ابو القاسم گرگانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابوالقاسم علی گرگانیسلسلہ نقشبندیہ میں اویسی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔

نام و کنیت[ترمیم]

آپ کا اسم مبارک علی بن عبد اللہ اور کنیت ابوالقاسم ہے۔

باطنی نسبت[ترمیم]

آپ کو فیض باطنی شیخ ابوالحسن خرقانی سے اور تین واسطہ سے سید الطائفہ جنید بغدادی سے ہے۔ اپنے وقت میں بے نظیر و بے بدل اور مرجع کل تھے اور مریدوں کے واقعہ کے کشف میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔

اویسی نسبت[ترمیم]

آپ اویسی تھے : خواجہ محمد پارسا لکھتے ہیں کہ بعض اولیا ایسے ہین جنہیں ظاہرا پیر کی ضرورت نہیںہو تی چونکہ انہیں براہ راست رسول کی روحانیت تربیت کرتی ہے جیسے اویس قرنی کی تربیت فرما ئی ایسے بزرگ اویسی کہلا تے ہیں۔بہت سے مشائخ طریقت کو شروع شروع میں اس مقام کی طرف توجہ رہے ہے چنانچہ شیخ بزرگوار ابو القا سم گرگانی طوسی اور نجم الدین کبریٰ کے سلسلے کے مشائخ جن کا سلسلہ آپ سے ملتا ہے ابتدا ء میں ہمیشہ اویس اویس کہا کر تے تھے۔(رسالہ قدسیہ ،ص 131)

کرامات[ترمیم]

قطب دوراں داتا گنج بخش ہجویری لاہوری فرماتے ہیں! کہ مجھے ایک واقعہ پیش آیا جس کے حل کا طریقہ دشوار ہوا۔ میں شیخ ابوالقاسم گرگانی کی زیارت کے ارادے سے طوس میں پہنچا اور آپ کو مسجد میں اپنے حجرے کے اندر تنہا پایا۔ آپ اس وقت بعینہ میرے واقعہ کو ایک ستون سے ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا اے شیخ! آپ گفتگو کس سے کر رہے ہیں؟ فرمایا: اے لڑکے! اللہ تعالیٰ نے اس وقت اس ستون کو میرے ساتھ گویا کر دیا کہ اس نے مجھ سے سوال کیا جس کا میں جواب دے رہا ہوں۔

تعلیمات[ترمیم]

درویش کی ضرورت : میں نے یعنی علی بن عثمان ّ(جلا لی ) نے شیخ ابو القاسم گرگانی سے مقام طوس میں سوا ل کیا کہ درویش کو کم ازکم کیا چیز لازم ہے جس سے اس کے ناموں کے ساتھ نام فقر موزوں ہو سکے فرمایا تین چیزیں کم ازکم ضروی ہی اول یہ کہ وہ اپنی کمبل پر پیوند خود لگائے تو یہ سمجھے کہ پیوند کس طرح موزوں رہے گا اور اسے کس طرح کمبل پر چسپاں کرے۔دوسری یہ ہے کہ (دل کی آواز اور عوام کی بات )سن سکے اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کی اہلیت رکھے۔تیسری یہ کہ فقیر کا کوئی قدم زمین پر بے کا ر نہ پڑے [1]

وصال[ترمیم]

سفینۃ الاولیاء میں آپ کا سنہ وفات (23 صفر) 450ھ لکھا ہے۔ ۔ [2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کشف المحجوب ،صفحہ 141
  2. نفحات الانس،صفحہ 343،عبد الرحمن جامی،شبیر برادرز اردو بازار لاہور
  3. تاریخ مشائخِ نقشبندیہ، صفحہ189،محمد عبد الرسول للہی،زاویہ پبلیکیشنز لاہور