ابو الجلال ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الجلال ندوی
معلومات شخصیت
پیدائش 22 اپریل 1894  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چریاکوٹ، اعظم گڑھ، اتر پردیش، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 اکتوبر 1984 (90 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن سعود آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہرِ لسانیات، محقق، معلم، صحافی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، عربی، فارسی، سنسکرت، عبرانی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل وادی سندھ کا رسم الخط، علم اشتقاق، تقابل ادیان  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ، دار المصنفین  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ابو الجلال ندوی (پیدائش: 22 اپریل، 1894ء - وفات: 14 اکتوبر 1984ء) ہندستانی نژاد پاکستانی محقق، نقاد، معلم اور ماہرِ لسانیات تھے جنہوں نے موئن جو دڑو سے برآمد ہونے والی قدیم مہروں کی تشریح و توضیح پر تنقیدی اور وقیع کام کیا۔ ابو الجلال ندوی دار العلوم ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد سید سلیمان ندوی کی رہبری میں دار المصنفین میں کام کرتے رہے، جہاں کی علمی و تحقیقی فضا نے ان کے ادبی و لسانیاتی ذوق کو پروان چڑھایا اور بعد ازاں ان کی تحقیقات، بالخصوص اعلام القرآن اور لسانی تحقیقات معارف کے صفحات کے ذریعہ اہلِ علم تک پہنچیں۔

ابو الجلال ندوی کی زندگی کے دو حصے ہیں، پہلا حصہ جب وہ ہندوستان میں رہ کر اعلام القرآن اور قدیم تہذیبوں بالخصوص یمنی تہذیب کے کتبات وغیرہ پر کام کر رہے تھے۔ دوسرا حصہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ابو الجلال ندوی تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوئے اور وہاں اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی تہذیبوں پر کام کیا۔ ابو الجلال ندوی اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ قدیم زبانیں عبرانی اور سنسکرت بھی جانتے تھے، چنانچہ ان کی یہ متعدد الالسنہ صلاحیت موئن جو دڑو اور یمنی تہذیب کے قدیم کتبات پر تحقیقی کام میں انتہائی معاون رہی۔

حالات زندگی[ترمیم]

ابو الجلال ندوی کی پیدائش 22 اپریل 1894ء میں چریاکوٹ، اعظم گڑھ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں ہوئی۔[1][2] ابتدائی تعلیم گاؤں کے مولوی الیاس اور اپنے والد سے حاصل کی، اس کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہوئے۔ فراغت کے بعد شبلی نیشنل کالج میں مدرس ہوئے۔ 1923ء میں سید سلیمان ندوی نے ان کی صلاحیت دیکھ کر دار المصنفین میں رفیق کے منصب سے سرفراز کیا۔ پانچ چھ برس دار المصنفین کے قیام کے بعد مدرسہ جمالیہ کے پرنسپل ہوکر مدراس چلے گئے۔[3] 1927ء میں ابو الجلال ندوی نے سید سلطان بہمنی اور نذیر احمد شاکر کے ساتھ مل کر مدراس سے روزنامہ مسلمان جاری کیا جو اب بھی جاری ہے اور تمل ناڈو کا واحد اردو اخبار ہے جس نے کتابت کے فن کو زندہ رکھا ہے اور مکمل اخبار کی کتابت کی جاتی ہے۔[4] لسانیات اور دوسرے تحقیقی موضوعات پر جب ان کے مضامین معارف اور دیگر جرائد میں شائع ہوئے تو ملک کے علمی حلقوں میں ان کی شہرت بڑھی، اہم کتابوں پر تبصرے بڑی عرق ریزی اور توجہ سے کرتے۔[3] لسانیات، علم الاشتقاق اور تقابل ادیان ان کا خاص موضوع تھا۔ وہ اردو کے علاوہ عربی، فارسی، عبرانی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے وادیٔ سندھ خصوصاً موئن جو دڑو سے برآمد ہونے والی قدیم مہروں کی تشریح و توضیح [2] اور ان مہروں کی روشنی میں وادیٔ سندھ کے قدیم رسم الخط پر تحقیق کی[5] اور اس حوالے سے ان کے متعدد مقالات بھی شائع ہوئے۔

