ابو بکر اثرم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو بکر اثرم
(عربی میں: أبو بكر الأثرم خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 875  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
استاذ احمد بن حنبل،  ابن ابی شیبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص احمد بن شعیب النسائی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فقیہ،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو بکر احمد بن محمد بن ہانی اسکافی اثرم طائی کہا جاتا ہے قبیلہ کلب کی نسبت سے کلبی تھے۔ بڑے عالم، امام، حافظ الحدیث تھے، سنن کتاب کے مصنف اور احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ عباسی دور میں ہارون الرشید کے عہد ملوکیت میں پیدا ہوئے۔[1]

اساتذہ[ترمیم]

عبد اللہ بن بکر سہمی، ہوذہ بن خلیفہ، احمد بن اسحاق حضرمی، ابو نعیم، عفان، قعنبی، ابو الولید طیالسی، عبد اللہ بن صالح کاتب لیثی، عبد اللہ بن رجاء غدانی، حرمی بن حفص، مسدد بن مسرہد، موسیٰ بن اسماعیل، عمرو بن عون، قالون عیسیٰ، عبد الحمید بن موسیٰ مصیصی، مسلم بن ابراہیم، احمد بن حنبل، ابو جعفر نفیلی، ابن ابی شیبہ اور دوسرے کبار علما و محدثین سے علم حاصل کیا۔

تلامذہ[ترمیم]

  • نسائی
  • موسیٰ بن ہارون
  • یحییٰ بن صاعد
  • علی بن ابی طاہر قزوینی
  • عمر بن محمد جوہری
  • احمد بن محمد بن شاکر زنجانی اور دوسرے علما نے ان سے علم حاصل کیا۔

علما کی آرا اور اوصاف[ترمیم]

ابو بکر خلال کہتے ہیں: «اثرم جلیل القدر حافظ الحدیث تھے، عاصم بن علی جب بغداد تشریف لے گئے تو وہاں اپنے لیے سب سے زیادہ مفید شخص کو تلاش کیا، چنانچہ ابو بکر اثرم کے علاوہ کسی کو نہیں پایا اور پہلی ہی نظر میں ابو بکر اثرم اپنی کمسنی کے باوجود انھیں بھا گئے، ابو بکر اثرم نے ان سے کہا اپنی کتابیں نکالو، پھر کہنے لگے یہ یہ حدہث صحیح ہے اور یہ یہ غلط ہے، عاصم بن علی بہت خوش ہوئے اور تقریباً پچاس مجلسوں میں املا کیا۔»

پہلے صرف احادیث یاد کرتے تھے، جب امام احمد بن حنبل سے ملاقات کی تو امام صاحب کے مسلک میں داخل ہو گئے۔ ابو بکر مزدوی کہتے ہیں کہ: ابو بکر اثرم نے فرمایا: ”پہلے میں فقہ اور اختلافات یاد کیا کرتا تھا، جب امام احمد سے ملاقات ہوئی تو یہ سب ترک کر دیا۔“

ابو بکر بن صدقہ کہتے ہیں کہ: ابراہیم اصفہانی یعنی ابن اورمہ نے فرمایا: ”ابو بکر اثرم، ابو زرعہ رازی سے بڑے حافظ الحدیث اور ثقہ ہیں۔“[2]

وفات[ترمیم]

وفات کی قطعی تاریخ معلوم نہیں ہے۔ مصنف "تذکرہ" میں لکھتے ہیں کہ: ”میرا خیال ہے کہ 260 کے بعد ہی وفات پائی۔“ حافظ ابن حجر "تہذیب" میں لکھتے ہیں کہ: ”سنہ 261 میں وفات پائی۔“[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "سير أعلام النبلاء» الطبقة الرابعة عشر» الأثرم"۔ library.islamweb.net۔
  2. ^ ا ب "أبو بكر الأثرم • الموقع الرسمي للمكتبة الشاملة"۔ shamela.ws۔