ابو الوفاء بن عقیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الوفاء بن عقیل
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1040[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1119 (78–79 سال)[1][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
استاذ ابو اسحاق شیرازی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو الوفا علی بن عقیل بن محمد بن عقیل، پانچویں صدی ہجری کے بڑے حنبلی عالم اور شیخ تھے، سنہ ولادت 431 ہجری مطابق 1040 عیسوی ہے، بغداد اور عراق کے رہنے والے تھے، اپنے زمانہ کے امام اور علامہ تھے، صاحب تصانیف اور کبار ائمہ میں شمار ہوتا ہے۔

علمی کارنامہ (کتاب الفنون)[ترمیم]

ابو الوفا بن عقیل یہ بہت اہم اور بڑی کتاب ہے، کہا جاتا ہے کہ تقریباً آٹھ سو جلدیں ہیں جس میں وعظ، تفسیر، فقہ، اصول، نحو، لغت، شعر، تاریخ اور حکایات وغیرہ پر مشتمل بہت سی مفید چیزیں ہیں، اس کتاب میں ان کی مجالس، ان کے مناظرے اور ان کے دلی جذبات و خیالات اور افکار سب کو جمع کر دیا ہے۔

  • ذہبی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
ابو الوفا کی "کتاب الفنون" سے بڑی کتاب اب تک اس دنیا میں نہیں لکھی گئی ہے
  • صاحب کشف الظنون حاجی خلیفہ ج:2 ص:1447 پر لکھتے ہیں:
ابو الوفا بن عقیل بغدادی کی "کتاب الفنون" میں انھوں نے چار سو سے زائد فنون کو جمع کر دیا ہے
  • ابن رجب طبقات الحنابلہ 3/129 میں لکھتے ہیں:
سب سے بڑی تصنیف ہے، ایک بڑی اور اہم کتاب ہے، اس میں وعظ، تفسیر، فقہ، اصول، نحو، لغت، شعر، تاریخ اور حکایات پر مشتمل بہت سے فوائد ہیں، اس میں انھوں نے اپنے مناظرے، مجالس اور افکار و خیالات کو جمع کر دیا ہے

علما کی آرا[ترمیم]

  • ذہبی کہتے ہیں: «ابو الوفا بن عقیل بغدادی ظفری امام اور علامہ تھے، اپنے زمانہ میں حنبلیوں کے شیخ تھے، حنبلی متکلم اور صاحب تصانیف تھے، ظفریہ میں رہتے تھے، وہاں ان کی مسجد بہت مشہور ہے»[4]
  • ابن جوزی کہتے ہیں: «اپنے فن میں یکتا اور اپنے زمانے میں امام تھے، حسن صورت اور ظاہری محاسن سے متصف تھے، دین اور حدود کے بہت پابند تھے، ان کے دو بیٹوں کا انتقال ہوا تو انھوں نے ایسا صبر کیا تو دیکھنے والے تعجب کرتے تھے، بہت سخی تھے، جو کچھ ملتا اسے خرچ کر دیتے تھے، ترکہ میں سوائے اپنی کتابوں اور اپنے بدن کے چند کپڑوں کے کچھ نہیں چھوڑا۔»

وفات[ترمیم]

ابن جوزی کہتے ہیں: "ابن عقیل کی وفات جمعہ کی صبح 12 جمادی الاولی سنہ 513 ہجری میں ہوئی"۔ عیسوی سنہ 1119 تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/102372691 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Ibn-Aqil — بنام: Ibn 'Aqil — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. https://libris.kb.se/katalogisering/jgvx0h224qt9qk0 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 16 اکتوبر 2012
  4. سير أعلام النبلاء للذهبي. نسخہ محفوظہ 30 ديسمبر 2017 در وے بیک مشین
  • ابن حجر في لسان الميزان ج: 4 ص: 243