وید، گیتا، اپنیشد اور ہندوستان کے دوسری مذہبی کتابوں کا بھی گہرا علم تھا۔ کوئی کتاب تو مرتب نہ کر سکے لیکن ماہنامہ معارف اور دوسرے معیاری رسالوں میں ان کے اعلیٰ تحقیقی مضامین سے ان کی علمی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آخر عمر میں پاکستان چلے گئے۔[3]

وفات[ترمیم]

ابوالجلال ندوی کا انتقال 14 اکتوبر 1984ء میں کراچی، پاکستان میں ہوا اور سعود آباد، ملیر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔[2]

تحقیقات[ترمیم]

ابو الجلال ندوی کے چھوٹے بھائی کے فرزند حاطب احمد صدیقی اپنی کتاب "ابو الجلال: دیدہ و شنیدہ و خواندہ" میں وادئ سندھ کے رسم الخط کے متعلق ابو الجلال ندوی کی بعض تحقیقات انہی کی زبانی درج کی ہیں، جن کے چند اقتباس حسب ذیل ہیں۔

رسم الخط[ترمیم]

"ہم اسکول کالج کے لڑکوں میں سے اگر کوئی اپنے درسی مطالعے کی روشنی میں یہ کہ دیتا کہ موہنجوداڑو کی زبان پڑھ نہیں جاسکی تو بڑے ابا سخت غصے اور جلال میں آجاتے۔با آواز بلند کہتے: پڑھی نہیں جاسکی، غلط ہے۔ جان بوجھ نہیں پڑھا گیا۔

اس کے بعد بڑے ابا بڑی تفصیل سے بتاتے کہ ان مہروں کو نہ پڑھنے، بلکہ جان بوجھ کر نہ پڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ وہ نقوش کی مثالیں دے دے کر بتاتے کہ ان مہروں کے نقوش کی زبان سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین حنیف کے پیروکاروں کی زبان تھی۔ یہ ملت حنیفہ کی زبان تھی۔ عبرانی اور عربی رسم الخط بھی انھی نقوش سے نکلا ہے۔ محض تعصب کی وجہ سے انھیں نہیں پڑھا گیا۔ ایسی ہی ایک گفتگو میں انھوں نے بتایا: 1852ء اور 1860ء کے درمیان میں جب برہمن آباد اور ہڑپا وغیرہ سے قدیم آثار بر آمد ہوئے تو اس زمانے میں کراچی میں ایک عالم آدمی فوج میں ملازم تھا۔ اس کا نام کننگھم تھا۔ وہ وہاں دوڑ کر گیا اور اس نے کھدائی رکوادی۔ اس کے بعد سے اس کام پر اس کو متعین کر دیا گیا۔ اس نے ان مختلف جگہوں سے ان مقامات کو کھودا جہاں قدیم آثار موجود تھے۔ انھی آثار میں سے وہ مہریں برآمد ہوئیں جن پر بیل کی تصویریں تھیں۔ آج ان میں سے ایک بھی مہر ہندوستان میں ہے نہ پاکستان میں۔ تمام مہریں دنیا میں ادھر ادھر پھیلا دی گئیں۔ اب صرف ان مہروں کا نقلل یا عکس رہ گئے ہیں۔

یہاں کی کھدائی سے قبل عراق میں ایک ایسی ہی کھدائی ہو چکی تھی۔ عراق سے بھی کچھ مہریں ملی تھیں، جن پر یہی تصویری نقوش تھے۔ اس وقت ان کا ماخذ معلوم نہیں ہو سکا تھا۔ اب یہاں سے جو مہریں ملیں ۔.۔.۔.۔.۔.۔ 1859ء اور 1860ء میں ۔.۔.۔. اور ان کے نقوش شائع ہوئے تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ ان عراقی مہروں کا ماخذ بھی سندھ تھا۔ 1857ء میں تو انگریزوں کو مسلمانوں سے دشمنی تھی۔ اس لیے ان مہروں کی قرأت میں اور تحقیقات میں کسی مسلمان کو شامل ہونے دیا گیا، نہ انھیں کسی ایسی جگہ شائع کیا گیا جہاں سے اس کی بھنک بھی مسلمانوں کے کانوں میں پڑ سکے۔

