤلی الكنانی تھا[2] اور وہ علی بن ابی طالب کے زمانہ کے شاعر اور قواعد (گرامر) نویس تھے۔ جب اسلام عرب سے باہر نکل کر عجم میں پھیلنے لگا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے اور قران کو پرھنے لگے تو عجم کے لیے قران کو ٹھیک طریقے سے پرھنے کا مسئلہ پیدا ہوا لہذا علی بن ابی طالب کے کہنے پر ابو الاسود الدؤلي نے عربی قواعد کی تدوین شروع کی۔ اس طرح وہ عربی قواعد کے بابا آدم ہوئے۔ چونکہ وہ بصرہ میں رہتے تھے لہذا انہوں عربی قواعد کے مکتب بصرہ کی بھی ابتدا کی۔ بعد میں ایک اور مکتب کوفہ پیدا ہوا اور اس طرح کوفہ و بصرہ عربی قواعد کے دو بڑے متکب فکر بن گئے۔ ابو الاسود الدؤلي نے عربی رسم الخط پر اعراب متعارف کرایا۔ انہوں نے نحو ایجاد کیا اور عربی لسانیات پر پہلی مرتبہ لکھا۔[3] ان سے خلق کثیر نے استفادہ کیا اور انہیں لغت اور نحو کا امام مانا۔ ان کے کئی شاگرد ہوئے۔[4] ان کی ولادت بعثت نبوی سے قبل ہوئی اور وہ اسلام بھی لائے مگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ امام شمس الدین ذہبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلا میں لکھتے ہیں؛

وہ کسی حد تک علی بن ابی طالب کے حامی تھے۔ وہ صاحب عقل و رائے تھے۔ وہ اپنے زمانہ کے چنندہ فقیہ، شاعر، محدث، شہسوار، رئیس، بخیل، عقلمند، حاضر جواب اور حامی علی تھے۔[5]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ابو الاسود الدؤلی کی ولادت ہجرت مدینہ سے 16 سال قبل ہوئی۔[5] علما میں ان کے نام میں اختلاف ملتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ان کا نام ظالم بن عمرو بن ظالم اور کچھ کے نزدیک ظالم بن عمرو بن سفیان ہے۔،[5][6][7] ایک قول کے مطابق عثمان بن عمرو[5][6][7] اور ایک قوم کے مطابق عمو بن ظالم ہے۔[5][6] ایک قول عمرو بن سفیان کا بھی ہے اور ایک قول کے مطابق ان کا نام عویمر بن ظویلم ہے۔[6] ان کے سلسلہ نسب بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق ظالم بن عمرو بن سفيان بن جندل بن يعمر بن حلس بن نفاثة بن عدي بن الديل بن بكر بن عبد مناة بن كنانة ہے۔[6][8][9]

حوالہ جات[ترمیم]