ابو الوفا البوزجانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو الوفا البوزجانی
Image illustrative de l'article ابو الوفا البوزجانی

معلومات شخصیت
پیدائش 10 جون 940  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
Buzhgan[*], خراسان, دولت سامانیہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 998 (57–58 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد, بنی بویہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش بغداد
شہریت دولت سامانیہ
بنی بویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
نسل فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نسل (P172) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد ابن یونس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ریاضی دان،ماہر فلکیات،سائنسدان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریاضی،فلکیات،مثلثیات،حساب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ابو الوفا البوزجانی خراسان کے شہر بوز جان میں 940ء میں پیدا ہوئے۔ اس کا شمار اسلامی دور کے عظیم ریاضی دانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے الجبراء اور جیومیٹری میں ایسے نئے مسائل اور قائدے نکالے جو اس سے بیشتر موجود نہ تھے۔ انھیں مثلثات یعنی ٹرگنومیٹری کے اولین موجدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کا نام “ابو الوفاء محمد بن یحیی بن اسماعیل بن العباس البوزجانی” ہے، عرب کے عظیم ترین ریاضی دان تھے، ریاضی علوم کی ترقی میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔

ریاضیات میں خدمات[ترمیم]

عددیات اور حسابیات کی تعلیم اپنے ماموں ابی عبد اللہ محمد بن عنبسہ اور چاچا ابی عمرو المغازلی سے حاصل کی، بیس سال کے ہوئے تو بغداد چلے گئے جہاں اپنی تصانیف، مقالہ جات اور اقلیدس، دیوفنطس اور خوارزمی کی کتب پر تشریحات کے وجہ خوب شہرت حاصل کی۔

370ھ میں ابا حیان التوحیدی نے بوزجانی کو وزیر ابن سعدان سے متعارف کرایا جن کے گھر میں ان کی مشہور مجالس منعقد ہوئیں۔ان مجالس کا احوال ابا حیان نے کتاب “الامتاع والؤانسہ” میں رقم کرکے اسے بوزجانی کو پیش کی۔

بغداد میں انہوں نے اپنی زندگی تصنیف، رصد اور تدریس میں گزاری، انہیں 377ھ کو سرایہ میں بنائی گئی شرف الدولہ کی رصد گاہ کا رکن منتخب کیا گیا، ان کی وفات غالباً 3 رجب 388ھ کو ہوئی۔

بوزجانی کو فلکیات اور ریاضی کے چند ائمہ میں گنا جاتا ہے، ان کی اس حوالے سے بہت قیمتی تصانیف ہیں۔ ہندسہ میں سب سے زیادہ شہرت پانے والے سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔جبر میں انہوں نے خوارزمی کے کام میں ایسے اضافے کیے جو جبر اور ہندسہ کے تعلق کی بنیاد ہیں۔ وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے نسبی مثلث وضع کیا اور اسے ریاضی کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ ان کے بے شمار ریاضیاتی اور ہندسی تجربات اور دریافتیں ہیں۔

مثلثات - ٹرگنومیٹری[ترمیم]

مثلثات کے حوالے سے ان کی گراںقدر خدمات ہیں۔ جن میں جند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔[2]

فنِ تصویر سازی میں بھی ان کا بڑا کردار ہے۔اس حوالے سے ان کی کتاب “کتاب فی عمل المسطرہ والبرکار والکونیا” بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں تصویر سازی اور اس کے لیے آلات کے استعمال کے خاص طریقے درج ہیں.

تصنیفات[ترمیم]

ان کی قیمتی اور نفیس تصانیف یہ ہیں:

  • کتاب ما یحتاج الیہ العمال والکتاب من صناعہ الحساب یہ کتاب منازل الحساب کے نام سے بھی مشہور ہے
  • کتاب فیما یحتاج الیہ الصناع من اعمال الہندسہ
  • کتاب اقامہ البراہین علی الدائر من الفلک من قوس النہار
  • کتاب تفسیر کتاب الخوارزمی فی الجبر والمقابلہ
  • کتاب المدخل الی الارتماطیقی
  • کتاب معرفہ الدائر من الفلک
  • کتاب الکامل
  • کتاب استخراج الاوتار
  • کتاب المجسطی

بوزجانی عرب اور مسلمانوں کے سب سے مایہ ناز سائنسدان تھے جن کے تجربات اور تصانیف کا سائنس کی ترقی میں بڑا اہم کردار ہے، خاص طور سے فلک، مثلثات اور اصولِ تصویر سازی میں، انہوں نے بڑے ہندسی اور جبری کلیے وضع کرکے تحلیلی ہندسہ کی دریافت کی راہ ہموار کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مذکور : A Short History of Astronomy — مصنف: Arthur Berry — عنوان : A Short History of Astronomy — ناشر: John Murray — تاریخ اشاعت: 1898
  2. Jacques Sesiano, "Islamic mathematics", p. 157, in Selin، Helaine؛ D'Ambrosio، Ubiratan, ویکی نویس (2000)، Mathematics Across Cultures: The History of Non-western Mathematics، Springer، آئی ایس بی این 1-4020-0260-2