مولانا ابوالجلال ندوی نے دلائل سے ثابت کیا کہ موہنجوداڑو کے رسم الخط کو مغربی ماہرین نے درست طور پر نہیں سمجھا۔ ان کی تحقیق کے مطابق وادی سندھ کی اس قدیم تہذیب کا سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے بعد کے انبیا کی امتوں سے گہرا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کا پہلا مضمون انجمن ترقی اردو پاکستان کے سہ ماہی رسالے تاریخ و سیاسیات میں نومبر 1953ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ بعد میں وزارت اطلاعات ونشریات، حکومت پاکستان کے سرکاری جریدے ماہ نو میں سندھی مہریں کے عنوان سے اگست تا دسمبر 1959ء پانچ قسطیں شائع ہوئیں، پھر مارچ تا دسمبر 1958ء اسی موضوع پر مختلف عنوانات سے چھ مضامین شائع ہوئے۔

سندھ کی مہروں پر تحقیق کا خیال مولانا ابو الجلال ندوی کے ذہن میں کیسے پختہ ہوا، اس ضمن میں وہ ہمیں یہ دلچسپ قصہ سنایا کرتے تھے:

سندھی مہروں پر غور کرنے کی خواہش میرے دل میں دو وجوہ سے بھری۔ پہلی وجہ تو یہ کہ ماہ نو میں ایک ہاتھی کی تصویر پر یہ (یہاں مولانا نے تصویری حروف بنا کر دکھائے) لکھا دیکھا اور دیکھتے ہی اسے فیل پڑھ لیا۔ دوسری وجہ یہ ہوئی کہ ایک رات دمیری کی حیاة الحیوان دیکھ رہا تھا۔ اس میں لفظ اسد کے ماتحت یہ داستان ملی کہ فقیہ ابو الزنادؓ نے حضرت ابو موسی اشعریؓ کے فرزند حضرت ابو بردہ اشعری کے ہاتھ میں ایک انگوھی دیکھی جس کے نگ پر دو شیروں کے درمیان میں ایک انسان کی شکل تھی۔ فقیہ ابو الزناد جو ہمارے قانون میراث کے اولین مرتب ہیں اور ذرا ذرا سے فرق کے ساتھ احناف، مالکی، شوافع، حنابلہ مکحول شامی (اصلا و نسلا سندھی) سب نے انھی کی فقہ کا اتباع کیا ہے، ابو بردہ کے پاس یہ انگشتری دیکھ کر معترض ہوئے کہ آپ اور یہ انگشتری؟ انھوں نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں حضرت ابو موسی اشعریؓ سوس (سوسا، واقع امیران) کے گورنر تھے۔ وہاں ایک بھٹی ہوئی نہر صاف کی جارہی تھی۔ اتفاق سے ایک قبر کھل گئی۔ حضرت ابو موسی اشعریؓ کو اس کی خبر دی گئی۔ یہ قبر حضرت دانیال علیہ السلام کی تھی۔ لاش مع کفن ایسی تھی جیسے ابھی ابھی دفن کی گئی تھی۔ انھوں نے (حضرت ابو موسی اشعری) نے قبر میں سے لاش نکال کر ازسر نو غسل اور کفن دے کر اور باجماعت نماز جنازہ پڑھ کر اسے دفن کر دیا اور اس کے اوپر سے نہر سوسا رواں کر دی۔ لاش کے ساتھ قبر میں سے ایک انگشتری ملی، جس کو حضرت ابو موسی نے حاصل کر لیا۔ انگشتری کی مہر پر دو شیروں کے درمیان میں ایک مرد کی تصویر تھی۔حضرت دانیال کو بخت نصر نے شیروں کی ناند میں ڈال دیا تھا لیکن شیروں نے ان کو کوئی گزند نہیں پہنچایا۔

اس خبر کو پڑھ کر خیال آیا کہ میں اس منظر کو بچشم خود کہیں دیکھ چکا ہوں۔ صبح اٹھ کر کنیمرا میوزیم لائبریری میں گیا تو ایک سندھی مہر پر دو شیروں کے درمیان میں ایک انسانی پیکر دیکھا اور اس نوشتے کو نقل کر لیا، جسے اس وقت نہیں سمجھا تھا لیکن توقع تھی کہ سمجھ لوں گا۔ میوزیم لائبریری سے واپسی کے بعد در بارہوٹل میں ایک دوست مولوی عبد الستار صاحب کرنولی کے ساتھ چائے پی رہا تھا، اس ماجرا کا ان سے ذکر کیا اور کہنے لگا کہ کچھ مہریں موہنجوداڑو کی مل جائیں تو کوشش کر کے معلوم کرنا مشکل نہ ہوگا کہ ان پر کیا مکتوب ہے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک شخص نے ماہ نو کا پرچہ سامنے رکھ دیا۔ لفظ فیل کو پڑھتے ہی امید واثق ہو گئی کہ ان مہروں کو پڑھ لوں گا۔

