ابو بردہ بن ابی موسیٰ اشعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو بردہ بن ابی موسیٰ اشعری
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


ابو بردہؒ بن ابی موسیؓ اشعری جلیل القدر تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

عامر نام،ابوبردہ کنیت،کنیت سے زیادہ مشہور ہیں،مشہور صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے صاحبزادے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، عامر بن عبداللہ بن موسیٰ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن جماہر اشعری۔

تعلیم[ترمیم]

ان کے والد حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بڑے پایہ کے صحابی تھے،انہوں نے ان کو حصول تعلیم کے لیے مشہور صحابی عبداللہ بن سلام کے پاس جو مدینہ میں اہل کتاب کے بہت بڑے عالم تھے،بھیج دیا تھا، اس واقعہ کو ابوبردہ خود بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ کو تحصیل علم کے لیے عبداللہ بن سلام کے پاس بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا بھتیجے تم لوگ ایک تجارتی مقام پر رہتے ہو،اس لیے اس کا لحاظ رکھنا کہ جب کسی پر تمہارا کچھ مال واجب ہو تو وہ اگر تم کو گھاس کا ایک گٹھا بھی دے تو اس کو قبول نہ کرنا کہ وہ ربا ہوگا۔ [1]

ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب میں مدینہ گیا اورعبداللہ بن سلام سے ملا تو انہوں نے کہا چلو جس گھر میں رسول اللہ ﷺ نے داخل ہوکر نماز پڑھی ہے تم بھی اس میں چل کر نماز پڑھو، تم کو کھجور اورستو کھلاؤں گا،پھر فرمایا،بھتیجے تم ایسے مقام پر رہتے ہو جہاں سود عام ہے تم میں ایسے لوگ ہیں کہ جب وہ کسی کو قرض دیتے ہیں اوراس کی مدت پوری ہوجاتی ہے تو مقروض خوردونوش کے سامان کی ایک گھٹری اورچارہ کا ایک گٹھا اپنے ساتھ لاتا ہے یہ ربا ہے۔ [2]

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اورعبداللہ بن سلامؓ کی تعلیم وتربیت اوردوسرے بزرگوں کے فیض صحبت نے ابوبردہ کا دامن علم نہایت وسیع کردیا تھا، حافظ ذہبی لکھتے ہیں، ابو بردہ بن ابی موسیٰ الاشعری الفقیہ احد الائمۃ الاثبات [3]امام نووی لکھتے ہیں ان کی توثیق وجلالت پر سب کا اتفاق ہے۔ [4]

حدیث[ترمیم]

حدیث کے وہ ممتاز حفاظ تھے،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں "کان ثقۃ کثیر الحدیث" اس فن میں انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت علیؓ ،حذیفہؓ بن یمان،عبداللہ بن سلام اعزالمزنی مغیرہ،عبداللہ بن عمر،عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ،اسود بن یزید الخنعی اورعروہ بن زبیرؓ وغیرہ سے استفادہ کیا تھا۔ [5]

تلامذہ[ترمیم]

ان سے روایت کرنے والوں میں ان کے لڑکے سعید اوربلال،پوتے یزید اورعام لوگوں میں امام شعبی،ثابت البنانی ،حمید بن بلال،عبدالملک بن نمیر قتادہ ،ابو اسحٰق سبیعی وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [6]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی وہ امتیازی پایہ رکھتےتھے ،حافظ ذہبی ان کو فقیہ اورامام لکھتے ہیں۔ [7]

عہدہ قضاء[ترمیم]

اس تفقہ کی بنا پر وہ قاضی شریح کے بعد کوفہ کی مسندِ قضاء پر بیٹھے تھے۔[8]ان کے بعد ان کے لڑکے بلال ان کے جانشین ہوئے۔ [9]

فضائل اخلاق[ترمیم]

فضائل اخلاق کا مجسم پیکر تھے،ان کی ذات میں تمام اخلاقی محاسن جمع تھے،یزید بن مہلت جس زمانہ میں خراسان کا والی ہوا اس وقت اس کو ایک جامع اوصاف شخص کی ضرورت ہوئی، اس نے لوگوں سے کہا مجھے کوئی ایسا آدمی بتاؤ جو خصائلِ حسنہ میں پورا ہو۔ لوگوں نے ابوبردہ کا نام لیا،یزید انہیں بلاکر ان سے ملا تجربہ سے انہیں بہترین شخص پایا،ان کی باتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا،انہیں پرکھنے کے بعد ان سے کہا میں تم کو فلاں فلاں عہدہ پر مامور کرتا ہوں، انہوں نے اس کے قبول کرنے سے معذرت چاہی، یزید نہ مانا،اس وقت انہوں نے معذرت میں یہ مذہبی دلیل پیش کی کہ میرے والد نے مجھے سے بیان کیا تھا کہ رسو ل اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ جس شخص نے کوئی ایسا عہدہ قبول کرلیا جس کے متعلق وہ خود جانتا ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں ہے تو اس کو چاہئے کہ دوزخ کو اپنا مستقر بنانے کے لیے تیار رہے۔ [10]

وفات[ترمیم]

۱۰۴ھ میں وفات پائی۔ [11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد:۵/۱۸۷)
  2. (ابن سعدایضاً)
  3. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۸۳)
  4. (تہذیب الاسماء،ج اول،ق۲ ، ص۱۷۹)
  5. (تہذیب التہذیب:۱۲/۱۸)
  6. (تہذیب التہذیب ایضاً)
  7. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۸۳)
  8. (شذرات الذہب :۱/۱۲۶)
  9. (ابن سعد:۵/۱۸۷)
  10. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۸۳)
  11. (ابن سعد :۵/۱۸۷)