ابو بکر ابن العربی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

محی الدین ابن عربی سے مغالطہ نہ کھائیں۔

ابو بکر ابن العربی
ابو بکر ابن العربی
وفات 543ھ 1148ع
دور عہد وسطی
شعبۂ زندگی اندلسی عالم
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہ مالکی
مکتب فکر اشعری[1]

ابو بکر ابن العربی (مکمل نام:محمد بن عبد اللہ بن محمد المعافری[2]) جو قاضی ابو بکر بن العربی الاشبیلی المالکی کے نام سے مشہور ہیں، ایک اندلسی عالم اور مرجع خلائق تھے۔

ابن العربی سنہ 468 ھ میں اشبیلیہ میں پیدا ہوئے، اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ قراءات قرآن کی تعلیم ابو عبد الله بن منظور اور ابو محمد بن خزرج سے حاصل کی، اور سنہ 485 ھ میں اپنے والد کے ساتھ اندلس سے ہجرت کی۔ شام میں نصر المقدسی اور ابو الفضل بن الفرات کے پاس، بغداد میں ابو طلحہ النعالی،اور مصر میں الخلعی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ فقہ کی تعلیم غزالی، ابو بکر الشاشی اور طرطوشی سے حاصل کی۔[3] نیز المہدیہ میں المازری سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔ [4]

تصانیف[ترمیم]

  • قانون التأويل
  • أحكام القرآن
  • أنوار الفجر
  • الناسخ والمنسوخ
  • القبس في شرح موطأ الإمام مالك
  • العواصم من القواصم
  • عارضة الأحوذي في شرح الترمذي
  • المسالك على موطأ مالك
  • الإنصاف في مسائل الخلاف
  • أعيان الأعيان
  • المحصول في أصول الفقه
  • كتاب المتكلمين
  • أحكام القرآن الصغرى وهو مختصر من كتابه أحكام القرآن الكبرى _ دار الكتب العلمية ببيروت _ 1427 هـ_ تحقيق أحمد المزيدي .

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Adang, Fierro & Schmidtke (2012)، p. 383
  2. ابن العربي المعافري مجالس
  3. شذرات الذهب في أخبار من ذهب، تأليف: ابن العماد، ج4، ص141.
  4. https://ia601000.us.archive.org/27/items/immaimma/imma.pdf