اگر کسی گھریلو محفل میں بھی ان سے موہنجوداڑو کے تعلق کوئی سوال کر دیا جا تاتو علم کا بحر زخار موج زن ہو جاتا۔ ایک بار ایک مجلسی گفتگو میں بڑے ابا نے بڑے دلچسپ انداز میں بتایا: موہنجوداڑو ایک کاسموپولیٹن شہر تھا۔ اس میں عرب آباد تھے۔ اس میں ناگا آباد تھے۔ اس میں بروہی آباد تھے۔ میں نے ایک مہر دیکھی ہے، جس کی چند سطریں ہی پڑھ سکا ہوں۔ اس مہر میں ایک جگہ "برح شہ" لکھا ہے۔ ”برح شہ" ایک قوم تھی، جس کی زبان فارسی اور عربی تھی، فارسی اور عربی کا آمیزہ۔ انھوں نے اس کو دراوڑی یا دراویدی قرار دے ڈالا۔ خود دراویدی کے کیا معنی ہیں؟ ان کونہیں معلوم مگر ہم کو معلوم ہے۔ درا، یدری کے معنی ہیں … عربی میں اس نے جانا۔ قرآن میں یہ لفظ ہمیشہ نفی کے ساتھ آیا ہے ۔.۔.۔. ما یدری اس نے نہیں جانا۔ یہ لفظ دراویدی نہیں ہے۔ اصل لفظ ہے دراوِدی، ود کے معنی یہاں وید کے ہیں۔ اور وید کے معنی علم ہیں۔ یہ لفظ استاد جسے آپ کہتے ہیں، اصل میں اوستاود تھا۔ یعنی اوستا کا جانے والا ۔ چوں کہ یہی اوستا کا جانے والا معلم ہوا کرتا تھا، چناں چہ اوستاود معلم بن گیا اور گھٹتے گھٹتے او ستاود صاحب استاد صاحب بن گئے۔"[6]

بروح[ترمیم]

"اوستاود صاحبان وید کے علما تھے۔ یہی دراوِد یعنی وید کے جانے والے تھے۔ آپ نے انھیں دراوڑی قرار دے ڈالا۔ اب آپ لوگ دراویدی بروہی کو کہتے ہیں، تو ذرا یہ بتائیے کہ دراویدی زبان میں بروه (یا بروح) کے کیا معنی ہیں؟ موہنجو داڑو سے نکلنے والی ایک مہر پر محراب میں ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ اس طرح سے ہاتھ باندھے ہوئے ہے [مولانا نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر دکھایا] قرآن کی ایک آیت ہے: وهو قائم يصلي في المحراب (آل عمران۔ 39) (جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا) یہ تھا وہ بروح اور اس بروح کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد کا ہے اور اسی زمانے کی تحریریں ہم کو ملتی ہیں۔"[7]

ملت حنیفہ اور وادئ سندھ کی تہذیب[ترمیم]

"اب ذرا بلوچستان سے سمندر پار کر کے عرب میں داخل ہوجائیے۔ دیکھیے کہ وہی تحریریں وہاں ملتی ہیں یا نہیں؟ ارے صاحب ....... پرانے آثار میں دیکھیے کہ وہاں پہاڑوں پر کیا نقوش ملتے ہیں۔ راستوں اور عمارتوں کے کتبات پر کیا لکھا ہوا ہے؟ یہاں زمین سے کھود کر جو کچھ نکالا گیا ہے، یہ بعد کا قصہ ہے۔ اوپر برسر زمین جو کچھ لکھا ہوا ہے، اسے دیکھیے۔

بلوچستان میں ہرّو نامی پہاڑی پر ایک نقش بنا ہوا ہے۔ اس نقش کے بالکل سامنے ایک قبر ہے۔ اس نقش میں ایک شخص ہاتھ میں کمان لیے ہوئے تیر سے اس قبر کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔ وہ قبر کیوں نہیں کھودی گئی؟ اس کو یہ کہ کر چھوڑ دیا گیا کہ یہ مسلمانوں کی قبر ہے۔ جتنی قبریں ملی ہیں قدیم زمانے کی، وہ سب مسلمانوں جیسی ہیں اور اسی طرف رخ ہے ان سب کا، خانہ کعبہ کی طرف۔ یہاں کے لوگ حضرت ابراہیم کی ملت حنیفہ کے پیرو تھے۔

