ابو بکر ابن سید الناس
| ابو بکر ابن سید الناس | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1200ء اشبیلیہ |
| تاریخ وفات | سنہ 1261ء (60–61 سال) |
| عملی زندگی | |
| درستی - ترمیم | |
محمد بن احمد بن عبد اللہ بن محمد بن یہیا بن محمد بن سید النص الیامری، جو ابو بکر ابن سید الناس کے نام سے مشہور ہیں، قرون وسطی کے ایک مسلمان عالم دین تھے۔ وہ فتح الدین ابن سید الناس کے دادا تھے مگر وہ اپنے پوتے سے ملنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے۔[1]
زندگی
[ترمیم]یماری ایک عرب قبیلہ تھا جو جیان[2] کے علاقے میں ابیڈا میں آباد ہوا حالانکہ ابن سید الناس خود 1200 عیسوی میں اشبیلیہ میں پیدا ہوا تھا۔[3] ۔ اسپین میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے یہ خاندان بالآخر تیونس میں آباد ہو گیا جہاں ابن سید الناس کا ایک بیٹا ہوا۔ اس کا پوتا جو ایک مسلمان عالم دین بھی تھا اور جسے ابن سید الناس بھی کہا جاتا تھا، مصر میں بزرگ ابن سید الناس کی موت کے کئی سال بعد پیدا ہوا۔ ابن سید الناس نے کم عمری سے ہی مذہب کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے اپنی ابتدائی نوعمری میں ابو العباس النباتی جیسے عالم دین کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا جن سے انھوں نے تیس سال سے زیادہ عرصے تک ظاہریت مسلم فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 24 جون 1261ء کو تیونس میں ان کا انتقال ہوا۔ [3][4]
کام
[ترمیم]ابو بکر ابن سید الناس نے شمالی افریقہ منتقل ہونے اور طنجہ اور بعد میں بجایہ میں مساجد کے امام کے طور پر عہدوں کو قبول کرنے سے پہلے آزنل کازار میں ایک مختصر وقت گزارا۔ جب اس کی شہرت افریقہ میں پھیل گئی تو بنو حفصخلیفہ محمد اول المستنصرنے اسے تیونس کی دعوت دی جہاں وہ اپنی وفات تک دربار کے پسندیدہ عالم رہے۔ ابن سید الناس کا تعلیم دینے کے لیے متعدد اجازتوں کے حوالے سے کافی حد تک تنازع تھا۔ان کے استاد النباتی کے اساتذہ سے کچھ تحریری اجازتیں ابوبکر ابن سید الناس کے لیے تھیں جن سے ابن سید الناس ذاتی طور پر نہیں ملے اور نہ ان سے تعلیم حاصل کی۔ ابن سید الناس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے دس ہزار سے زیادہ روایات حفظ کیں ، یہ صرف روایت کے الفاظ کا حفظ کرنا نہ تھا بلکہ پیغمبر اسلام کی احادیث مع ان کی سند ـــ(علم حدیث) کے ساتھ انھیں یاد تھیں۔ ان کے شاگرد اکثر ان کی یادداشت سے یہ سب درست طریقے سے دہرانے کی صلاحیت سے حیران رہ جاتے تھے۔ [5]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Alexander D. Knysh, Ibn 'Arabi in the Later Islamic Tradition: The Making of a Polemical Image in Medieval Islam, pg. 67. Albany: State University of New York Press, 1999. ISBN 9780791439678
- ↑ Ibn Hazm, Jamharat ansab al-arab, pg. 293. Ed. Abd al-Salam Muhammad Harun. Cairo: 1982.
- 1 2 Franz Rosenthal, Ibn Sayyid al-Nās آرکائیو شدہ 2013-11-03 بذریعہ وے بیک مشین. Encyclopaedia of Islam, 2nd ed. Ed. P. Bearman, Th. Bianquis, C.E. Bosworth, E. van Donzel and W.P. Heinrichs. Brill Online. Accessed 30 October 2013.
- ↑ Scott C. Lucas, Constructive Critics, Ḥadīth Literature, and the Articulation of Sunnī Islam: The Legacy of the Generation of Ibn Saʻd, Ibn Maʻīn, and Ibn Ḥanbal, pg. 110. Volume 51 of Islamic History and Civilization. لائیڈن: Brill Publishers, 2004. ISBN 9789004133198
- ↑ Adang, pg. 468.