ابو النصرمنظور احمد شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو النصر منظور احمد شاہ ہاشمی جامعہ فریدیہ ساہیوال کے بانی اور 100 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔

ولادت[ترمیم]

ابو النصر منظور احمد شاہ ہاشمی بن مولانا چراغ علی شاہ 24؍ رجب المرجب 1339ھ / 15 دسمبر 1930ء میں موضع چوہان ضلع فیروزپور (انڈیا) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نسباً ہاشمی ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب چالیس واسطوں سے سیّد امام مسلم(مسلم بن عقیل) تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا چراغ علی شاہ مستند عالم ہونے کے علاوہ طبیب بھی ہیں۔ علم الانسان میں کافی دسترس حاصل ہے۔ ’’بدر قریش‘‘ آپ کی مشہور تالیف ہے۔ جلال آباد کی مرکزی جامع مسجد میں خطیب رہ چکے ہیں۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ نے فارسی اور صرف کی کتب (مکمّل) اپنے والد ماجد سے ہندوستان میں ہی پڑھیں اور پھر جلال آباد غربی فیروز آباد کے مدرسہ امداد العلوم میں پڑھتے رہے۔ تقسیم ہند کے وقت جب پاکستان کی طرف ہجرت کر کے ضلع ساہیوال کے موضع ڈھپئی میں سکونت اختیار کی، تو موضع ٹوانہ میں مولانا ابو لسیر مولانا محمد اسماعیل فاضل بصیر پوری سے کنز الد قائق، قدوری اور کافیہ وغیرہ کتب پڑھیں۔ مشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف کا درس پاکپتن شریف کے مولانا الحاج محمد شریف تقشبندی سے لیا اور پھر اہل سنّت کی مرکزی درسگاہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ دو تین سال تک فقیہہ اعظم ابو الخیر مولانامفتی محمد نور اللہ نعیمی سے شرف تلمذ حاصل کرتے رہے اور بالآخر اسی دار العلوم سے 1952ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔ آپ نے درسِ نظامی کے نصاب کی تکمیل کے علاوہ میڑک، فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کیے۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور سے درجہ تخصص (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں آپ علما اکیڈمی کوئٹہ و پشاور کے بھی فاضل ہیں۔آپ نے 1954ء میں شیخ الاولیاء حضرت میاں علی محمد آف بسّی شریف سے بیعت اختیار کی۔ تائیدِ خداوندی سے آپ 50 سے زائد مرتبہ حجِ بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ انور سے مشرّف ہوچکے ہیں۔

عملی زندگی[ترمیم]

1952ء میں آپ نے درسِ نظامی کی تحصیل کے بعد ساہیوال کے محلّہ حیدری سے تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاحِ معاشرہ کے فرائض، بے شمار رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے۔ کچھ عرصہ مسجد قصاباں بیرونِ غلّہ منڈی میں خطابت فرمائی اور پھر سنہری مسجد گول چکر میں تشریف لائے جہاں وفات تک تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں آپ نے ایک دینی ادارہ کی بنیاد ڈالی جو پہلے دار العلوم عربیہ اور پھر جامعہ حنفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ بارہ سال اسی دار العلوم میں مہتمم اور مدّرس کے طور پر کام کرنے کے بعد آپ نے 1963ء میں ایک نیا دار العلوم جامعہ فریدیہ کے نام سے قائم کیا، تحریکِ پاکستان کے وقت آپ کا دور طالب علمی تھا۔ آپ نے طلبہ کے وفود کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف قصبات و دیہات میں عوام کو تحریک کے مقاصد اور اہمیّت سے روشناس کرایا۔ پاکستان بننے کے بعد مرزائیت کے ناسور کو ختم کرنے کی خاطر مسلمانانِ پاکستان نے دومرتبہ 1953ء اور 1974ء) تحریک چلائی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دیا۔ ان دونوں تحریکوں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ 1953ء کی تحریک میں آپ نے ساہیوال میں دورے کیے اور مرزائیوں کے عقائد سے عوام کو روشناس کرایا۔ ’’مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت‘‘ نامی رسالہ دس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیا۔ مختلف باطل فرقوں کے مبلّغین بالخصوص مشہور عیسائی پادریوں سے آپ کے بہت سے مناظرے ہوئے اور انہی مناظروں میں اسلام کی حقّانیت کا اقرار کرتے ہوئے ایک ہزار عیسائی مسلمان ہوئے

تصنیفات[ترمیم]

سیّد منظور احمد نے میدانِ تحریر میں کافی کام کیا ہے۔ آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:

  • حضور الحرمین
  • آئینہ حق
  • مقالۂ علمیّہ
  • لاتثلیت فی التوحید
  • مسیح کون ہے
  • بہائی اصول
  • اسلام اور ماہِ صیام
  • اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ
  • اسلام اور حفظانِ صحّت
  • اسلام اور سوشلزم
  • اسلام اور عید قربان
  • فلسفۂ زکوٰۃ
  • فلسفۂ جہاد
  • علِم القرآن
  • جنگِ مصر
  • مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت
  • فیوضاتِ فریدی۔فیوضات فریدی کے مختلف دینی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے
  • الفریدی کے نام سے آپ کی سرپرستی میں ایک ماہوار تبلیغی رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔ [1]

[2]

وفات[ترمیم]

ان کی وفات 25 اگست 2019ء بروز اتوار (27 ذالحجہ 1440ھ) کو ہوئی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]