ہم نے ایک مہر میں 'حَنِفّہ' نامی ایک شخص کا نام پڑھا ہے۔ ان لوگوں کا عقیدہ تحریر ہی سے نہیں ان مہروں پر بنی ہوئی تصویر سے بھی ثابت ہوا ہے، جب کہ آپ مہروں کے اوپر دیوتاؤں کے نام تلاش کرتے ہیں۔ بیل کو ان کا دیوتا قرار دیتے ہیں۔ بیل پراشخاص کے نام ڈھونڈتے ہیں۔ بیل کو بھی دیوتا صرف اس وجہ سے قرار دیا کہ وہ گئوماتا کا شوہر ہے۔ ورنہ دلیل انھیں کوئی نہیں ملی۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کا زمانی تعلق کیسے ثابت ہوتا ہے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سنہ دو ہزار دو سو قبل مسیح اور سنہ دو ہزار ایک سو قبل مسیح کے درمیان گزرے ہیں اور 'بروح' کا زمانہ اور موہنجوداڑو سے ملنے والی مہروں کا زمانہ سنہ دو ہزار اسی قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔"[8]

وادئ سندھ کی تہذیب کا رسم الخط[ترمیم]

وادئ سندھ کی تہذیب کے رسم الخط کے متعلق ابو الجلال ندوی فرماتے ہیں:

ان لوگوں نے دنیا بھر کی زبانوں کی بات کی مگر بائبل کے اندر ماروت نامی ایک قوم کا ذکر ہے۔ ماروت کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ ماروت نام کے کتبات ایران اور بائبل میں بھی ملے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ عراق سے سندھ تک اس پورے خطے میں ایک ہی قوم آباد تھی۔ ان لوگوں نے تمام قوموں کی زبانوں کو لیا، مگر دانستہ طور پر ماروت کا ذکر نہیں کیا۔ اس لیے کہ اگر ماروت کو مان لیں تو ماروت کی زبان تو ان کو معلوم ہے۔ موہنجوداڑو کی زبان کا رسم الخط دراصل عبرانی، عربی اور سنسکرت کے رسم الخط کی بنیاد ہے۔ یہ زبان قریب قریب عبرانی تھی لیکن اس وقت کسی اور نام سے موسوم تھی۔میں نے قرآن مجید کے حروف مقطعات کی تفہیم کے لیے ہر قوم اور ہر زبان کی ابجد کو جمع کرنا شروع کیا تھا۔ دراصل انھی تمام ابجدوں اور عبری کی وجہ سے میں اس زبان کو پڑھنے کے قابل ہو سکا۔ میں اب تک [یہ گفتگو ۱۹۷۹ء میں ہو رہی تھی] دو ہزار کے قریب کتبوں اور مہروں کو پڑھ چکا ہوں۔ میرا مطالعہ جاری ہے اور ان شاء اللہ میں تمام مہروں کو پڑھ ڈالوں گا۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف مولانا ابو الجلال ندوی، سوانح و تصانیف ڈاٹ کام، پاکستان
  2. ^ ا ب پ عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 567
  3. ^ ا ب پ مولانا ابو الجلال ندوی، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ، بھارت
  4. ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز۔ "اردو صحافت- کل، آج اور کل"۔ جہانِ اردو، حیدرآباد، بھارت۔
  5. وادیٔ سندھ کا رسم الخط، نیا نقطۂ نظر، آفتاب ون بلاگ، بھارت
  6. ابو الجلال ندوی، دیدہ و شنیدہ و خواندہ، حاطب احمد صدیقی، ص: 92-95
  7. ابو الجلال ندوی، دیدہ و شنیدہ و خواندہ از حاطب احمد صدیقی، ص: 96
  8. ابو الجلال ندوی، دیدہ و شنیدہ و خواندہ از حاطب احمد صدیقی ص: 97
  9. ابو الجلال ندوی، دیدہ و شنیدہ و خواندہ ص: 97 از حاطب احمد صدیقی